MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

غلطی کی معافی Absolutely not

0 292

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
شہباز گل سے غلطی ہوگی اسے معاف کردینا چاہئے,تو پھر مریم نواز, ایاز صادق, خواجہ آصف نے بھی غلطی کی تھی ان کی مثال کیوں دی جاتی ہے جبکہ پی ٹی آئی تو غلط کام کرتی نہیں ہے, پھر کیسے ان سے غلطی ہوگی? شہباز گل کے خلاف کاروائی وفاقی حکومت نے کروائی ہے, کیا پنجاب حکومت جو کہ تحریک انصاف کی ہے وہ مریم نواز کے بیانات جنہیں پی ٹی آئی بار بار نشر کر رہی ان کے خلاف کاروائی نہیں کرسکتی ہے? دراصل مسئلہ ملک میں سیاسی خلفشار پیدا کرنا ہے, اداروں اور عوام کو آمنے سامنے لاکر ملک کو خانہ جنگی کی جانب لیکر جانا ہے, بات چیت کے عمل سے معاملات کو حل کیا جاسکتا ہے مگر عمران خان بات چیت کو تیار نہیں ہیں, نہ جانے کیوں عمران خان اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں,حیران کن بات یہ ہے کہ ملک معاشی طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، بے روز گاری اپنے عروج پر ہے اور سیاسی جماعتیں اقتدار کے حصول کی جنگ میں مصروف ہیں، انہیں عوام کی کوئی فکر نہیں، سابق وزیر اعظم عمران خان اقتدار سے محرومی کے بعد مسلسل اداروں کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا ہے, اگر انہیں اتنا ہی پاکستان کا درد ہے تو کیوں نہیں سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے کے لئے کو حکمت عملی مرتب کرتے ہیں مگر نہیں وہ تو بس خودی کے نشے سے چور بھیانک سطح کے خود پسند اور خود غرض انسان بنکر سامنے آرہے ہیں, سینئر صحافی جاوید چوہدری کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے جنرل فیض کی کور کمانڈر کے طور پر تقریری کو لیکر کہا کہ آپ ائی ایس ائی چیف کو نہ بدلیں تو آرمی چیف نے کہا انہیں اگلہ آرمی چیف بھی تعینات کیا جاسکتا ہے, ان کے لئے کور کی کمان ضروری ہے تو بہت دانشور عمران خان نے کہا کہ آئی ایس ائی کو ہی کور ڈی کلئیر کردیں,  یعنی جیسی تباہی سویلیں اداروں کی ہوئی ہیں آرمی کو بھی برباد کردیں کوئی مسئلہ نہیں بس عمران خان کا اقتدار بچا رہے, یعنی نوازشریف ہی نہیں عمران خان بھی فوج کو پنجاب پولیس بنانے کے مشتاق تھے, عمران خان نے جنرل فیض کو اپنی حماقٹوں کے باعث خبروں کی زد میں رکھا, جس سے پاکستان آرمی کا وقار مجروح ہوا, پڑھنے والوں کو یاد ہوگا کہ امن کی قیام کی جنگ کو عمران خان ہزاروں انسانی جانوں کا نقصان کہتے ہیں جبکہ جنرل فیض نے وزیرستان میں چودہ اگست کی تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ امن کے قیام کے لئے ہم اپنی شہادتوں کو اپنا نقصان نہیں کہتے ہیں,
سیاست دانوں کی نااہلی کی ذمہ داری فوجی قیادت پر عائد نہیں کی جاسکتی ہے ۔ پاک فوج نے سیاست میں عدم مداخلت اور ریاست کے آئینی اداروں کی پاسداری کی جو شاندار روایت قائم کی ہے وہ جاری رہنی چاہئے، ملک کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورت حال کے پیش نظر حکومت اور اپوزیشن کو ڈائیلاگ کی جانب بڑھنا ہوگا۔
پاک فوج ریاست کی سلامتی، آزادی اور شہریوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کا واحد ضامن دفاعی ادارہ ہے۔جو شخص مادرِ وطن سے محبت کرتا ہے وہ فوج پر شدید نوعیت کی تنقید کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا جس سے پاک فوج کمزور ہو اس کے اندر بددلی اور بد اعتمادی پیدا ہونے کا امکان ہو شاید اسی وجہ سے بہت سے صحافیوں کا کہنا ہے کہ شہباز گل سے غلطی ہوگی انہیں معاف کردیں  اگر یوں غلطیوں پر معاف کر دینا چاہیے تو پھر ہر قاتل، چور اور مجرم کو بھی معاف کر دیں، نوازشریف کو سپریم کورٹ نے  مفرور مجرم قرار دیا ہے, انہیں بھی معاف کردیں, شہباز شریف پر بھی مقدمات ختم کردیں, الطاف کو بھی معافی دیدیں, ملک کی ساری جیلیں خالی کردیں, ہر مجرم کو رہا کر دیں کیونکہ ان لوگوں سے بھی تو غلطی ہی ہوئی تھی ناں, اور غلطی ہی شہباز گل سے ہوئی ہے, شہباز گل نے فوج میں بغاوت  پھیلانے کی  کوشش کی ہے, دنیا کی ہر عدالت میں اس کی کڑی سزا ہے! اب جب شہباز گل سے ‘غلطی’ ہو ہی گئی ہے تو اس کا فیصلہ عدالت کو کرنے دیں۔ اپنی بیان بازی کو ملکی سالمیت پر فوقیت دینے کی کوشش نہ کریں
پاکستان اس وقت اندرونی طور پر کسی بھی طرح کی باہمی چپقلش کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس لئے تمام اداروں کو ایک پیج پر آکر ملک کو ہر قسم کے بحران سے نکالنے کے لئے حکمتِ عملی بنانا ہوگی اسی میں ہماری حقیقی آزادی اور ترقی ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.