MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

عصری تقاضوں سے ہم آہنگ محکمہ ثانوی تعلیم کے اقدامات کا جامع احاطہ۔ بجٹ 23-2022 میں سیکنڈری تعلیم حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح

3 466

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

نئیمالی سال 2023-2022 میں محکمہ ثانوی تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں دور رس نتائج پر مبنی بے شمار منصوبے شامل کیے گئیہیں ان منصوبوں میں 3389 ملین روپوں کی لاگت سے226 نئے منصوبے رکھے گئیہیں جبکہ جاری منصوبوں کی کل تعداد 347 اور ان کی لاگت 7491 ملین روپے ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں مجموعی شیئر 5.27 فیصد ہے۔
شعبہ سکینڈری ایجوکیشن میں اصلاحات اور فروغ تعلیم میں ڈویپلمنٹ پارٹنرز جس میں یونیسف ، عالمی بینک اور دیگر کا کردار قابل ستائش

تحریر: سعید یوسف
موجودہ حکومت نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو ،صوبائی وزیر تعلیم میر نصیب اللہ مری، چیف سیکریٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی اور سیکرٹری ثانوی تعلیم عبدالروف بلوچ سمیت انکی وژنری ٹیم کو جن کٹھن حالات میں جہاں پر کورونا کی ہنگامی وبائی صورتحال کا سامنا رہا ہو وہ افرادی قوت کی کمی ہو یا اس جیسے دیگر متعدد نا مساعد تجربات اور حالات، باوجود اسکے تعلیمی نظام میں مختصر عرصے میں عوامی خواہشات اور ضرورت کے تحت اصلاحات میں زمینی حقائق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جدت کی راہ اپنانا ،جامع حکمت عملی کے تحت مربوط انداز میں اقدامات کی ترقی وترویج قابل ستائش امر ہیں جسکی پزیرائی مختلف فورمز پر بارہا کی گئی ہے۔ شعبہ تعلیم میں حالیہ اقدامات سے نا صرف تعلیمی نظام میں مثبت تبدیلیاں نمودار ہوئی ہیں تو دوسری جانب اس امر کی نوید جاگ اٹھی ہے کہ صوبہ ملکی اور بین الاقوامی مرتب کردہ تعلیمی اہداف کی مثبت سمت کو حاصل کر پائے گا۔ واضح رہے موجودہ حکومت کی ترجیحات میں تعلیم کے فروغ کو فوقیت حاصل ہے۔ حکومت بلوچستان نے مختصر عرصے میں بے شمار اقدامات اٹھائے ہیں جبکہ نئے مالی سال 2023-2022 میں محکمہ ثانوی تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں دور رس نتائج پر مبنی بے شمار منصوبے شامل کیے گئے ہیں ان منصوبوں میں 3389 ملین روپوں کی لاگت سے226 کے نئے منصوبے شامل کئے ہیں جبکہ جاری منصوبوں کی کل تعداد 347 اور ان کی لاگت 7491 ملین روپے ہے۔ اگر بجٹ کا احاطہ کیا جائے تو سوشل سیکٹر کے مختلف محکموں میں محکمہ ثانوی تعلیم کا شئیر میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے جسکا بجٹ میں مجموعی حصہ 5.27 فیصد رکھا گیا ہے محکمہ تعلیم حکومت بلوچستان نے تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح سمجھتے ہوئے جو راہ اپنائی اور یہی اصلاحاتی ایجنڈا یونہی جاری رہا تو اسکی منزل روشن اور تابناک مستقبل کی صورت میں ابھرے گا جہاں پڑھے گا بلوچستان بڑھے گا بلوچستان کے سلوگن کی آبیاری ہو پائے گی۔حکومت بلوچستان نے محکمہ ثانوی تعلیم میں گزشتہ چھ مہینوں کی کارکردگی میں فروغ تعلیم اور محکمہ تعلیم میں اصلاحاتی ایجنڈا کے تحت جو اقدامات اٹھائے ہیں اسکی نظیر شائد ہی کبھی دیکھنے کو ملے جسکا سہرا بہرصورت سیکرٹری ثانوی تعلیم عبدالروف بلوچ اور انکی ٹیم کو جاتا ہے، ٹیم ورک اور اعلیٰ حکام کی تائید جب حاصل ہو تو ادارے مربوط لائحہ عمل کے تحت بے مثال کامیابیاں سمیٹتے ہیں۔ حالیہ بجٹ میں محکمہ ثانوی تعلیم کی مد میں نئے سکولوں کی تعمیر اور مرمت سمیت اسکولوں میں سہولیات کی فراہمی جس میں سکول کے لیے بلڈنگ کی تعمیر کے نئے منصوبوں ،سکولوں کی چار دیواری کی تعمیر، بچوں کے لیے صاف پانی کی فراہمی، اسکولوں میں لیٹرین کی دستیابی، سولر سسٹم سے بجلی کی فراہمی سمیت جدید کمپیوٹر لیب کی فراہمی سمیت بے شمار سکولوں کی اپگریڈیشن کے متعدد منصوبے رکھے گئے ہیں۔ تعلیم ہی سے ایک قوم اپنے ثقافتی، ذہنی اور فکری ورثے کو آئندہ نسلوں تک پہنچاتی ہے اور ان میں زندگی کے ان مقاصد سے لگاؤ پیدا کرتی ہے جنھیں اس نے اختیار کیا ہے۔ تعلیم ایک ذہنی، جسمانی اور اخلاقی تربیت ہے اور اس کا مقصد اونچے درجے کے ایسے تہذیب یافتہ مرد اور عورتیں پیدا کرنا ہے جو اچھے انسانوں کی حیثیت سے اور کسی ریاست میں بطور ذمہ دار شہری اپنے فرائض انجام دینے کے اہل ہوں۔بلوچستان میں تعلیم کے فروغ میں تین محکمے شامل ہیں جس میں محکمہ ثانوی تعلیم جو کہ پرائمری ایجوکیشن سے لے کر سیکنڈری سکول (میٹرک) تک ، جبکہ ہائیر سکینڈری اور اعلیٰ تعلیم کے لیے محکمہ ہائیر ایجوکیشن اور غیر رسمی و اسپیشل ایجوکیشن کی ذمہ داری محکمہ سماجی بہبود سر انجام دے رہی ہے۔ ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم 20-2019 کے بلوچستان ایجوکیشن اسٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں اس وقت مجموعی طور پر محکمہ سیکنڈری ایجوکیشن کے زیر اثر 15089 سکولز موجود ہیں۔ جس میں طلباء / بچوں کے سکولوں کی مجموعی تعداد 10122 جبکہ طالبات/ بچیوں کی سکولوں کی تعداد 4967 ہے۔ ان تمام سکولوں کا احاطہ کچھ یوں کرتے ہیں جس میں پرائمری سکولوں کی کل تعداد 12317 ہے جس میں 8454 بچوں کے پرائمری سکولز اور 3863 بچیوں کے پرائمری سکولز موجود ہیں۔ اسی طرح صوبے بھر میں مڈل سکولوں کی مجموعی تعداد 1532 ہے جس میں بچوں کے مڈل سکولوں کی تعداد 880 اور بچیوں کے مڈل سکولوں کی تعداد 652 ہے۔ صوبے بھر میں ہائی سکولوں کی مجموعی تعداد 1105 ہے جس میں 710 بچوں کے ہائی سکولز اور 395 بچیوں کے ہائی سکولز موجود ہیں۔

- Advertisement -

اگر ہائیر سیکنڈری سکولوں کی مجموعی تعداد کا احاطہ کریں تو اس کی تعداد 135 ہے جہاں طلباء کے لئے78 اورطالبات کے لیے57 ہائیر سکینڈری سکول دستیاب ہیں۔ حکومت بلوچستان نے رواں مالی سال 23-2022 کی مالی سال میں متعدد نئے منصوبے رکھے ہیں اور بہت سارے جاری منصوبے اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ محکمہ سیکنڈری ایجوکیشن کو پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو بہتر طور پر بجا آوری کے لیے پالیسی پلاننگ و امپلیمنٹیشن یونٹ (PPIU)، نظامت تعلیمات ( Directorate of Education)، ادارہ نصابیات و توسیع سینٹر ( Center Extension Bureau of Curriculum & ) ، ادارہ برائے اساتذہ ٹرینینگ Provincial institute of tcachers training)، بلوچستان ٹیکسٹ بورڈ ( BTBB)، بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ( BBISE) اور بلوچستان اسسمنٹ و ایگزیمنیشن کمیشن کی معاونت حاصل ہے جو اپنے شعبوں میں بہترین انداز میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔2017 کی مردم شماری کے تحت بلوچستان کی مجموعی آبادی 12.4 ملین نفوس پر مشتمل ہے ، جس میں 8 ڈویژنز اور 34 اضلاع شامل ہیں جبکہ موجودہ حکومت نے مزید 3 اضلاع کی منظوری دی ہے جس میں ضلع حب، ضلع کاریزات اور ضلع اوستہ محمد شامل ہیں۔ اپنی منفرد محل وقوع، منتشر آبادی اور سہولیات کے فقدان سمیت دیگر نا مساعد حالات میں محکمہ سیکنڈری ایجوکیشن پرائمری تا گریڈ 12 تک کے طلباء و طالبات میں علم کی شمع روشن کرنے کی ذمہ داری سر انجام دے رہا ہے جس میں 48161 اساتذہ اس پیشہ پیغمبری سے منسلک ہیں علاوہ ازیں 6978 نان ٹیچنگ اسٹاف بھی محکمہ ہذا سے منسلک ہیں۔صوبے میں 21 اسٹوڈنٹس کے لیے 1 ٹیچر موجود ہے، جبکہ اعداد شمار کے مطابق ایک سکول میں کل 3 اساتذہ موجود ہیں۔ اس مسئلے کے ادراک کے لیے موجودہ حکومت ہزاروں نئے ٹیچرز کو ایڈہاک بنیادوں پر انکی سروسز سے استفادہ کرنے جا رہی ہے جو تعلیمی نظام میں مزید استحکام کا باعث بنے گا۔ 13 اپریل 2022 کو کوئٹہ میں سیکرٹری سیکنڈری ایجوکیشن عبدالرؤف بلوچ کی زیر صدارت 22ویں لوکل ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری سیکنڈری ایجوکیشن عبدالروف بلوچ ، ایڈیشنل سیکریٹری میر باز مری ، ڈائریکٹر سکولز واحد شاکر بلوچ سمیت متعلقہ حکام نے کثیر تعداد میں شرکت کی اجلاس میں سیکنڈری ایجوکیشن کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے سیکریٹری ثانوی تعلیم عبدالروف بلوچ نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبہ میں تعلیم کے فروغ کیلئے دستیاب محدود وسائل میں رہتے ہوئے اقدامات اٹھا رہی ہے، صوبے میں سب سے زیادہ بچے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں عصری علوم سمیت کوالٹی اور بہتر آموزش کا حصول آئندہ آنے والے دنوں میں بھر پور توجہ کا مرکز بنے گا تاکہ تعلیم کا معیار بلند ہو سکے اور بلوچستان اپنی تعلیمی اہداف کا حصول ممکن بنا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کے حوالے سے ایجوکیشن گروپ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بلوچستان ایجوکیشن سیکڑ پلان 2020-25 کی مکمل عمل داری کو ہر صورت ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پالیسی سازی اور فروغ تعلیم کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔ اجلاس میں جائزہ برائے ایجوکیشن سیکڑ پلان اور اسکی عملدرآمد و پیشرفت ، صوبے میں غیر رسمی تعلیم کی پیشرفت اور مستقبل کے لائحہ عمل سمیت محکمہ سماجی بہبود اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مربوط کوارڈینیشن، ASPIRE پروجیکٹ کی پیشرفت اور جائزہ ، یونیسیف کی جانب سے بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروگرام فیز 2 کی پیشرفت اور جائزہ، بی آر ایس پی اور ترقی فاؤنڈیشن کی جانب سے ECW پروجیکٹ کی پیشرفت اور جائزہ، گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کی جانب سے کوآرڈینیٹنگ ایجنسی کی سلیکشن سمیت صوبے میں جاری ایجوکیشن پروگرام سے منسلک دیگر اہم اقدامات اور اصلاحات کے حوالے سے سیر حاصل بحث