MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کام کرنے کیلئے نظریہ اور ہمت کی ضرورت ہے کسی بھی قوم کیلئے اقدامات پر اس قوم کے ہر شخص تک پہنچنا چاہیے۔ صوبے کے ہر ضلع کے یوتھ کو شامل کرنے کی ضرورت ہے بلوچستان میں مینٹل ہیلتھ بڑا مسئلہ ہے،یونائیٹڈ نیشن ڈویلپمنٹ پروگرام

0 404

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ (مسائل نیوز) یونائیٹڈ نیشن ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی )کے زیر اہتمام حکومت بلوچستان کے ڈائر یکٹریٹ آف یوتھ افیئرز اور یو این ایف پی اے کے تعاون سے بلوچستان یوتھ پالیسی 2021 سے متعلق ملٹی اسٹیک ہولڈرز کیلئے ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر پروگرام منیجر برائے یو این ڈی پی لورا شیریڈن، صوبائی نمائندہ ڈاکٹر ظفر احمد، یو این ڈی پی کے کنسلٹنٹ داؤد ننگیال، کوئٹہ آن لائن کے بانی ضیاء الرحمن، سوشیو پاک کے امان اللہ کاکڑ، عبدالمالک اچکزئی ،نمرہ پرکانی، زرغونہ خان و دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ کام کرنے کیلئے نظریہ اور ہمت کی ضرورت ہے کسی بھی قوم کیلئے اقدامات پر اس قوم کے ہر شخص تک پہنچنا چاہیے۔ صوبے کے ہر ضلع کے یوتھ کو شامل کرنے کی ضرورت ہے بلوچستان میں مینٹل ہیلتھ بڑا مسئلہ ہے بلوچستان میں بدامنی کی صورتحال اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری کی وجہ سے لوگ ذہنی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ںدقسمتی سے قدرتی معدنیات اور وسائل سے مالامال صوبے میں نوجوانوں کیلئے کوئی پالیسی نہیں بنائی جاسکی بلکہ اس ضمن میں ریسرچ کا بھی فقدان ہے۔ شہری علاقوں سمیت دیہی علاقوں میں بیشتر اپنا تعلیمی سلسلہ مکمل کرنے کے بعد گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بامشقت کام کرنے پر مجبور ہیں۔ سیمینار کے شرکاء نے بلوچستان کے نوجوانوں کوعلم و ہنر کے حوالے سے درپیش مشکلات پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی سطح پر پالیسی کی تشکیل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ یوتھ پالیسی برائے 2021ء کی ڈرافٹ پر وزیراعلیٰ بلوچستان ،صوبائی وزیر برائے امور نوجوانان ،سیکرٹری اور ڈائریکٹر یوتھ افئیرز کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان یوتھ پالیسی پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ 18مشاورتی سیشنز منعقد کئے گئے جن میں 7سو سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں نوجوانوں کودرپیش مشکلات خصوصاً معاشی وسماجی چینلجز ،روزگار، تعلیم و ،صحت اور صنفی مساوات کے علاوہ نوجوانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ جیسے مسائل کوپالیسی کا حصہ بنایاگیاہے۔ پروگرام میں افغان رفیوجز نے بھی آن لائن ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.