وفاقی وزیر قانون نے ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ کو غیر آئینی قرار دے دیا
اسلام آباد(مسائل نیوز) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ کو غیر آئینی قرار دے دیا۔انہوں نے کہا ہے کہ نگران حکومت کے علاوہ اور کوئی گجائش نہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ ٹیکنوکریٹ حکومت کسی کی خواہش ہو سکتی ہے لیکن عملاَ ممکن نہیں۔معیشت کے لیے اقدامات آئین کے اندر رہ کر اٹھائے جا سکتے ہیں۔
آئین میں ٹیکنوکریٹ حکومت کی کوئی گنجائش نہیں۔آئین میں واضح ہے کہ وقت سے پہلے اسمبلی تحلیل پر 90 روز میں الیکشن ہوں گے۔وقت کے مطابق اسمبلی کی تحلیل پر 60 روز میں الیکشن ہوں گے۔جبکہ وزیر مملکت برائے تخفیف غربت و سماجی بہبود فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ٹیکنو کریٹ حکومت کے حوالے سے عمران خان روزانہ نیا خواب دیکھتے ہیں،پارلیمنٹ عمران خان کی خواہش پر نہیں آئین اور قانون کے مطابق چلے گی،عمران خان سنجیدہ ہیں تو پنجاب اور کے پی کے اسمبلیاں توڑیں،سیلاب متاثرین آ ج بھی عمران خان کے 15 ارب روپے کے منتظر ہیں،98 فیصد سیلاب متاثرین تک بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رقم پہنچائی جا چکی ہے،عمران خان کے دور میں8 سے9 لاکھ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کارڈز بندکئے گئے۔
پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر اور سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا ہے کہ ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ کی آئین میں کوئی شق نہیں ہے، واحد حل صاف شفاف انتخابات اور 5 سالہ حکومت کو اقتدار کی منتقلی ہے۔ سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما علی زیدی نے کہا کہ ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ کی بہت سی فضول باتیں ہو رہی ہیں، اس کی آئین میں کوئی شق نہیں، اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ اگلی حکومت پالیسیوں پر عمل کرے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جانتے ہوئے کوئی سرمایہ کار نہیں آئے گا کہ نگراں حکومت محدود ہوگی، واحد حل صاف شفاف انتخابات اور 5 سالہ حکومت کو اقتدار کی منتقلی ہے۔