کی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری سیکنڈری ایجوکیشن عبدالرؤف بلوچ نے کہا کہ مربوط پالیسی سازی سمیت شعبہ تعلیم کے فروغ میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے اقدامات کو حکومت بلوچستان قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبہ میں تقریباً دس لاکھ بچے سرکاری اسکولوں میں حصول علم کے لیے جاتے ہیں مگر ان کے مشاہدے اور ذاتی تجربے کی بناء پر بچوں کی صلاحیتوں کو جس طرح اجاگر کرنا چاہیے وہ اس معیار کے نہیں کوالٹی اور بہتر آموزش پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں یکساں قومی نصاب کے سلسلے میں ٹیکسٹ بکس کو صوبے بھر میں تقسیم کردیا گیا ہے، صوبے میں اساتذہ کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے یونیسیف کے اشتراک سے معقول فنڈز رکھے گئے ہیں۔ سیکرٹری سیکنڈری ایجوکیشن نے مزید کہا کہ صوبہ بھر میں ٹیچنگ اسٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ممکنہ نئے اساتذہ کی بھرتی کے لیے محکمے سیکنڈری ایجوکیشن نے صوبائی کابینہ سے اساتذہ کی ممکنہ قابلیت کے طریقہ کار میں نرمی دی ہے جبکہ بھرتی کے بعد انکو ممکنہ قابلیت کی ٹریننگ دی جائے گی اس اقدام سے صوبہ بھر میں غیر فعال اسکولوں کو فعال کرنے میں کامیابی حاصل ہو سکے گی۔ سیکرٹری تعلیم سکولز عبدالرئوف بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں اور انہیں اپنے اساتذہ کی قابلیت اور صلاحیتوں کا بخوبی علم ہے، صوبے میں مثبت تعمیری مسابقت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ اساتذہ اپنی صلاحیتوں کو سامنے لا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں مڈل اسکول اور پرائمری سکول میں واضح فرق موجود ہے 8 پرائمری اسکولوں میں ایک مڈل اسکول موجود ہے ، جبکہ جاری مالی سال میں 33 پرائمری اسکولوں کو مڈل جبکہ 66 مڈل کو ہائی سکولز ، 200 پرائمری سکولوں کو مڈل اسکول لیول پر لے جانے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر سیکرٹری نے گلوبل پارٹنرشپ آف ایجوکیشن، یورپین یونین، ورلڈ بینک ، JICA، (ای سی ڈبلیو) اور یونیسف سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ دنیا بھر میں پرائمری تعلیم کو بہت اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ یہی بچے کی بنیاد بناتی ہے اور ایک بار اگر بنیاد مضبوط پڑگئی تو اس پر عمارت کھڑی کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ حکومت بلوچستان نے پرائمری کی سطح پر تعلیم کو 2016 کو جینڈر فری قرار دیا ہے جس کے بعد سے تعلیم کے طریقہ کار، سہولتوں اور اساتذہ کے انتخاب تک ہر مرحلے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، تاکہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارا جاسکے جبکہ بلوچستان کے محدود وسائل کو بہتر طور استعمال میں لا کر تعلیمی نظام میں بہتری لایا جا سکے اس فیصلے سے بلوچستان میں سرکاری اسکولوں میں بچوں کے داخلہ کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ پائیدار ترقی کے اہداف کے تحت پاکستان نے اقوامِ متحدہ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ 2030ء تک اپنے ہر بچے کو لازمی بنیادوں پر معیاری پرائمری تعلیم فراہم کرے گا۔ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ جس کی شروعات ہمیں بچپن ہی سے کردینی چاہیے۔ ہمارے اسلاف نے تعلیم کا منظم و مستقل طریقہ کار مہیا کیا تھا۔ جس کے بے شمار فوائد و مثبت اثرات سے آج تک پوری دنیا فیضیاب ہورہی ہے۔ چاہے وہ دینی علم ہو یا دنیاوی علوم و فنون ہو۔ اس کی تفصیلات جاننے کے لیے ہمیں تاریخ کی ورق گردانی کرنی ہوگی۔ صوبے میں تعلیم کے فروغ میں ڈویلپمنٹ پارٹنرز کا کردار بھی قابل تقلید ہے جس میں محکمے کو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف UNICEF ، عالمی بینک اور یورپی یونین قابل ذکر ہیں۔ صوبے میں یونیسیف کے تعاون سے جاری پروگرامز کی پیشرفت کے حوالے سے سیکرٹری تعلیم عبدالرئوف بلوچ نے کہا کہ انہیں ایکسیلیٹرریڈ لرنگ پروجیکٹ ، ایجوکیشن سپورٹ پروجیکٹ، ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم، کنٹینیوس پروفیشنل ڈیولپمنٹ پروگرام، اسکول سیلف ڈویلپمنٹ پلان سمیت دیگر پروگرامز کے حوالے سے تمام متعلقہ حکام نے اجلاس کو بریفنگ دی۔ اجلاس کو ایجوکیشن سپورٹ پروجیکٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ صوبے کے 12 اضلاع میں ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن کی زیر نگرانی اور یونیسیف کی تکنیکی اور مالی معاونت سے جاری ہے جس کا بنیادی مقصد ان اضلاع کے بچوں کو Accelerated learning Program کے تحت علم کی شمع سے روشناس کروانا ، ان بچوں کوسکولوں میں خوش آمدید کہنا جو کسی بھی وجہ سے حکومتی مرتب کردہ سکول میں داخل ہونے کی عمر کو پہنچتے ہوئے سکولوں میں داخل نہ ہوسکے ہوں، اس پروگرام میں 9 تا 13 سال کے بچوں کو پرائمری جبکہ مڈل میں 13تا 16 سال کے بچوں کو داخل کیا جاتا ہے جب بچے پرائمری اور مڈل سطح کے قابل ہوتے ہیں، انہیں بلوچستان اسسمنٹ ایگزامینیشن کمیشن کی جانب سے سند دی جاتی ہے تاکہ یہ بچے آگے تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکیں مزید برآں ان بچوں کو ہنر مند بنانے کے لیے مختلف ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں ، اس منصوبے کے تحت 280 اساتذہ اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں جبکہ اس سے 8 سرکاری سکول ، 92 مدارس، 113 کمیونٹی کے سکول شامل ہیں اور 8257 بچے ان سکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ سکول ڈیولپمنٹ پلان کے تحت 53 سکولز پر کام جاری ہے جس میں 5355 طلباء مستفید ہو رہے ہیں۔ ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے حوالے سے حکام نے اگاہ کیا کہ اس جدید نظام کے تحت 15089 صوبے کی سرکاری سکولز کا پروفائل موجود ہے جس میں55234 افرادی قوت اور 1004219 اسٹوڈنٹس کی پروفائل موجود ہے ، ای ایم آئی ایس کے اس نظام کو چلانے کے لیے یونیسیف کے تعاون سے 165 EMIS سیلز فعال ہیں جبکہ 180 نئی EMIS سیلز کو جاری کرنے کے لیے یونیسیف کی تکنیکی سپورٹ حاصل رہی ہے ، اسی طرح RTSM کے لیے آن لائن ڈیش بورڈ بھی موجود ہے اس نظام کو لاگو کرنے کے بعد صوبے کی تعلیمی نظام میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ PITE بلوچستان کی زیر نگرانی یونیسیف کے تعاون سے Continous Professional Development Program کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ پروجیکٹ صوبے کی 11 اضلاع میں جاری ہے جس میں 4068 اساتذہ نے کورونا وائرس کے ایس او پیز اور اسکے سائیکالوجیل سپورٹ کے حوالے سے تربیت دی گئی ہے، پائٹ کے 10 سبجیکٹ اسپیشلسٹس نے مینول بنانے اور 69 ماسٹر ٹرینرز کو تربیت دی، اسی طرح 1774 سی پی ڈی کے ٹرینڈ اساتذہ نے بھی تربیت حاصل کی۔