الیکشن کمیشن کے ذریعے مائنس ون فارمولہ آگے بڑھانے کی کوشش نہیں ہو گی
اسلام آباد(مسائل نیوز) سابق وزیر خارجہ اور وائس چیئرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کا بنیادی کام صاف شفاف انتخابات کرانا ہے۔اس ادارے کے تحت مائنس ون فارمولہ آگے بڑھانے کی کوشش نہیں ہو گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اپنی ساکھ اور ذمہ داری کی پاسداری کرنا چاہیے،جولائی کو پنجاب کے انتخابات میں 20 میں سے 15 سیٹیں پی ٹی آئی نے جیتیں،16 اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی 8 سیٹیں جیتیں۔
انکا کہنا تھا کہ سیاسی میدان میں مقابلہ نہیں کرسکتے تو سیاست سے دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کریں،کسی اور جماعت کی جانب سے تفصیلات جمع نہیں کرائی گئیں۔
عمران خان نے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ سے متعلق ہر فورم پر بات کی،سینیٹ میں ہارس ٹریڈنگ کی فوٹیج دکھائی گئی۔
- Advertisement -
قوم نے دیکھا صرف تحریک انصاف نے ریکارڈ پیش کیا۔ممنوعہ فنڈنگ کیس پر بھی پوری بحث ہوئی جبکہ تحریک انصاف کے سینیٹر اور قانون دان علی ظفر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کسی کو نا اہل نہیں کر سکتا،الیکشن کمیشن عدالت نہیں اس لئے وہ نا اہل کی ڈکلیئریشن بھی نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت اگر کوئی ممبر صادق و امین نہیں رہتا تو عدالت نااہل کرسکتی ہے الیکشن کمیشن یا کوئی اور ادارہ اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔
عمران خان کے خلاف دائر ریفرنس میں الزام لگایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے توشہ خانہ سے تحائف لئے اور ڈکلیئر نہیں کئے۔دوسرا الزام لگایا کہ تحائف کے بدلے پیسے دینے ہوتے ہیں وہ بھی نہیں دئیے۔کہا گیا کہ عمران خان صادق اور امین نہیں رہے تاحیات نا اہل قرار دیا جائے۔ انکا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے معاملہ عمران خان کو بلائے بغیر الیکشن کمیشن کو بھیج دیا گیا۔