MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

میرا چیئرمین

0 462

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان مقبول شخصیت کے حامل لیڈر ہیں, ان جیسا کامیاب کپتان تاحال پاکستان کرکٹ ٹیم کو مہیسر نہیں آیا ہے, 1992 کا ورلڈ کپ, شؤکت خانم اسپتال اور نمل یونیورسٹی کا قیام, عمران خان کے قابل تحسین اقدامات ہیں, عمران خان کی شخصیت اور  اقدامات کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ انداز لگانا مشکل نہیں ہوگا کہ ان کے اندر قائدانہ صلاحیتؤں کے ساتھ ساتھ خؤد نمائی, خؤد پرئزائی اور از خود کریڈٹ لینے کی بھی عادت ہے, 1992 کے ورلڈ کپ کی
وننگ اسپیچ سے لیکر آج تک کی تقاریر میں خان صاحب اپنی تعریفیں ہی کرتے نظر آتے ہیں, 1992 کی جیت, بہتر کپتانی کے ساتھ بہترین ٹیم پرفارمنس کا بھی نتیجہ تھا مگر خان صاحب نے اس کا کریڈٹ خؤد لیا, عمران خان کو شؤکت خانم اسپتال کے قیام کے سلسلے میں نوازشریف نے بطور وزیراعظم انہیں زمین الاٹ کی اور  بطور عطیہ رقم بھی دی مگر عمران خان اس کا ذکر تک نہیں کرتے ہیں, سینئر صحافی سلیم صافی کے بقول تحریک انصاف کے قیام کی ابتدائی دنوں میں جنرل حمید گل مرحوم عمران خان کے ساتھ پیش پیش تھے بعد ازاں اپنی طبیعت کے پیش نظر چیئرمین تحریک انصاف نے ان کے ساتھ بھی وہی کیا جیسا وہ جہانگیر ترین کے ساتھ کرتے نظر آئے ہیں, کہا جاتا ہے کہ علیم ڈار بھی ان کی اے ٹی ایم رہے ہیں مگر خان صاحب ان سے بھی وفا نہ کرسکے, خان صاحب کی اس فطرت کو  اردو میں احسان فرامؤشی کہتے ہیں, خان صاحب کا ہر انداز ہی نرالا رہا ہے, وہ پاکستان کے پہلے وہ مرد باؤقار ہیں جن کی وزارت عظمی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے اب اگر ان کے مطابق شہباز شریف عدم اعتمادی کا شکار ہو بھی جاتے ہیں تب بھی پاکستان کی تاریخ میں عدم اعتماد کے ریکارڈ پر عمران خان کا نام پہلے نمبر پر ہوگا, خان صاحب کا کہنا ہے وہ آئے جمہوری طریقے سے تھے مگر انہیں بھیجا غیر جمہؤری طریقے سے گیا, جبکہ تحریک عدم اعتماد عین جمہؤری طریقہ ہی تھا جس کے لئے خان صاحب بہت بے چین تھے بار بار اپنی اپوزیشن سے ضد کر رہے تھے لاؤ عدم اعتماد, اور جب یہ تحریک آگئی تو خان صاحب کو بذریعہ کار بنی گالہ جانا پڑا, کیونکہ ہیلی کاپٹرز کا دور گزر چکا تھا, خان صاحب اپنے آپ کو پاکستان کی سلامتی کا سراپا سمجھتے ہیں, ان کی دانست کے مطابق اگر وہ دوبارہ وزیراعظم نہیں بنے تو خاکم بدہن اس ملک کے تین ٹکڑے ہوجائیں گے, چند روز قبل ایک قلم کار نے خان صاحب کی مدح سرائی میں زمین ؤ آسمان ایک کرتے ہوئے انہیں اندھیری راتوں کے اس مسیحا سے تشبہی دینے کی کوشش کی جیسے شہنشاہ نہیں بلکہ عمران خان کہتے ہیں, کالم نگار کے مطابق بطؤر وزیراعظم عمران خان نے انہیں اپنے اور سعؤدی عرب کے شہزادے محمد بن سلمان کے درمیان ہؤنے والی گفتگو کے بارے میں باخبر کیا, صاحب قلم کے مطابق عمران خان نے سعودی عرب کو ایران پر حملے سے روکا اور پاکستان کو خانہ جنگی سے بچا لیا, کالم نویس کا کہنا ہے کہ دو ممالک کے سربرہان کے مابین ہونے والی بات چیت کو عمران خان نے خود انہیں بتایا جبکہ وہ اس وقت وزیراعظم کے اہم عہدے پر فائز تھے, مجھے حیرت ہے عقل سلیم کے بانی میرے محترم لیڈر ایسی حماقت کیسے کرسکتے ہیں اور اگر وہ ایسی بے ؤقوفی کر چکے ہیں تو کیا وہ پھر اس اہم عہدے کے قابل ہیں?, ان کی ان ہی حماقتؤں کی وجہ سے پاکستان کے سفارتی تعلقات کشیدگی کی جانب چلے گئے تھے,  پھر ان کی احسان فراموشی کی عادت نے انہیں اہم شخصیات سے دور کیا, یہ وہی شخصیات ہیں جنہیں کبھی وہ پارٹنر کہا کرتے تھے, بعد ازاں اب وہ انہیں میر جعفر اور میر صادق کی نام سے پکارتے ہیں, مزے کی بات تو یہ ہے کہ ہر ایک کے احسانات لیکر اس کی تذلیل کرنے والے عمران خان سائیں عثمان بزدار کو ٹھیک طرح سے نہیں پرکھ پائے یا پھر ستاروں کی چالؤں کا شکار ہوگئے کیونکہ جنہیں وہ وسیم اکرم پلس کہتے تھے وہ اپنی ناقص کارگردگی کی وجہ سے عمران خان کی وزارت عظمی کو مائنس کر گئے اب حالت یہ ہے کہ عمران خان اس مرد مجائد کا نام بھی نہیں لیتے ہیں, پاکستان کے عوام کے لئے مقام فکر یہ ہے کہ کیا ایسا شخص جس فطرت میں احسان فراموشی ہو, جؤ اتنا غیر زمے دار ہو کہ قومی سلامتی کے معاملات کو لیک کرتا ہو, جو پے در پے غلطیاں کرئے, جس کی ضد کو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بھگت چکا ہو , کیا اس کے ہاتھ میں ایک بار پھر پاکستان کی تقدیر دی جاسکتی ہے?

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.