Accelerated Learning Progamکے حوالے سمیت دیگر امور کے بارے میں بھی متعلقہ حکام نے بریفنگ دی۔محکمہ ثانوی تعلیم کی گزشتہ 6 ماہ کی کارکردگی اور آئندہ مالی سال کا روڈ میپ کے لیے اٹھائے جانے والے چند اقدامات : تین دہائیوں کے بعد محکمہ ثانوی تعلیم کے اساتذہ کی بڑے پیمانے پر پرموشن اگلے گریڈ میں مجموعی طور پر 1451 ایس ایس ٹیز کی ترقی کی منظوری دی گئی جس میں 848 میل ایس ایس ٹیز اور 603 فیمیل ایس ایس ٹیز شامل ہیں جو کہ اگلے گریڈ میں ہیڈ ماسٹر، ہیڈ مسٹریس اور سبجیکٹ اسپشلشٹ و دیگر انتظامی پوزیشنوں پر اپنی پیشہ ورانہ زمہ داریاں احسن طریقے سے سر انجام دے رہے ہیں۔ گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن بلوچستان ایجوکیشن پروجیکٹ (GPE-BEP) کے ذریعے بھرتی کیے گئے(1493) اساتذہ کی مستقلی جو کہ عرصہ دراز سے اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ ضلع کیچ کے (114) اساتذہ کی خدمات دوبارہ بحالی۔ موجودہ تعلیمی سیشن 2022 سے بلوچستان میں سنگل نیشنل کریکولم (SNC) (پری گریڈ I-V) کا پہلا مرحلہ متعارف کرایا گیا۔ بلوچستان بھر کے سکولوں میں آؤٹ آف سکولز بچوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنیاور ان کے اندراج کے لیے پورے بلوچستان میں داخلہ مہم کا آغاز جس کے سبب صوبہ بھر میں ہزاروں بچوں نے اسکول کا رخ کیا اور حکومت کی جانب سے متعین کردہ اہداف سے زیادہ بچوں کا داخلہ کسی کامیابی سیکم نہیں۔ سکولز کی سطح پر EST، JET، PET، JDM، JAT، MQ اور JVT کی پوسٹوں کی اپ گریڈیشن پر موثر کاروائی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور صوبائی وزیر تعلیم میر نصیب اللہ مری نے 24 نومبر 2021 کو بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ (BES-II) پروگرام کا باقاعدہ افتتاح کیا ، اس اہم منصوبہ کے تحت یورپی یونین (EU) نے بلوچستان میں تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے حکومت بلوچستان کو “بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ (BES-II) پروگرام” کے بینر تلے 18 ملین یورو فراہم کیے ہیں جس کا نفاذ حکومت بلوچستان اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف ہیں اس پروگرام کے تحت پانچ سال کی مدت میں بلوچستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز رکھا جائے گا۔ بلوچستان کابینہ کی منظوری کے بعد اور نیشنل ایجوکیشن ڈویلپمنٹ پارٹنرز کی توثیق سے وزیر تعلیم میر نصیب اللہ مری نے 21 دسمبر 2021 کو بلوچستان ایجوکیشن سیکٹر پلان (2020-25) کا باقاعدہ اجرا کیا۔ اس اہم دستاویز کو حکومت بلوچستان نے گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن (GPE) اور یونیسیف کے تعاون سے اپنا دوسرا تاریخی بلوچستان ایجوکیشن سیکٹر پلان (2020-25) تیار کیا۔ اس پلان میں تمام پچھلے جاری کردہ سیکڑ پلان کے تجربات کا احاطہ کیا گیا ہے اور اس کو مرتب کرنے میں محکمہ تعلیم کے حکام اور ماہرین سمیت ڈوپلمنٹ پاٹنررز کی تکنیکی سپورٹ رہی ہے۔ اس پلان میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کو ہر سطح پر یقینی بنایا گیا ہے، اس پلان میں تعلیم تک سب کی رسائی، ملکی اور بین الاقوامی مرتب کردہ تعلیمی اہداف و اعدادوشمار میں مثبت اشاریوں کا حصول، ڈیٹا اور ریسرچ ، گورننس و منیجمنٹ، تکنیکی و پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت کی موضوعات سمیت مسقبل کے لائحہ عمل کا واضح روڈ میپ موجود ہے۔ اس پلان میں بہتر تدریسی نظام، رسائی و شرکت کے لیے طلبا و طالبات کی غیر رسمی تعلیم کے مواقع میں اضافے، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، تحقیق و منصوبہ بندی میں اصلاحات کو بلوچستان کے معروضی حالات کے عین مطابق سرانجام دینے، امتحانات اور اسسمنٹ کے نظام میں بہتری لانے ، محکمہ تعلیم کی انتظامی معاملات میں اصلاحات، طلبا و طالبات کی نگہداشت و فلاح و بہبود کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی سمیت فارغ التحصیل طلبائ￿ کو تکنیکی و فنی تعلیم میں پیشہ ورانہ مواقعوں کی فراہمی شامل ہے۔گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کی جانب سے 20 ملین ڈالر کی خطیر امداد سے یونیسیف کے زریعے بلوچستان بلوچستان ایجوکیشن سیکٹر پلان (2020-25) پر مکمل عملدرآمد کے لیے “بلوچستان اسٹوڈنٹس لرننگ امپروومنٹ پروگرام” کے بینر کے تحت بلوچستان کے طلبائ￿ کو جدیدیت پر مبنی سیکھنے میں بہتری کے لیے پرائمری اسکول کے بچوں کی خواندگی اور تعداد کی مہارت ، پرائمری اسکول کے اساتذہ کے مواد کے علم اور تدریسی مہارتوں کو طلبائ￿ کے سیکھنے کے نتائج کی بہتری کے لیے اہم بنایا جائے گا۔ وفاقی حکومت کے تعاون سے بلوچستان میں ASPIRE پروجیکٹ کا آغاز کیا۔ اس پروگرام کے تحت وفاقی حکومت پانچ سالوں تک 3455 ملین روپے حکومت بلوچستان کو فراہم کرے گا۔ اس پروگرام کے تحت بلوچستان کے (22) پسماندہ اضلاع میں تعلیم تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے پانچ سال کی مدت میں جامع اور رسپانس ایجوکیشن (ASPIRE) پروجیکٹ کی کارکردگی کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائینگے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت نے حکومت بلوچستان کو مالی سال 2021-22 کے لیے حکومت بلوچستان کو 518 ملین روپے فراہم کردہ فنڈز ابتدائی مرحلے میں بلوچستان کے پسماندہ چھ (06) اضلاع میں تعلیم تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ جس میں اس کو ASPIRE پروجیکٹ کے تحت پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (PMU) کے ذریعے لاگو کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پروجیکٹ (BHCIP) کے ذریعے بلوچستان کے چار اضلاع چاغی، پشین، قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ جن میں افغان مہاجرین کی کثیر آبادی آباد ہے ان اضلاع میں تعلیمی خدمات میں بہتری کے لیے “بلوچستان ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پروجیکٹ (BHCIP)” کے تحت ان اضلاع میں قائم (40) پرائمری اسکولوں کو مڈل لیول تک اور (16) مڈل اسکولوں کو ہائی لیول تک اپ گریڈ کیا گیا ہے تاکہ مہاجرین اور میزبان کمیونٹیز کے بچوں کی تعلیم تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد بلوچستان ہیومن کیپٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ (BHCIP) کے ذریعے توجہ مرکوز اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کیا جانا ہے اور اساتذہ کو ان کی تدریسی صلاحیتوں میں بہتری کے لیے پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع فراہم کرنا شامل ہے۔