صوبے میں سیاحت کے شعبے کو ترقی دے کر بلوچستان کے مثبت اور پرامن تشخص کو اجاگر کیا جائے گا،سرفراز بگٹی
اسلام آباد،کوئٹہ(مسائل نیوز) وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں سیاحت کے شعبے کو ترقی دے کر بلوچستان کے مثبت اور پرامن تشخص کو اجاگر کیا جائے گا صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سیاحت کے فروغ کے لیے نجی و سرکاری اشتراک کے تحت سرمایہ کاروں کو ون ونڈو سسٹم کے تحت تمام سہولیات ایک ہی مرکز سے فراہم کی جائیں گی تاکہ انہیں کسی قسم کی سرکاری رکاوٹ یا غیر ضروری مراحل کا سامنا نہ کرنا پڑے یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز بلوچستان ٹورزم فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی وزیر اعلی بلوچستان نے کہا کہ میرٹ پر مبنی نظام ہمیشہ بہتر نتائج دیتا ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ صوبے میں میرٹ کی بنیاد پر منتخب باصلاحیت افسران اور ماہرین اپنی کارکردگی سے ترقی و استحکام کا مظاہرہ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری برائے سیاحت نوابزادہ زرین خان مگسی، سیکرٹری ثقافت سہیل الرحمن بلوچ، اور بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ سمیت تمام افراد میرٹ، محنت اور دیانتداری کا عملی نمونہ ہیں جن کی کارکردگی صوبے میں ایک مثبت مثال بن کر سامنے آئی ہے وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کا حقیقی تشخص امن، محبت اور مہمان نوازی سے عبارت ہے مگر بدقسمتی سے صوبہ عمومی طور پر منفی خبروں تک محدود دکھایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ آج کے فیسٹیول نے بلوچستان کے خوبصورت، ثقافتی اور پرامن چہرے کو اجاگر کیا ہے جو اصل بلوچستان کی نمائندگی کرتا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں چند منفی عناصر پورے صوبے کی مکمل تصویر نہیں بلکہ اصل بلوچستان وہ ہے جو فطری حسن، دلکش مناظر اور بے مثال ثقافتی ورثے کا امین ہے اس حسن کو دنیا کے سامنے لانے اور اسے دریافت کرنے کی ضرورت ہے وزیر اعلی نے کہا کہ حکومت بلوچستان اپنے تین سالہ سیاحتی منصوبے پر عمل پیرا ہے جس میں بنیادی توجہ رسل و رسائل کی بہتری، انفراسٹرکچر کی ترقی، اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے سیاحتی امکانات کو حقیقت میں بدلنے پر مرکوز ہے انہوں نے بلوچستان ٹورزم فیسٹیول کے کامیاب انعقاد پر تمام منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مثبت اور تخلیقی اقدامات نہ صرف بلوچستان کی پہچان کو نیا رنگ دے رہے ہیں بلکہ صوبے کے روشن اور پرامید مستقبل کی بنیاد بھی مضبوط کر رہے ہیں۔بلوچستان کی سرکاری جامعات کے چانسلرز کے وفد کی وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی سے ملاقات، جامعات کے مسائل اور تنخواہوں کی ادائیگی پر کمیٹی تشکیل۔ وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈ منیجمنٹ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ کی قیادت میں صوبے کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کے وفد نے گزشتہ روز وزیرِاعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کی۔ملاقات میں بلوچستان کی جامعات کے وائس چانسلرز نے صوبے میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے فروغ، جامعات کو درپیش مالی مسائل، اور بالخصوص اساتذہ و انتظامی عملے کی تنخواہوں کے مسئلے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وائس چانسلرز کے وفد میں پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ وائس چانسلر بیوٹمز، پروفیسر ظہور بازئی وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان,پروفیسر شبیر احمد لہڑی وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز شامل تھے۔وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جامعات کے وائس چانسلرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اعلی اور معیاری تعلیم صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، جامعات،ان کے اساتذہ اور تعلیمی اداروں ہمارا اثاثہ ہیں، قوم کے معمار اساتذہ کی میری نگاہ میں عزت و احترام والدین سے بھی بڑھ کر ہے، وزیر اعلی نے وفد کواس امر کی یقین دہانی کرائی کہ حکومت جامعات کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور تنخواہوں کے مسئلے پر جلد فیصلہ کیا جائے گا۔وزیر اعلی بلوچستان نے اس ضمن میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی، جو ایک ہفتے کے اندر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ جامعات کے مسائل پر قائم کی گئی کمیٹی میں پروفیسر خالد حفیظ وائس چانسلر بیوٹمز،پروفیسر ظہور بازئی وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی اور وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر شبیر احمد لہڑی سیکریٹری ہائر ایجوکیش صالح بلوچ، سیکریٹری خزانہ عمران زرکون اور پرنسپل سیکریٹری برائے وزیرِاعلیٰ بابر خان شامل ہیں۔وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈ منیجمنٹ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ نے وزیراعلٰی کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی اور صوبائی حکومت کی جامعات کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گورنر بلوچستان شیخ جعفر مندوخیل اور وزیراعلٰی سرفراز بگٹی کی جامعات اور اعلی تعلیم کی جانب عملی و سنجیدہ اقدامات سے بلوچستان میں تعلیمی منظر بہتری کی جانب گامزن ہے۔