MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

انعامات کی رات شب معراج

0 572

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر:رخسانہ اسد
شب معراجسرداردوجہاں کا عظیم معجزہ ہے جسے قرآن مجیدمیں بیان کیا گیا ہے،،(ترجمہ)پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کورات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سفر کرایا،،جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی آیات دکھائیں،بے شک اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے۔(سورةبنی اسرائیل)کچھ بدنصیب کہتے ہیں شب معراج محض ایک افسانہ ہے کہانی ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ چندلمحوں میں کوئی آسمان کی سیرکرکے واپس آجائے یعنی کنڈی جانے سے پہلے کی طرح ہل رہی ہوبسترگرم ہووضوکاپانی چل رہاہوتوان نادانوں کیلئے ایک ہی جواب ہے کہ جب جسم سے روح نکل جائے توجسم Pauseہوجاتاہے کیونکہ دنیاوآخرت آپ کیلئے بنائی گئی ہے ۔واقعہ شب معراج کی پوری تفصیل کیلئے توکتابین بھی کم پڑجائیں مگرپھربھی ہماری طرف سے واقعہ شب معراج سے متعلق چند سطریںملاحظہ فرمائیں،

معراج کا مبارک سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت بیداری میں فرمایا وہ کوئی خواب نہیں تھا۔ مکہ مکرمہ سے براق پر سوار ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس پہنچے، یہاں دو رکعت نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کی، پھر بیت المقدس سے آسمان پر تشریف لے گئے، ہرآسمان میں وہاں کے فرشتوں نے آپ کااستقبال کیا اور ان انبیائے کرام سے ملاقات ہوئی جن کا مقام کسی معین آسمان میں ہے، مثلاً چھٹے آسمان میں حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام سے اور ساتویں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انبیائے کرام کے مقامات سے اور آگے تشریف لے گئے اور ایک ایسے میدان میں پہنچے جہاں قلمِ تقدیر کے لکھنے کی آواز سنائی دے رہی تھی اور آپ نے سدرة المنتہیٰ کو دیکھا کہ جس پر اللہ جل شانہ کے حکم سے سونے کے پروانے اور مختلف رنگ کے پروانے گررہے تھے اور جس کو اللہ کے فرشتوں نے گھیرا ہوا تھا،

اسی جگہ حضرت جبرئیل امین کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا جن کے چھ سو بازو تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کو بھی دیکھا اور جنت، دوزخ کا بھی بچشم خود معائنہ فرمایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر اول پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا حکم ملا پھر تخفیف کرکے پانچ کردی گئیں، وہاں سے واپسی پر بیت المقدس ہی میں اترے، اور ان تمام انبیائے کرام کے ساتھ نماز ادا فرمائی جو رخصت کرنے کے لیے بیت المقدس تک ساتھ آئے تھے، پھر وہاں سے براق پر سوار ہوکر اندھیرے میں مکہ معظمہ پہنچ گئے۔یہ توتھامختصرترین اگرتھوڑی اورروشنی دالی جائے تورجب کی ستائیسویں شب کو سرکار دو عالم،حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر آرام فرما رہے تھے کہ فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے آکرحضور پر نور آقا دو جہاں سرور کائنات کو جگایاجب اللہ کے محبوب اٹھے تو جبرائیل امین علیہ السلام نے عرض کی ،آقادوجہاں اللہ عزو جل نے آپ کو اپنی ملاقات کے لیے بلایا ہے۔

