جاگو پاکستانیوں جاگو
تحریر: کنول زہرا
سابق وزیر اعظم عمران خان کی امریکی سائفر کے حوالے سے آڈیو لیک کا پارٹ ٹو بھی وائرل ہو گیا ہے, جس سے ان کے بیانیہ کی رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی ہے, آڈیو لیک کا پارٹ ٹو میں عمران خان اور اعظم خان کے ساتھ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر بھی سامنے آ گئے ہیں یہ آڈیو 28ستمبر کی آڈیو کے تسلسل میں ہے پہلی آڈیو میں عمران خان نے ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے سائفر پر بس صرف کھیلنا ہے, امریکا کا نام نہیں ہے, اب نئی آڈیو میں بھی انہوں نے پر زور انداز میں تاکید کی کہ ہم نے کسی صورت میں امریکیوں کا نام نہیں لینا, ایک جانب عمران خان امریکہ کو للکارتے ہیں, دوسری جانب نام لینے سے گھبراتے نظر آتے ہیں جبکہ ان کا اپنا ہی کہنا ہے کہ گھبرا نہیں ہے, چیئرمین تحریک انصاف کے اس طرز عمل سے ان کی صادق اور امین والی ساکھ کسی حد تک متاثر ضرور ہوئی ہے, موجودہ حالات کے تناظر سے یوں لگتا ہے جیسے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کیلئے اب مشکل وقت شروع ہونیوالا ہے,حکومت ان کیخلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت کاروائی کرئے گی جو عمران خان کیلئے نیا چیلنج ہوگا, آڈیو لیکس نے سائفر سازش کے پیچھے پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا ہے, عمران خان کی اس طے شدہ اسکیم کی وجہ سے پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات کو نقصان پہنچا ہے, انہوں نے محض سیاسی فائدے کی خاطر سائفر سے نہیں بلکہ پاکستان سے کھیلا ہے, عمران خان نے سیاسی انا کی جنگ میں ملک و قوم کا نقصان ہوا ہے, آڈیو لیک سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کے عمران خان ذاتی اور سیاسی مفاد کی خاطر ملک اور قوم کو داؤ پر لگانے کو تیار ہیں۔ ان کے اسی رویہ کی وجہ سے ملائشیا، سعودی عرب اور چائنہ جیسے ملک بھی پاکستان سے دور ہوئے تھے۔جس کی وجہ سے پاکستان کو معاشی اور سماجی حوالوں سے تنہائی کا سامنا کرنا پڑا، قابل افسوس بات تو یہ بھی ہے کہ عمران خان کو جب اپنی حکومت جاتی نظر آئی تو انہوں نے اس قسم کے معاشی فیصلے کیے جس کا نقصان قومی خزانے کو ہوا بعد ازاں عوام کو بھگتنا پڑا, پھر عمران خان جاتے جاتے امریکہ پر جھوٹی سازش کا الزام لگا کر ملک کی سالمیت کو بھی داؤ پر لگا گئے اور جھوٹ کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتے رہے, انہوں نے اپنے اقتدار کو بچانے اور پھر دوبارہ حکومت میں آنے کے لئے ملک کے اداروں پر دباو ڈالا, عوام اور اداروں کے درمیان دوریوں کو بیج بولنے کی فضول حرکت کی, عمران خان کا انتہائی عمل اور غلط فیصلے ملک کی ساکھ کے لئے منفی ثابت ہوئے ہیں, سوال یہ ہے کہ ان کے غلط فیصلوں کا ازالہ کون کرے گا۔ کیا پاکستان کو پہچنے والے ناقابل تلافی نقصانات پر عمران خان قوم سے معافی مانگیں گے?
میرے خیال میں عوام کے لئے کیا درست کیا غلط کا تعین کرنا اب مشکل نہیں رہا, بس جاگنے کی ضرورت ہے