تعلیم کے فروغ کے لئے کوشاں ”میر اعجاز خان سنجرانی
تحریر:زکریا ناروئی
قارئین!تعلیم ہی ہے جوکہ ہمیں اچھے اور برے کام میں فرق کو پرکھنے پر مجبور کردیتی ہے اور ہم سب کو معلوم ہے کہ تعلیم سے ہی قومیں بنتی ہے اور ترقی کے بام عروج پر پہنچتی ہے ۔جن قوموں نے تعلیم کو اپنا شعار بنایا وہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں کہلائی جانے لگیں۔اور جن قوموں نے تعلیم پر توجہ نہ دیں وہ زوال کا شکار ہوکر دنیا میں عبرت کا نشان بنی رہ گئیں۔
ایک مشہور مقولہ ہے کہ آپ مجھے ایک تعلیم یافتہ ماں دیں میں آپ کو ایک تعلیم یافتہ قوم دوںگا،اگر ہم اس مقولے کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہے ”کہ آپ مجھے ایک انسانیت دوست،دردمند،فکرمند اور تعلیم دوست لیڈر دے تو میں آپ کو ایک تعلیم یافتہ معاشرہ دوں گا“ تو بھی بے جا نہ ہوگا۔کیونکہ تعلیم دوست لیڈر اپنے آنے والی نسل کے تعلیم یافتہ ہونے کا سوچتا ہے تاکہ اس کی آنے والی نسل کا مستقبل سنور سکیں ۔تو اس کا فیصلہ و انحصار ہم عوام پر ہے کہ ہمیں اگلے الیکشن کا سوچ رکھنے والے نمائندے کی ضرورت ہے یا ہماری آنے والی نسل کا سوچ رکھنے والے لیڈر کی ضرورت ہے۔
قارئین!بلوچستان عوامی پارٹی رخشان ڈویژن کے ڈویژنل آرگنائزر و سابق معاون خصوصی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر اعجاز خان سنجرانی کے سرانجام دیئے گئے خدمات سے اہل چاغی و رخشان ڈویژن واقف ہے کہ انہوں نے محض چند سالوں میں بلا رنگ و نسل عوا کی خدمت کرکے معاشرے میں اپنا ایک منفرد مقام بنایاہے اور ان کی انہی خدمات سے عوام ان کے گرویدہ ہوگئے ہیں۔عوام کو ان کے دہلیز پہ سہولیات کی فراہمی تو ان کی اولین ترجیحات میں شامل رہی ہے
مگر ساتھ ساتھ صحت سمیت دیگر شعبوں کے علاوہ تعلیم کے فروغ میں ان کی کاوشوں و اقدامات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ان کی ان تھک کاوشوں سے تعلیمی میدان میں اقدامات لائق تحسین ہے۔کالجز سمیت سکولوں کے مسائل کے حل میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہوئے موصوف نے مختلف کالجز سمیت سکولوں میں کمپیوٹر لیب ذاتی کاوشوں سے قائم کی جوکہ طلباءو طالبات کو ترقی یافتہ جدید دور کے نئے علوم سے آشنائی میں ممدو معاون ثابت ہوں گی۔
حال ہی میں میر اعجاز خان سنجرانی کی کاوشوں سے چاغی کے مختلف علاقوں کے لئے نئے سکولوں کی منظوری سے عوامی و سماجی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڈ گئی،ضلع چاغی کے مختلف علاقوں کے لئے چھ نئے سکولوں کی منظوری لینے پر عوامی سماجی حلقوں نے اس اقدام کو خوب سراہا اور خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ چھ نئے سکولوں کی منظوری شہر، دیہات سمیت مختلف علاقوں میں تعلیم کے فروغ میں ممد ومعاون ثابت ہوں گی جوکہ باعث مسرت ہے۔
- Advertisement -
جبکہ مختلف سکولوں میں طلباءو طالبات کو باتھ رومز، اضافی تعداد اور کمروں وچاردیواری کی عدم تعمیر سے و موسم گرما وسرما میںمتعلقہ سکولوں کے طلباءسمیت اساتزہ کو کئی مشکلات درپیش تھیں،درپیش مشکلات و مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے میر اعجاز خان سنجرانی نے مختلف سکولوں کے لئے باتھ رومز، اضافی کمروں وچاردیواری بھی منظور کرالئے جوکہ خوش آئند ہے ۔جن کی تعمیر سے اساتزہ و طلباءطالبات کو مسائل و مشکلات سے چھٹکارہ ملے گا۔
منظور ہونے والے سکولوں میں(گرلز پرائمری سکول کلی حاجی محمد ساسولی،بوائز پرائمری سکول کلی محمد اکبربراوک چارسر،گرلز ہائی سکول تفتان،گرلز پرائمری سکول تفتان،بوائز پرائمری سکول کلی ملک نور اللہ محمد حسنی پتکوک آمری،بوائز پرائمری سکول کلی وادیان نوکنڈی )شامل ہیں۔ جبکہ جن سکولوں کے لئے نئے اضافی کمرے و چاردیواری منظور ہوئے ہیں ان کے نام کچھ یوں ہیں۔
(گورنمنٹ بوائز ہائی سکول تفتان کے لئے چار کلاس رومز،گورنمنٹ ہائی سکول کلی پیر محمد چاغی کے لئے کلاس رومز و چاردیواری،گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول امین آباد کے لئے تین کمرے اور چاردیواری،گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول کلی مینگل آباد نوکنڈی کے لئے تین کمرے اور چاردیواری )منظور کرالئے گئے ہیں۔
عوامی و سماجی حلقوں نے بلوچستان عوامی پارٹی رخشان ڈویژن کے ڈویژنل آرگنائزر و سابق معاون خصوصی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر اعجاز خان سنجرانی کی انتھک کاوشوں سے نئے سکولوں اور اضافی کمروں،باتھ رومز و چاردیواری کی منظوری لینے پر وزریر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو وصوبائی کابینہ کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ تعلیم کے بغیر نہیں کیا جاسکتا،تعلیم کے میدان میں ترقی ہی ایک ترقی یافتہ قوم کے ضامن ہے۔
عوامی وسماجی حلقوں نے تعلیم کے فروغ کے لئے کئے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے مزید اس امید کا اظہار کیا کہ میر اعجاز خان سنجرانی وزیر اعلیٰ بوچستان اور صوبائی کابینہ سے دیگرنئے سکولوں ،پہلے سے ہی تعمیر شدہ سکولوں میںاضافی کمروںاور چاردیواری کی تعمیر کےلئے اپنی کاوشیں جاری رکھتے ہوئے تعلیم کے فروغ کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