وحشت ۔۔۔
تحریر : تہمینہ فاطمہ
- Advertisement -
میرا قلم یہ درد بیان کرتے ہوئے خون کے آنسوں رو رہا ہے کہ میرے ملک میں جابجا وحشتوں کے ڈیرے ہیں۔
یہاں پر نامعلوم افراد لُٹیرے ہیں۔
یہاں پر ظلمتوں کے بسیرے ہیں۔
یہاں پر سیاسی تنازعات کے جھنبیلیے ہیں۔
یہاں کے لوگ تیرے منہّ پر تیرے اور میرے منہّ پر میرے ہیں۔ یہاں پر راج کرتے ظالم وڈیرے ہیں۔
اب جائزہ لیتے ہیں اقوامِ عالم کا تو پتا چلتا ہے وہاں بھی جا بجا وحشتوں کے بسیرے ہیں۔
کشمیر میں وحشت ناک، درد ناک، عبرت ناک ظُلم دیکھ کر دل خون کے آنسوں روتا ہے۔
کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ خاموش تمشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ وہاں جتنا بھی ظُلم ہوں اقوامِ متحدہ کے کانوں کو جوں تک ہی نہیں رینگتی۔
فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ نارواں سلوک رکھا جا رہا ہے۔برما کے مسلمانوں پر شدید ظلم و تشدّد ہو رہا ہے۔
اِن حالات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے نہ جانے امن کا قیام کب مُمکن ہو گا۔؟
بنی نوع انسان کی کب وحشتوں سے جان چھوٹے گی۔؟
کب بنی نوع اِنسان امن کے حقیقی معنوں سے واقف ہو گا۔؟ مجھے تو لفظ وحشت سے بھی وحشت ہوتی ہے۔
نہ جانے کیسے لوگ کسی کا قتل کر لیتے ہیں، حق دار کو اس کا حق نہیں دیتے، معاشرے میں بگاڑ پیدا کر دیتے ہیں، عصمت دری کر لیتے ہیں، اغوا برائے تاوان کر لیتے ہیں۔ اِنسان کی جان کو جان نہیں سمجھتے۔
معصوم بچوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ اور معاشرے میں وحشتوں کو پھیلا دیتے ہیں۔
آخر میں میری دعا ہے کہ
اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو ہمیشہ کے لئے وحشتوں سے نجات دیدے۔ ہر طرف امن کا دور دورہ ہو۔ گلی کوچوں میں جہاں خوف کے آثار نہ ہوں۔ ایسا ماحول جہاں لوگ ستمگر نہ ہوں۔ ایسا ماحول جہاں موت کے بازار نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ مُلک پاکستان کو پنجتن پاک کے صدقے شاد و آباد رکھے۔ آمین