MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

اسلامی صدارتی نظام ناگزیر ۔۔۔۔

0 285

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کالمکار: جاوید صدیقی

- Advertisement -

آج کا کالم ایک ایسے موضوع عنوان پر محیط ھے جو زمانہ حال کی ضرورت کے مطابق ناگزیر ھوچکا ھے۔ ھم پندرہ ویں صدی کے چولیس ویں سال سے گزر رھے ھیں گویا پندرہ ویں صدی کے چوالیس واں سال، دنیا کی دوسری نظریاتی اسلامی ریاست پاکستان جن حالات سے دوچار ھے اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں کی طرز حکومت یعنی جمہوریت ھے۔ یاد رھے نظام جمہوریت مکمل نظام اسلام کی ضد ھے یعنی اسلام کے برخلاف یہی وجہ ھے کہ کراچی تا کشمیر تک عدل و انصاف، معاشی استحکام، انسانیت و بھائی چارہ، اتحاد و اتفاق، خوشحالی و ترقی سے کوسوں دور ھوچکا ھے وہ تمام عوامل آزادانہ ھورہے ھیں جو کسی بھی ریاست و ملک کو تہس نہس کرنے کیلئے کافی ھوتے ھیں۔ اس نظام سے جتنی جلدی ھو جان چڑائیں کیونکہ تاخیر کے سبب یہ نظام جمہوریت جسے میں نظام دجالیت کہتا ھوں اپنے فتنوں اور فساد کی آگ سے خاکستر کردیگا پھر فور اسٹار جرنلز ھوں یا جسٹس صاحبان کوئی بھی ملک میں اس شان و شوکت سے زندگی بسر نہیں کرسکے گا کہ جس طرح آزاد ریاست و آزاد ملک کے لوگ کرتے ھیں۔ سنہ اکہتر دور نہیں جب اکسیر ھوگئے تھے یہی جمہوریت کے علمبردار تھے جنھوں نے پاؤں میں بیڑیاں ڈلوادی تھیں پہلے آپ خود کو سنبھالیں اور مکمل دین اسلام میں داخل ھوجائیں یہ اس وقت تک ممکن نہیں ھوسکتا جبتک کہ نظام کی تبدیلی نہ کی جائے۔ آپ فور اسٹار جنرلز اور تمام جسٹس صاحبان بشمول صدر مملکت اس بابت بھرپور لائحہ عمل تیار کرکے دین اسلام کے خاطر بھرپور خطرناک ترین عمل اقدام اٹھالیں میرا ایمان ھے کہ اللہ ﷻ و رسول اللہ ﷺ کی شفقت و رحمت اور توجہ ضرور ھوگی بس اپنے اندر جذبہ ایمانی کو بیدار کرنا ھوگا۔۔۔۔ معزز قارئین!! اگر مسلم ممالک یورپی یونین کی طرز پر ایک مضبوط دفاعی و معاشی اتحاد قائم کرنےمیں کامیاب ہوگئے تو دنیا میں ایک نیا ورلڈ آرڈر قائم ہوجائیگا۔ یہ نیو ورلڈ آرڈر دنیا میں امن لانے کا سبب بھی بنے گا۔
مسلمان ممالک اگر اتحاد کی مضبوط لڑی میں پرو دئیے جائیں تو اس سے نہ صرف وہ تختہ مشق بننے سے بن جائیں گے بلکہ ہر ملک معاشی اتحاد ان کیلئے خوشحالی اور ترقی کے نئے دروازے کھول دیگا۔ یہ ایک فطری جغرافیائی اتحاد ہوگا۔ آٹھ مسلم ممالک جن میں انڈونیشیا، ملائیشیا، مالدیپ، پرونائی، بنگلہ دیش، البانیہ، گیانا اور سوری نام کے علاوہ باقی تمام مسلمان ممالک جغرافیائی اعتبار سے ملحق ہیں چنانچہ وہ باآسانی اپنی سرحدیں کھول کر مشترکہ تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں جب یہ خطہ زمین سنگل مارکیٹ کی صورت اختیار کریگا تو مشرق و مغرب کے مابین عالمی تجارت کیلئے بھی سہولت پیدا ہوگی بلکہ پوری دنیا کی تجارت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوگی۔ ہم جانتے ہیں کہ مسلمان ممالک کے پاس قدرتی وسائل کی بہتات ہے۔ توانائی کے وسیع ذخائر سے مالا مال عرب ممالک دیگر مسلمان ممالک کیساتھ مل کر اس خطہ کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ دنیا میں خام تیل کے ذخائر کا تقریباً اسی فیصد مسلمان ممالک کے پاس خطہ کی تقدیر بدل سکتے ہیں بلکہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہونے لگے گا۔ جو مقام یورپ کا ہے وہی مقام مسلمانوں کا ہوگا بلکہ اس سے کہیں زیادہ۔ دنیا میں خام تیل کے ذخائر کا تقریباً باہتر فیصد مسلمان ممالک کے پاس ہے۔ اسی طرح دریافت شدہ گیس کا تریپن فیصد مسلمان ممالک میں موجود ہے انسانی وسائل کا دنیا میں کوئی متبادل نہیں ہے۔ سنہ دو ہزار نو عیسوی میں شائع ہونے والی او آئی سی کی شماریاتی کتاب کے مطابق مسلمان ممالک کے پاس نو سو ملین افراد کی زبردست افرادی قوت موجود ہے۔ یہ لیبر فورس متوازی طور پر تقسیم ہے اور اس کی استعداد کار یورپی یونین کے مقابلے سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ پاکستان جیسے ذرخیز زمین رکھنے والے ممالک اور اس کی ایٹمی طاقت بھی مسلمان ممالک کا اثاثہ ہیں۔ الغرض مسلمان ممالک کےآپس میں معاشی تعاون سے مسلمان تو مسلمان دیگر غریب ممالک کی بھی تقدیر بدل جائیگی جس کیلئے پاکستان، ترکی، سعودی عرب، مصر اور دیگراسلامی ممالک سمجھ چکے ہیں۔ اسلامی ممالک کی تمام عوام اب انقلاب کی صورت حال کیطرف دیکھ رہی ہے۔ پاکستان اور ترکی کی رہبری میں شروع ہوچکا ہے۔ دیکھئے یہ سب کچھ ممکن ہوتا ہے جب آپ کا دفاع مضبوط ہو آپ پر دشمن حملہ کرنے کی ہمت نہ کرسکتا ہو۔اندرونی غداروں سے مکمل چھٹکارا حاصل ہو۔ پہلے مرحلے میں دفاعی پوزیشن کیطرف پاکستان پہل کرچکا ہے پوری مسلم دنیا کوایک زبردست طریقے سے ریسکیو کررہا ہے۔ جب ہم مضبوط ہوجائیں گے تو جتنی بھی مصنوعات آج دیگر ممالک سے اہم منگواتے ہیں وہ تمام مصنوعات انتہائی سستی مقامی سطح پر مسلم ممالک میں بنائی جائیں گی بلکہ پوری دنیا کو انتہائی سستے داموں اور انتہائی اعلیٰ کوالٹی میں فروخت کی جائیگی۔ آج تو ہم ہر حال میں مجبور اور بلیک میل ہورہے ہیں آئی ایم ایف جیسے اداروں کے ہاتھوں کیونکہ دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا اور یہ سب کچھ اسی جمہوری نظام کے سبب ھوتا آرھا ھے، تقریباً تمام معاشی نظام آئی ایم ایف یعنی یہودیوں کے ہاتھ میں یرغمال ہوچکا ہے پاکستان سمیت پوری دنیا کا۔ جب تک ان کے نظام کو ختم نہیں کیا جاسکتا اور بہت جلد ان کا نظام زمین بوس ہونے والا ہے انشاءاللہ پھر مسلمانوں کی کرنسی نیچے نہیں بلکہ برابری کی بنیادوں پرمسلم مصنوعات، معدنیات سونا، چاندی، تانبا اور تیل کی بدلے مالیت کے برابر کے کاروبار سے شراکت داری ہوگی۔ مسلمانوں کی اپنی جدید ترقی کے راستے گامزن ہونگے بلکہ آزاد ہونگے اس بارے میں ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں ہمدرد یونیورسٹی کے حکیم سعید شہید نے کہا تھا مجھے حکومت کی سطح پر اجازت دیدی جائے میں انگلش میڈیسن ادویات کا نعم البدل بناتا ہوں جوکہ مقامی سطح پر ادویات میڈیسن بنائی جائیگی جو پوری دنیا کو فروخت کی جائیگی انتہائی سستے داموں اور ان ادویات میں کسی قسم کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ بھی نہیں ہوگا لیکن حکیم سعید کوکراچی میں ایم آئی سکس بذریعہ کراچی کی ایک دہشت گرد گروپ کے ہاتھوں شہید کروا دیا گیا۔ اسی طرح دنیا میں بہت ساری مثالیں موجود ہیں جیسے ارفع کریم۔ سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل نے بھی تیل بطور کرنسی استعمال کرنے کا اعلان کرنا ہی تھاکہ اسے بھی شہید کروا دیا گیا اسی طرح معمر قذافی لیبیا اور صدام حسین جو کہ سر عام للکا رہا تھا اسرائیل کو۔ اکثر لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کو آزاد ہوئے اتنے سال ہوگئے مقبوضہ کشمیر اور دیگر فلسطین وغیرہ اب تک کیوں آزاد نہیں ہوئے۔ ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں اس وقت مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے مسلمان کسطرح کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی طرح کی زندگی تمام مسلمان پوری دنیا کے ممالک کی ہیں۔ وہ اس طرح دشمنوں کی بلیک میلنگ اور گھیرے میں ہے۔ ہر علاقے کے حالات ذرا مختلف ہے۔ اتفاق میں برکت ہے سیاسی پارٹیوں سے دوری اختیار کریں اور جتنا جلدی ممکن ہو تمام تر اختلافات ایک طرف رکھ کر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائیں اسلامی صدارتی نظام کیلئے یہی ھماری بقاء، سلامتی، خوشحالی، عزت، وقار، بہادری، شجاعت، آزاد اور خودمختار اسلامی شعائر کی راہ ھے۔ یاد رھے کہ اسلامی ریاستوں کی تباہی و بربادی اس ریاست میں موجود زہریلے منافق غدار اور جھوٹے رہنماؤں کے سبب ہوتی رھی ھے اور ہورھی ھے۔ عثمانیہ دور کی تاریخ چیخ چیخ کر مسلم ممالک کی عوام کو بیدار کررھی ھے اور بتارھی ھے کہ یہ یہود و عیسائی زائینسٹ اور کافر و مشرک تمہارے کھلے دشمن ھیں ان دشمنوں کی سہولتکاری نہ صرف تمہاری ریاست و ملک کو نیس و نابود کرکے رکھ دی گی بلکہ تمہارے معاشرے، اخلاقیات اور ایمان کو بھی داغدار اور سیاہ مائل کردیں گے۔ آج ان یہودی و عیسائی زائینسٹ کا سب سے بہترین ہتھیار جمہوریت ھے۔ انہی بیرونی آقاؤں نےجمہوریت کےذریعے پاکستان کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ھے۔ پاکستانی عوام ہوش کے ناخن کب لیں گے، سب کچھ ان لیڈروں اور حکمرانوں نے تباہ کردیا ھے اور یہاں ضرور یاد رکھیں کہ آپ سب عوام کی بے حسی، لاپرواہی، سستی، مسلسل غفلت اور منافقت کے سبب دشمنانان پاکستان و اسلام کو تقویت ملتی رھی ھے وہ آپ عوام کے ذہنوں کو مفلوج کرنے میں مسلسل کارفرما ھے اور کامیاب ھورھا ھے آپ اور ھم اس کی چالوں کو سمجھنے سے عاری ھیں۔ فیس بک، ٹیوٹر، واٹس اپ اور یوٹیوب و دیگر شوشل میڈیا اس کے بڑے ذرائع اور ہتھیار ھیں وہ آپ سب کو دولت کمانے کے لالچ میں جانے انجانے میں ملک غداری اور گناہ کبیرہ جیسے عوامل کروا بیٹھتا ھے۔ اب بھی وقت ھے سنبھل جائیں وگرنہ اللہ سمجھانا خوب جانتا ھے اس سے قبل کہ اللہ اپنے انداز میں سمجھائے توبہ استغفار کرکے ان دجالی فتنہ بازوں سیاسی رہنماؤں سے مکمل کنارہ کش ھوجائیں اور اپنی تمام تر کوششیں توجہ اور غور و طلب کیساتھ بھرپور اتحاد و اتفاق کرکے نظام ریاست نظام حکومت کی تبدیلی اسلامی صدارتی نظام کیلئے کراچی تا کشمیر ایک آواز ایک وقت بن کر اٹھیں یہی آپکی کامیابی ھے یہی ریاست پاکستان کی مضبوطی اور تحفظ یقینی ھوگا۔۔۔۔۔!!

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.