- Advertisement -

آپ چلنے کے لیے تیار ہوئے تو جبرائیل امین علیہ السلام نے حضور کا سینہ اقدس چاک کیا ،پھر اسے آب زم زم سے دھویا گیا ،پھراسے حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیاپھر جبرائیل امین علیہ السلام نے جنت سے براق لائے پھرتاجدار مدینہ براق پر سوار ہو کربیت المقدس تشریف لائے ، براق کی تیز رفتاری کی یہ حالت تھی کہ اس کا قدم جس جگہ پڑتا تھا جہاں اس کی نگاہ کی آخری حد ہوتی تھی بیت المقدس پہنچ کر براق کو اس جگہ باندھ دیا گیا جہاں انبیاء السلام اپنی سواریاں باندھتے تھے۔آپ نے تمام انبیاءعلیہ السلام اور رسولوں کی امامت کرائی ۔اللہ کے محبوب نے تمام انبیاءعلیہ السلام سے ملاقات کی سب سے پہلے آپ کی حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اس کے بعد حضرت یحییٰ علیہ السلام سے پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے،حضرت موسی ٰ علیہ السلام سے،حضرت ادریس علیہ السلام سے،حضرت یوسف علیہ السلام سے،حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اور آپ نے تمام انبیاءعلیہ السلام سے ملاقات کی اور سب انبیاءعلیہ السلام نے آپ کو خوش آمدید کہااور صالح پیغمبرکہہ کر استقبال کیاپھر آپ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی

جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کرایا گیااس کے بعد آپ سدرةالمنتہیٰ پر پہنچے یہاں پر حضرت جبرائیل امین علیہ السلام رک گئے اور فرمایا یا رسول اللہ میں اس سے آگے نہیں جا سکتا پھرکیونکہ میں آگے گیاتومیرے پرجل جائیں گے اللہ نے اپنے محبوب کوعرش بلکہ عرش کے اوپرجہاں تک چاہابلا لیا سدرةالمنتہیٰ سے عرش کا نورانی سفر،رب کریم سے ملاقات اور تقرب جسے قاب قوسین سے تشبیہ دی گئی،،آپ نے اکیلے کیا آپ کو اسی معراج کے سلسلے میں پچاس نمازوں کا تحفہ بھی عطا کیا گیاپھر حضرت موسی ٰ علیہ السلام سے بار بار ملاقات ہوئی جو اللہ پاک کے لطف و انعام سے تعداد میں پانچ رہ گئیں لیکن ثواب پچاس کا ملے گا۔اور اللہ کریم نے معراج کی رات کواپنے محبوب کو اور بھی بہت سے انعامات سے نوازاجس میں سورة (البقرہ) کی آخری آیات جو شخص اس آیات کی تلاوت کر ے گا االلہ پاک امت محمدیہ کے تمام گناہ معاف فر ما دے گا۔سوائے شرک کے۔جب اللہ کے محبوب معراج سے واپس تشریف لائے آپ کے دروازے کی کنڈی بھی ہل رہی تھی،

بستر بھی گرم تھا اور وضو کا پانی بھی چل رہا تھاصبح جب آپ نے قریش کے سامنے شب معراج کا ذکر کیا تو یہ سن کرقریش کو بہت تعجب ہوا کچھ بد نصیب لوگوں نے آپ کی بات کوتسلیم نہ کیا اور بعض لوگوں نے بیت المقدس کے متعلق سولات بھی کیے جس کا سرکار دو عالم صحیح جواب دیے اور جب ابو جہل کو پتا چلا تو ابوجہل فوری بھاگ کر حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے پاس گیااور کہاکہ رات کے تھوڑے سے حصے میں آپ کے دوست محمد بن عبداللہآسمانوں کی سیر کر کے آ گئے ہیں یہ کوئی ماننے والی بات ہے توحضرت ابو بکر صدیق ؓ نے ابو جہل کو بہت خوبصورت جواب دیا کہ اللہ کے محبوب نے جو فرمایا یہ سچ ہے اس میں کوئی حیرانگی والی بات نہیں ہے۔شب معراج کی تصدیق کرنے پرحضرت محمد مصطفی نے آپ ؓ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا۔اور اس میں کوئی شک نہیں سفر معراج جہاں آپ کی عظمتوں اوررفعتوں کا اظہار ہے وہاں پوری امت کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور نعمتوں کا اعلان بھی ہے۔اللہ پاک ہم سب کو شب معراج سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ آخرمیں آقا کے حضورسرخروہوکرلبوں پرمسکان سجاسکیں۔آمین

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.