MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

فلسفہ امہ صرف کتابوں کی زینت

0 273

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر =فرید بگٹی

- Advertisement -

ڈاکٹر اسرار احمد کا یوٹیوب چینل بند کردیا گیا اور دوسرے۔ طرف ہمارے ملک کے مسلمان حیران ہیں کہ اس war کا جواب کیسے دیا جائے میں نے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کو بہت کم  سنا اور  ایسا نہیں ہے کہ میرا ان سے کوئی مسلکی اعتبار سے اختلاف ہے بلکہ مجھے کبھی موقع نہیں ملا کہ میں انہیں مکمل  سنتا یا انہیں پڑھتا ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے متعلق مجھے کافی دوستوں نے آگاہی دی ہے میرے کئی دوست ان کے زبردست شیدائی ہیں انہیں اکثر سنتے رہتے ہیں ڈاکٹر صاحب کی جب بھی کوئی ویڈیو کلپ نظر سے گزری اس میں اسرائیل یورپ اور مسلمہ آمہ کا ہی ذکر سننے کو۔ملا ہے  آپ اکثر اتحاد امت کی بات کرتے اور یہودی سازشوں کا کھل کر تبصرہ کرتے آپ نے وطنِ عزیز کے جوانوں کو یہودی اور امریکی سازشوں سے بھرپور آگاہ  اور دین اسلام کی وہ تعلیمات عام کی جن سے اتحاد امت کی کوئی صورت بنتی دکھائی دیتی ہو ان کی اکثر تقاریر یہودیوں کی آنے والے سازشوں سے بھی پردہ اٹھانے پر مشتمل تھیں اور بلآخر آج یوٹیوب نے ان۔کا مشہور چینل بلاک کردیا یہ کوئی پہلا اور آخری حربہ نہیں بلکہ تاریخ میں اس طرح کی کئی پابندیوں کی فہرست موجود ہے انٹرنیٹ پر آپ کو کئی طرح کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی کبار آپ کے کمینٹس بلاک کردئیے جاتے ہیں تو کبھی فیسبک اکاؤنٹ کو ہی ایک محدود مدت کیلے بند کردیا جاتا ہے آپ غور کریں تمام تر پابندیاں یورپ امریکہ اور یہودیوں کی تکمیلِ مقاصد ہیں اندازہ کیجئے وہ آپ ہی کے زریعے آپ ہی کے جملوں کو آپ ہی کے کتاب سے خارج کرنے کی پوری قوت رکھتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ وہ آپ سے ہزاروں  میل دور بیٹ کر آپ کی تمام تر روزمرہ حرکات کو مانیٹر کررہے ہوتے ہیں وہ جاننے وہ سننے وہ سمجھنے اور غور و فکر کرنے والی قوم ہیں جو اپنے آنے والے وقت اور آنے والے نسلوں کے سامنے کسی ایسے حرکت کو برداشت نہیں کرتے جو ان کی راہ میں رکاوٹ بن جائے انہیں ابھی سے اس بات کا علم ہے کہ تاریخ میں اگر ہمارے متعلق ناچاقی رہے گی ہماری قوم اور آنے والی نسلیں اپنی اغراض و مقاصد پر پورا نہیں اتریں گے لحاظہ ان کی یہ سب پیشگی حرکات فقط اپنے آنے والے نسلوں کو کسی قسم کی ذہنی و فکری مسائل سے بچانے کے غرض ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہی دنیا کیلئے ہیں اور دنیا ہمارے لئیے ہے میرے لئیے سب سے عجیب بات یہ کہ جب گولڈا مائر کہتی ہیں کہ پانچ اسلامی ریاستوں کو شکست دینا میرے لئیے ہرگز ممکن نہ ہوتا اگر میں مسلمانوں کے آخری نبیﷺ کی ان تعلیمات پر عمل نہ کرتا جو ایک خودمختار ریاست اور قوم کیلے ضروری ہیں وہ کہتی ہیں کہ   میں نے محمد(صلی الله علیه وسلم)کی سوانح حیات پڑهی, اس کتاب کے مصنف نے ایک جگہ لکها تها کہ جب حضرت محمدﷺ کا انتقال ہوا تو ان کے گهرمیں اتنے پیسے بهی نہیں تهے کہ چراغ جلانے کیلۓ تیل تک خریدا جاسکتا, لہذا’ ان کی اہلیہ محترمہ(حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا)نے ان کی زره رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اس وقت محمد(صلی الله علیه وسلم)کےحجرے میں نو (۹)تلواریں لٹک رہی تهیں,مزید وہ کہتی ہیں کہ میں نےجب یہ واقعہ پڑها تو میں نے سوچا دنیا میں کتنے لوگ ہونگے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوںگے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمان آدهی دنیا کے فاتح ہیں, لہذا’ میں نے فیصلہ کرلیا کہ مجهے اور میری قوم کو برسوں تک بهوکے پیٹ اور ننگے بدن رہنا پڑا،ہمیں پختہ مکانوں کی بجاۓ خیموں میں رہنا پڑا تو بهی ہم اسلحہ خریدیں گے،خود کو مضبوط کریںگے اور فاتح کا اعزاز  پائیںگے,مجھے سمجھ آگئ کہ خوددار قوم کی تخلیق کیلے کیا ضروری ہے اور یہی نہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ نے اپنے صحابی عبدالرحمن بن عوف  کو کیسے صفر سے لیکر اپنے وقت کا Billioner بنایا وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مسجد زرار کو کیوں آتشِ نظر کرنے کا حکم دیا گیا وہ جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں دو جملوں میں وضاحت کی گئ کہ یہاں میری عبادت نہیں ہوتی اور دوسری بات اللہ پاک فرماتے ہیں کہ و تفرقین بین المومنین یعنی یہ مومنوں کے درمیاں تفرقہ ڈالتے ہیں اور آج یہودی ان جملوں کو شاہد اپنے ٹوپیوں پر چسپاں کئیے رکھے ہوئے ہیں کہ مسلمانوں کے مسجد میں قرآن بھی ہو نماز بھی ہو زکر بھی لیکن پھر بھی اسے اس لئیے مٹانے کا حکم دیا جاتا ہے کیوں کہ وہ قوم کو تقسیم کرنے کے مشن میں تھے انہیں اتحاد اور تقسیم کے مابین فرق اور اس کے فوائد و نقصانات مسجدِ زرار سے سمجھ آگئ وہ یہ بھی اپنے مثالوں میں  بتاتے ہیں کہ بیٹا جب  نپولین حملہ آور ہو تو مراد بک کی طرح جامعہ الازہر کے اساتزہ کی رائے لینے کے بعد بخاری کی ختم شروع مت کردینا وہ اپنے نسلوں کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ جب روسی حملہ آور ہوں تو امیر بخارا کی طرح ختم خواجگان پڑھانے کا حکم دینے نہ بیٹھ جانا انہیں سب کچھ علم ہے وہ ہمارے غلطیوں سے اپنے بذدلوں کو شیر بنا رہے ہیں وہ ہمارے اقوال سے سبق حاصل کررہے ہیں اور آج وہ ایک ایسی قوم بن چکی ہے جو ناقابلِ تسخیر ہے
عالمی معیشت عالمی سیاست اور عالمی خبروں کے ایجنسیز ان ہی کے گرد طواف کررہے ہیں دنیا اس چھوٹے قوم کے سامنے سجدہ ریز ہوچکی ہے اور یہ قوم اپنے آپ کو اس حد تک مقدس سمجھتی ہے کہ اس سرزمین پر باقی تمام نسلیں ان کیلے غلام تصور کئیے جاتے ہیں  اور حقیقت بھی کچھ یوں ہی ہے کہ جو قوم بن جائیں تو بکھرے ریوڑ ان کے غلامی کرتی ہے اور آج یہ قوم بن چکے ہیں اور ہم ابھی تک بکھرے ہوئے پڑے ہیں شاہد ہمیں اتحاد سے تعفن آتی ہو یا پھر امہ کا فلسفہ صرف باتوں اور کتابوں اور کہانیوں کے حد تک تھا ہم صرف گفتار کے غازیوں کے والدین بنتے جارہے ہماری نسلیں شاہد کسی کردار کے غازی کو نہ دیکھ پائیں وہ زمانہ کس قدر تکلیف دہ ہمارے تاریخ میں نقش ہے کہ
جب فرانسیسی جنرل “گورو” نےشام میں قدم رکھا صلاح الدین ایوبی کی قبر پر گیا اور قبر کو لات مار کر کہا:
“اٹھو صلاح الدین ہم پھر آ گئے لیکن شاہد صلاح الدین کے ساتھ پوری قوم ابدی نیند سو چکی تھی یہ سلسلہ صرف یہیں پر ختم نہیں ہوا بلکہ آگے چل کر ہمیں اور بھی اس طرح کے دلخراش واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں
جب فرانسیسی جنرل “لیوتی” نے مراکش میں قدم رکھا تو یوسف بن تاشفین کی قبر کے پاس گیا اور قبرکو لات مار کر کہا اے تاشفین کے بیٹے اٹھو ہم تمہارے سرہانے پہنچ گئے ہیں
جب صلیبیوں نے دوبارہ اندلس پر قبضہ کیا تو “الفونسو” نے حاجب منصور کی قبر پر سونے کی چارپائی بچھائی اور بیوی کو لے کر شراب پی کر لیٹ گیا اور کہا
دیکھو میں نے مسلمانوں کی سلطنت پر قبضہ کرلیا ہے
جب یونانی فوج ترکی میں داخل ہوئی تو یونانی فوج کے سربراہ “سوفوکلس وینیزیلوس” خلافت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کی قبر کے پاس گیا اورکہا “اٹھو اے بڑی پگڑی والے اٹھو اے عظیم عثمان اٹھو دیکھو اپنے پوتوں کی حالت دیکھوں ہم نے اس عظیم سلطنت کا خاتمہ کیا جس کی تم نے بنیاد رکھی تھی ہم تم سے لڑنے آئے ہیں
اب سلطان صلاح الدین ایوبی،یوسف بن تاشفین،حاجب منصور اور عثمان غازی کے ارواح کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی کہ عالم اسلام کے نوجوان ان کے کارناموں کو بھول گئی اسے فراموش کردیا حالنکہ  مجھے یقین ہے کہ جب پرندوں نے یہ منظر دیکھا ہوگا تو اپنی چہکار سے نعرہ تکبیر کہا ہوگا اپنے پروں کو کھول کر طاقت کا مظاہرہ کیا ہوگا ابابیلوں نے پتھر چننے کی تیاری کی ہوگی ایک ایسا منظر ضرور رونما ہوا ہوگا کہ چرند پرند اللہ کے نام پر تیار مسلمانوں کے لبیک کے انتظار میں کھڑے ہوئے ہونگے مجھے یقین ہے کہ مکڑی نے پھر سے جالا تننے کی مشق کی ہوگی مجھے یقین ہے کہ فاختہ مسلمانوں کی بیداری کی خبر کی تلاش میں سرگرداں رہا ہوگا  پر اس وقت کے سورج نے کوئی تلوار نیام سے نکلتی ہوئ نہیں دیکھی کوئی لبیک کا نعرہ نہیں سنا کسی مرد مومن کی للکار نہیں دیکھی اور  ایسی خاموشی چھائی رہی بڑے مدتوں تک امت مسلمہ خاموش رہی اور بےسود سب مناظر سے مایوسی کی نہروں میں ڈوبے کسی روشن مستقبل کے انتظار میں راتیں کاٹی ہونگی پر زےنصیب ہم میں پھر کوئی شجاعت دیکھنے کو نہ ملا ہم یوں واپسی کے طرف پلٹے جیسے کسی پہاڑی سے کوئی نیچے اتررہا ہو جیسے کتابوں سے حرف پھر سے مٹائے جارہے ہوں جیسے بچوں کو سنائے بہادری کے قصوں کو صرف افسانہ گردانا جارہا ہو جیسے ماضی صرف ایک کہانی کی صورت اختیار کرگئی ہو ہماری اس خاموشی اور بےحکمتی نے ہم سے سلطنت عثمانیہ چھین لیا ہمارے مسلم ممالک تقسیم کردئیے گئے سلطان عبدالحمید کی للکار کو سازشیوں نے خاموش کروا دیا یوں ہماری الٹی سفر  ہمیں پیچھے دکھیلتا رہا  یہاں تک کہ ہم گھروں میں محصور ہوئے ہماری چودہ سو سالہ تعلیمات پر صرف ایک ہی وبا سے قابو پالیا گیا ہمارے عبادات ہمارا یقین سب کچھ covid19 کے زریعے دروازوں کے اندر بند کردیا آور ہم یوں ہی دیکھتے رہے اور انتظار کرتے رہے کہ کب یہود کے جانب سے کسی ویکسین کی خبر ملے۔۔۔۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.