رسپانس ریکوری اینڈ ریزیلینس ایجوکیشن پراجیکٹ جو کہ وفاقی حکومت کی منسٹری برائے فیڈرل ایجوکیشن و پروفیشنل ٹریننگ کے تحت گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کی جانب سے فراہم کردہ کورونا وائرس کی وبائی صورتحال کے پیش نظر صوبے کے پسماندہ 19 اضلاع میں بچوں کو COVID-19 کی وبائی امراض سے بچانے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہیلتھ کٹس فراہم کی ہیں۔پروجیکٹ Education Cannot Wait کے تحت غیر سرکاری تنظیم بلوچستان ررول سپورٹ پروگرام اور ترقی فاؤنڈیشن کے تحت صوبے کے مختتلف اضلاع میں تعلیمی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ حکومت بلوچستان، سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بلوچستان بھر میں مختلف کیٹیگریز کی (1543) خالی آسامیوں پر غیر تدریسی عملے (BPS-01 سے 15) کی بھرتی کا آغاز کر دیا ہے۔حکومت بلوچستان ثانوی تعلیم کی سکولوں میں تدریسی عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بلوچستان بھر میں BPS-09 سے 15 میں تقریباً (8143) اساتذہ کو بھرتی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ جس میں بھرتی کے لیے تجویز کردہ پیشہ ورانہ اہلیت میں ایک بار کی رعایت کی حکومت کو تجویز دی ہے۔حکومت بلوچستان، سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بلوچستان پبلک سروس کمیشن (BPSC) کے ذریعے (450) IT اساتذہ (BPS-17) بھرتی کر رہا ہے۔ آئی ٹی ٹیچرز (BPS-17) کی بھرتی کا مقصد بلوچستان بھر کے سرکاری سکولوں میں آئی ٹی کی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔محکمہ سیکنڈری ایجوکیشن اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی اشتراک سے صوبے کے مستحق خاندانوں کے طالب علموں کو انکی تعلیمی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں سر انجام دینے کے لیے مشترکہ منصوبے کے تحت بی آئی ایس پی صوبہ کی رجسٹرڈ مستحقِ خاندانوں کے بچوں، بچیوں کی مالی اعانت کو یقینی بنا رہی ہے۔ جس میں بچیوں کو 2000 روپے پرائمری سطح پر جبکہ سیکنڈری سطح پر 3000 روپے، ہائیر سیکنڈری سطح پر 4000 روپے ، طالب علم بچہ کو 1500 روپے پرائمری سطح پر، 2500 روپے ثانوی سطح پر اور3500 روپے ہائر سیکنڈری کی سطح پر وظیفہ کے طور پر دیے جا رہے ہیں۔

 

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

3 Comments
  1. […] (مسائل نیوز) حکومت بلوچستان میں دراڑیں، وزیراعلی بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے […]

  2. […] آباد (مسائل نیوز) وزیراعظم نے گریڈ 1 سے 16 کے ملازمین کی اپ گریڈیشن کی منظوری دیدی ہے۔روزنامہ جنگ میں رانا غلام قادر کی خبر کے مطابق […]

  3. […] کی لوکل ٹرین میں خواتین لڑپڑیں،ویڈیول […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.