سلو پوائزننگ بذریعہ دودھ
محمد شہزاد بھٹی
- Advertisement -
کیا یہ ملک پاکستان اس لئے بنایا گیا تھا کہ یہاں دنیا بھر کے دو نمبر دھندے کیے جائیں گے قانون اور ادارے صرف دکھلاوے کے لئے ہوں گے، میں اور آپ جو کچھ بھی کر رہے ہیں اگر ہم دیانتداری سے اس کا جائزہ لیں اور سوچیں کیا ہم دو نمبری تو نہیں کر رہے، کہیں ہم ایک دوسرے کو دھوکہ تو نہیں دے رہے تو جواب ہمیں ملے گا کہیں نہ کہیں ضرور، ایک عام مزدور یا سرکاری چپڑاسی سے لے کر افسر شاہی تک الغرض تمام کاروبار کرنے والے کہیں نہ کہیں دو نمبری کر رہے ہیں، آج ہم بات کریں گے دودھ جیسی عظیم نعمت خدا کے بارے میں، دودھ جیسی چیز جسے ہمارے بچے پی کر ہم سمجھتے ہیں کہ ایک توانا معاشرے کی تشکیل کریں گے وہ بھی خالص نہیں بچا حالانکہ دودھ جیسی نعمت کو ہم خدا کے نور سے تشبیہ دیتے ہیں مگر جو حشر ہم نے اس کا کیا ہوا ہے وہ خدا کی پناہ۔ کون سا کیمیکل ہے جو اس کی فیٹ بڑھانے کے لئے استعمال نہیں کیا جا رہا اور تو اور اب پانی کو دودھ میں تبدیل کرنے والا کیمیکل بھی مارکیٹ میں موجود ہے۔ گوالے کریم نکلوانے کے بعد گھروں، دکانوں تک اپنے اپنے فارمولے لگا کر لے کر آتے ہیں تاکہ دودھ کو ابالنے پر اس پر بلائی آ سکے۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو دودھ کے نام پر سلو پوائزننگ کروا رہے ہیں۔ برسرِ اقتدار آنے والی ہر حکومت پاکستان کو ایک زرعی ملک ڈکلیئر تو کرتی ہے مگر اس کے وسیع و عریض زرعی رقبے کے لیے منصوبہ بندی کا ہمیشہ سے فقدان رہا ہے، زرعی پیداوار کو جدید طریقوں سے بڑھا کر ہم ملکی آمدن میں اضافہ اور بیرونی قرضہ جات میں خاطرخواہ کمی کر سکتے ہیں کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ڈیری فارمنگ کا تعلق بھی بنیادی طور پر زراعت سے ہے۔ کسانوں کو چھوٹے اور بڑے پیمانہ پر فارمنگ کے لئے جدید معلومات اور مکمل ٹریننگ فراہم کرنے کے بعد ڈیری فارمنگ کے لیے قرضہ جات فراہم کئے جانے چاہیں تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ عوام کو خالص دودھ کی پیداوار کو بڑھا کر اس کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے۔ دو نمبر طریقے سے تیار شدہ دودھ اور غیر معیاری دودھ کے خاتمے کے لیے چند تجاویز عرض کرتا چلوں، سب سے پہلے، بڑے گاؤں اور دیہات کی سطح پر ویٹنری ڈسپنسریاں بنائی جائیں، پنجاب فوڈ اتھارٹی کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے، تمام چھوٹے بڑے شہروں کے داخلی راستوں کے باہر بڑے بڑے ڈیری فارم بنائے جائیں جو حکومت کے زیر انتظام ہوں اور وہیں پر دودھ کو اسٹور کر کے فروخت کیا جائے اور دوکاندار حضرات بھی انہیں ڈیری فارموں سے دودھ خریدیں اور روزانہ کی بنیاد پر دکانداروں کے دودھ کی چیکنگ کی جانی چاہیے، دو نمبر دودھ بیچنے والوں کو بھاری جرمانے کیے جائیں تاکہ کوئی بھی شخص دودھ میں ملاوٹ کے بارے میں کبھی نا سوچے۔ ان جگہوں پر دودھ کی سٹوریج جدید طرز کی ہو اور جو لوگ کریم کے کاروبار سے منسلک ہیں وہ دودھ خرید کر کریم نکلوانے کے بعد اسے کم ریٹ پر فروخت کرنے کے پابند ہوں، اس کریم نکالے گئے دودھ میں فیٹ کو بڑھانے کے لئے گوالے آج کل جو چیزیں مکس کرتے ہیں اس کو روکنے کے لیے وہاں پر بھی پنجاب فوڈ اتھارٹی کا عملہ تعینات ہو کیونکہ سارا دو نمبر دودھ کریم نکالنے والی جگہوں پر ہی تیار ہوتا ہے ان اقدامات کو اٹھانے سے نہ صرف عوام تک خالص دودھ پہنچے گا اور مزید یہ کہ حکومت کھل اور ونڈا بنانے والی فیکٹریوں کو چیک کرنے کے لئے بھی ماہرین کی ٹیمیں تشکیل دے جو غیر معیاری اور جانوروں کو بیمار کرنے والے ونڈے کی روک تھام ممکن ہو سکے۔حکومت کی تھوڑی سی توجہ نہ صرف وطن عزیز کو دودھ کی پیداوار میں خود کفیل کر سکتی ہے بلکہ دودھ کو ایکسپورٹ کر کے بہت سا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے، خدا ملک پاکستان کی خیر کرے۔ آمین