کوئٹہ کی یخ بستہ راتیں عوام کی فریاد اور حکومت سے اپیل
تحریر : میر اسلم رند
بلوچستان کا دل کوئٹہ، جہاں نومبر سے فروری تک سردی ہڈیوں میں اتر جاتی ہے، اس وقت شدید گیس بحران کا شکار ہے۔ درجہ حرارت منفی میں گر چکا ہے، مگر گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہیں، ہیٹر بند ہیں اور شہری مایوسی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ بزرگ، خواتین اور بچے سخت سردی میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، مگر وفاق اور ادارے اب تک خاموش ہیں۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی گیس لوڈشیڈنگ کا عذاب کوئٹہ کے عوام پر مسلط ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کا کہنا ہے کہ رات دس بجے کے بعد گیس کی فراہمی ممکن نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں؟ کیا کوئٹہ کے عوام بنیادی سہولت کے لیے وفاقی اجازت کے محتاج ہیں؟
- Advertisement -
یہ صورتحال صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ انسانی زندگی کا بحران بن چکی ہے۔
لہٰذا حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں کے لیے ضروری ہے کہ فوری عملی اقدامات کیے جائیں
وزیر اعظم پاکستان اس معاملے پر فوری نوٹس لیں۔
وزارتِ توانائی بلوچستان کی سرد ترین ضروریات کو ترجیحی بنیاد پر دیکھے۔
سوئی سدرن گیس کمپنی گیس پریشر بحال کرنے کے لیےہنگامی پلان ترتیب دے۔ بلوچستان کے نمائندے متحد ہو کر عوامی مفاد میں پارلیمنٹ میں آواز اٹھائیں۔ ایل پی جی اور لکڑی کی قیمتوں پر کنٹرول کے لیے ضلعی انتظامیہ مؤثر اقدامات کرے۔ اضافی گیس کوٹہ سرد علاقوں خصوصاً کوئٹہ، زیارت، مسلم باغ اور قلعہ سیف اللہ کے لیے مختص کیا جائے۔
یہ صرف پالیسی یا بجٹ کا مسئلہ نہیں، بلکہ زندگی اور بقا کا معاملہ ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو سردی کے ساتھ عوامی بےچینی بھی بