مستقبل کے روشن معماروں کیلے پانچ اصول
تحریر= فرید بگٹی
- Advertisement -
نوجوانوں کو اصلاحات کا شعور دینا، انہیں علم کتاب اور قلم کی پاسداری کا شعور دینا انہیں ہنر کے زیور سے آراستہ کرنا ان کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں معاشرتی تبدیلیوں اور معاشرتی مسائل سے نبردآزما ہونے کی ترغیب دینا ہماری حکومتوں کا عین منشور ہونا چاہیے کیونکہ یہی منشور قائداعظم کا نوجوانوں سے خطاب کے مانند ہے یہی منشور علامہ اقبال کے خواب کی مانند ہے یہی منشور لیاقت علی خان کی جستجو ہے یہی منشور رسولِ امین ﷺ کا انقلاب ہے
بحثیت سیاسی طالبعلم میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ اس اکیسویں صدی کے تقاضوں پر نوجوانوں کو پورا اترنے کیلے یہ پانچ عوامل اپنانے ہونگے تاکہ اس دہر سمیت دیارِ غیر میں بھی اپنا مقام پیدا کیا جاسکے
پہلا اصول عشق رسول ﷺ۔۔۔۔
جوانی۔کی دہلیز پر قدم۔رکھتے ہی اپنے دلوں کو۔عشق رسول ﷺ سے منور کرلینا ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی تصور کی جاتی ہے عشق رسول ایمان کا بنیادی اکائی ہونے کے ساتھ ساتھ یہ عشق انسان کے سینے میں sympathy اور مخلصی پیدا کرتی ہے یہ عشق عبادات کے طرف اور اللہ کے طرف رجوع کرنے کی سعادت بھی نصیب کرتی ہے انسان کی تشکیل و تعمیر میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے اس لئیے کہ یہ عشق تمہیں صرف حقیقت کے جانب دوڑنے پر مجبور کرتی ہے نوجوانوں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ نجی محفلوں میں رسولِ امیںﷺ کے تزکروں کا خاص احتمام کیا جائے ان کے زندگی کے متعلق سوال و جواب و فکری لمحات کی تلاش اور ان کے سیرت کی جستجو قائم رکھنا خود پر فرض سمجھیں یہ عشق کوئی معمولی نہیں یہ عشق ایمان کا مظبوط ستون ہے اور جب ایمان مظبوط ہوگا تو اللہ پر توکل بھی اتنا ہی مظبوط ہوگا نوجوانوں کو۔سیرتِ رسول ﷺ کا مطالعہ کرنا ہوگا اور اپنی زندگیوں میں جس حد تک ممکن ہو سکے تبدیلیاں کرنی ہونگی رسول امیںﷺ کی طرزِ انداز اپنا کر روزمرہ کے کام انجام دینے ہونگے یہ اشد ضروری ہے کہ آپ کو اپنے پیارے نبیﷺ کے متعلق مکمل معلومات ہوں کہ انہوں نے ریاست مدینہ میں جنگی و معاشی و خارجی پالیسیوں کو کیسے مرتب کیا اور کس طرح اصحابِ کرام کی تربیت کی یہ تمام باتیں آج کے نوجوان کو جاننا انتائی ضروری ہے ۔۔۔
دوسرا اصول کتاب و علم سے دوستی
کتاب کی اہمیت پر جتنی بحث کی جائے شاہد ہم کتاب کے اکک نقطے تک نہ پہنچ سکیں ۔ کتاب کی اہمیت سے انکا رممکن نہیں کہ اللہ نے انسان سے مخاطب ہونے کے لیئے بھی الہامی کتابوں کو اتارا۔ اللہ تعالی نے تمام احکامات ان کتابوں میں دئیے اور اپنے انبیاء کرام کے ذریعے ان کی practical picture بھی دیکھا دی۔ قرآن مجید کے مطالعہ کے بغیر اللہ کے احکاما ت کو درست طریقے سے جاننے اور ان پر عمل کرنا نا ممکن ہے۔
مطالعہ کتاب کو صاحب کتاب سے آدھی ملاقات بھی کہا جاتا ہے۔ گویا کسی بھی شخص کی لکھی ہوئی کتاب پڑھنے کا مطلب ہے کہ ہم نے اس سے بالمشافہ ملاقات کرلی جو کہ حقیقی زندگی میں نا ممکن ہے۔ اس کے تجربات اور خیالات کو جان کر ہم اپنی زندگی کو پہلے سے بہت بہتر بنا سکتے ہیں۔ جو نقصانا ت انہوں نے اٹھائے ہیں ہم ان سے بچ سکتے ہیں۔ ان کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں۔ ان کے افکار reboation سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ان کی مدد سے اپنے خیالات کارخ تبدیل کر سکتے ہیں۔
جدید سائنسی تحقیقات پر مبنی کتب کا مطالعہ بھی ہمیں دور حاضر کی تبدیلوں سے آشنا کرتا ہے۔ اور ان تحقیقات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پوری دنیا میں ہونے والی جدید تحقیقات کے بارے میں جا ن سکتے ہیں
کتاب سے دوستی یعنی علم سے دوستی ہے مسلمانوں کے عروج کا سبب علم سے دوستی تھی یہاں تک گورے بھی علم و حکمت سے متاثر تھے صلیبی جنگیں 637ء میں حضرت عمرؓ کے یروشلم فتح کرنے کے ٹھیک 458سال کے وقفے کے بعد شروع ہوئیں ،لیکن ان 458 سالوں میں جب یورپ اپنے بدترین تاریک دور (Dark Ages)سے گذر رہا تھا،جہاں پسماندگی، غربت، افلاس اور شہری سہولیات کی عدم دستیابی کا یہ عالم تھا کہ مشہور تاریخ دان ول ڈیورانٹ لکھتا ہے کہ صلیبی جنگوں کے بعد ہمیں علم ہوا کہ سڑکیں اور گلیاں پختہ بھی ہوتی ہیں، راتوں کو گلیوں میں چراغ بھی جلتے ہیں، سیوریج کا نظام بھی ہوتا ہے اور گھروں میں پائپوں میں دوڑتا گرم پانی بھی ممکن ہے، اس قدر کسمپرسی اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے یورپ نے اس وقت جب مسلمان کتاب دوستی کی سربلندیوں کو چھو رھے تھے علم حکمت اور معرفت کی انتہا کو پہنچی ہوئ قوم نے جب علم کتاب دوستی سے کنارہ کشی کرلی تو زوال نے اس قدر بےرحمی سے گھیر لیا کہ کل تک وہ اپنی سڑکیں اور گلیاں پکی کرنے کیلے ہمارے محتاج تھے اور آج ہم ان کے ہر طرح کے حکمت اور علم کے محتاج بنے بیٹھے ہیں قوموں نے جب بھی ترقی کی تو کتاب دوستی ہی اپنا کر۔کی ہے
تیسرا اصول وسائل و مسائل کا۔علم اور متبادل حل کی تلاش
یہ بات سورج کے روش کی طرح عیاں ہے کہ problems اپنے ساتھ اسی طرح solutions بھی لے آتی ہیں جس طرح حکم خداوندی ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے بعینہ ہر مسئلے کے ساتھ اس کا حل بھی ہے علمی و فکری صلاحیتیں جب انتہاء کو پہنچیں تو۔اس صورت میں ہر مسئلے کا حل یا پھر متبادل عقل کے پیراہن میں موجود رہتا ہے اور اسی سے ہی علم کلام کی زینت بھی عطا ہوتی ہے اور یہ کلام آپ کی خوبصورت شخصیت کیلئے معاشرے میں کافی متاثر کن ثابت ہوتی ہے اپنے اردگرد کے مسائل کی نشاندہی کرنا خواہ گلی محلہ ہی کیوں نہ ہو اور پھر حل کے جانب بڑھنا یہی اصل انسانیت بھی ہے اور یہی طرزعمل سماجی خدمت گاری میں بھی شمار ہونے لگتا ہے معاشرتی اصولوں کے عین مطابق آپ کے گفتار میں شائستگی سمیت علم کی جھلک بھی عیاں ہوگی یقیناً facts and figure ہی قابلِ سماعت اور کسی موضوع کیلے بہتر عنوانات ثابت ہوتے ہیں یہی ایک صحتمند معاشرے میں رہنے والے فرد کا کردار ہوتا ہے کہ آپ کو درست مسائل کی نشاندہی سمیت درست حل اور اجتماعی متبادل خوبصورتی کے پیراہن میں مسئلے سے نجات کا طریقہ کار کے پہلوؤں میں مسائل کے حل پر بہترین گفتگو کا ہنر آتا ہو آپ بلوچستان کا مثال لیکر اس موضوع کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ کے علم میں بلوچستان کے معدنیات کا اس حدتک علم ہو کہ زیرِ زمین جن دھاتوں کی سائنسی پیمائش کی گئ ہے ان تمام کا scientific study ہو اور کہ quality , quantity ,row material percentage, اور دیگر دنیاکے دھاتوں سے comparatist inspection سمیت ایشاء و یورپ کے مقابلے میں اس کی importance کا تزکرہ اور ان دھاتوں کا درست استعمال ملکی و قومی لیول پر اس کے advantages کا ذکر ہی آپ کو کافی حدتک اس موضوع پر سیرحاصل گفتگو کرنے اس پر لکھنے اور بہترین تجزیہ پیش کرنے میں مدد دے سکتی ہے بعینہ آپ سرکاری معاملات میں بھی یہی طریقہ کار اپنائیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات اور عوام کے مسائل بیروکریسی اسمبلی عدالتیں الغرض تمام اداروں کے متعلق درست معلومات ان کی کارکردگی اور عوامی مسائل کے حل کیلے کس قدر کوشاں ہیں اور کن کن اداروں کا برائے راست عوام سے یا پھر بلواسطہ عوام سے تعلق ہے اسی طرح دیگر معاشرتی و سماجی مسائل پر بھی نظر رکھیں ان کے طیہ تک پہنچیں اور فکری پیمانوں میں پرکھیں اور جانچیں کہ کیوں کیسے اور کیا ہوگا کیسے ہوگا کے سوالات کا بہترین جوابات دے سکیں یہ اس لئیے بھی ضروری ہے کہ تمام تر حالات اور اس کا تقابلی جائزہ آپ کے سامنے ہو اور غلط افواہوں سے پھیلنے والے انتشار اور fifth generation war کی صورت میں غلط افہام و تشریحات کا آپ سد باب کرسکیں اور کسی بھی صورت میڈیا یا سوشل میڈیا پرنٹ میڈیا یا پھر گردشِ عام غلط اور جھوٹ پر مبنی خبروں کو آپ انسنی کرسکیں تاکہ آپ پر کسی بھی طرح منفی سوچ کے اثرات ہاوی نہ ہوں اور یہ ایک یوتھ کیلے انتہائی ضروری ہے اور اگر مسائل و وسائل کے متعلق درست معلومات نہ ہوں یا معلومات میں اضافہ نہ ہو تو ایسے لوگ stereotype ھوجاتے ھیں جو محض سنی سنائی بات پر یقین کرکے مطمعین ھو جاتے ھیں،
کیونکہ فکرو نظر کا دائرہ اگر تنگ ہو تو انسان کی کارکردگی بھی محدود داںٔرہ میں سمٹ کر رہ جاتی ہے اور انسان ہمیشہ اس داںٔرے سے باہر موجود علم و فکر اور خیرِ کثیر سے محروم رہ جاتا ہے۔ فکرونظر کے دریچے اگر کُھلے نہ ہوں، اگر اسکے قلب و زہن نے غور و فکر اور تدبر کے مادے کو پروان نہیں چڑھایا تو ایسی شخصیت میں وسعتِ آفاقیت پیدا نہیں ہوتی۔ وہ سِمٹ کر رہ جاتا ہے، اپنے اثرات چار دانگِ عالم میں پھیلا نہیں سکتا اور دنیا کو کچھ دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوتا بلکہ الٹا تخریب کاری میں ملوث ہوجاتا ہے ۔اس لیۓ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے اندر Global vision اور Dynamic سوچ کو بڑھاوا دیجیئے۔ محدود داںٔرہ فکر و نظر سے نکل کر لامحدود اور آفاقی سوچ کو ترجیح دیجیۓ۔ جغرافیائی حدود، مسلک و مشرب کا اختلاف ، خود پسندی اور شخصیت پرستی، اپنے اور پراۓ کا امتیاز، لسانیت و قومیت کے تعصبات سے بالاتر ہو کر عام انسانیت کو بالعموم اور مِلت اسلامیہ کو بالخصوص اپنے محنتوں اور مشقتوں کے ثمرات سے بہم خیر پہنچاییۓ
۔
چھوتا اصول= زندگی میں اپنے آئیڈیل کا انتخاب ضرور کریں
انسان جب سے دنیا میں آیا ہے اس کا کوئی نہ کوئی بندہ کوئی نہ کوئی شخص اس کا آئیڈیل بن جاتا ہے اور اسی شخص کی طرح وہ بھی بننا چاہتا ہے اور جنون کی حد تک وہ پنے آئیڈیل کی ھی طرح بننے کی کوشش کرتا ھے نوجوانی کے عمر میں خیالات اور جزبات کافی عروج پر ہوتے ہیں اور انسان اپنے مستقبل کے پلاننگ سمیت طرح طرح کے آئیڈیل سے طرزِ زندگی سیکھنے کا سبق لے رہا ہوتا ہے آئیڈیل کا ہونا اس لئیے بھی ضروری ہے کہ طرزِ زندگی میں شائستگی پیدا ہوسکے اور کسی ایک ڈائریکشن کے طرف بڑھا جاسکے یقیناً آئیڈیل شخصیت سے آپ کے متاثر ہونے کے کئی وجوہات ہوسکتے ہیں مثلاً فن تقریر اندازِ گفتگو طرزِ سیاست و معلومات وغیرہ یہ ضروری نہیں کہ تمام چیزیں ایک ہی شخص کے اچھے لگتے ہوں آپ مختلف لوگوں کے مختلف چیزوں سے متاثر ہوسکتے ہیں بلفرض کسی شخص کی سیاسی طرزعمل تو کسی کے رہن سہن سے آپ متاثر ہوسکتے ہیں آپ چند برگزیدہ لوگوں کو اپنا آئیڈیل بناکر اپنی زندگی کو سنوار سکتے ہیں جیسے کسی صحتمند معاشرے میں رہنے کا حق ہوتا ہے اور مزید یہ کہ آپ ہر طرف سے آنے والے آوازوں کو بھی ترجیح نہیں دیں گے طرح طرح کے نظریات جھاڑنے والوں کو بھی کم سنا کریں گے اس لئیے کہ آپ کے پاس چند برگزیدہ شخصیات موجود ہیں جو تمہیں بہتر آواز سننے کیلے مثبت مناظر دیکھنے کیلے اور خوبصورت شخصیت اپنانے کیلے دے سکتے ہیں
اور اگر آپ حضورِ اکرمﷺ کو اپنا آئیڈیل بنالیں تو پھر اس روئے زمیں پر کسی اور شے کی حاجت نہیں رہے گی کیونکہ آپﷺ کا فلسفہ ہی ظابطہ حیات ہے آپ ﷺ کو سائنس کی نگاہ سے دیکھیں یا پھر طبیب کی نگاہ سے آپ انہیں لیڈر کی نگاہ سے دیکھیں یا پھر عظیم سلطنت کے بادشاہ کی نظر سے ہرسو وہ تمہیں مکمل دکھائی دیں گے بےشک انہیں ہر عیب سے پاک بنایا گیا ہے
پانچواں اصول یہ کہ آپ ملکی و عالمی سیاست پر نظر رکھیں
خود کو ملکی و عالمی معمالات سے بےخبر مت رکھیں اور نہ ہی عالمی سیاست کو معمولی سمجھیں کیوں کہ ہم ناچاہتے ہوئے بھی عالمی معائدوں کے زیر اثر رہتے ہیں ہم اس کی سادہ مثال مہنگائی کو لیں کہ عالمی مارکیٹ میں صرف پٹرول کے مہنگے ہونے سے تمام خوردونوش ایشیا مہنگی ہوجاتی ہیں اگرچہ آپ کے پاس پٹرول استعمال کرنے کے زرائع موجود ہوں یا نہ ہوں لیکن پٹرول کے بحران سے یا پھر پٹرول کے مہنگا ہونے سے آپ کے معاشی حالات ضرور متاثر ہوسکتے ہیں کسی بھی معاشرے میں معاشرتی اصولوں کے عین مطابق زندگی گزارنے کیلے یہ ضروری ہے کہ آپ ملکی و عالمی سیاست سے باخبر رہیں تاکہ اس پیش نظر آپ اپنے محدود وسائل کی گرفت مظبوط کرسکیں باوقت فیصلے لیکر ملکی و عالمی سیاست کے پیچ و خم میں آپ کے مستقبل کے فیصلے محفوظ رہ سکیں آپ کیلے یہ اشد ضروری ہے کہ آپ تمام تر معاملات کو مدنظر رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی تبدیلی کے اثرات کیلے آپ تیار رہ۔سکیں اور آپ کے پاس آپ کا متبادل نظام موجود ہو
زمانہ طالبعلمی میں یہ آرزومندی و دانشمندی کے اہم اصولوں میں شامل ہے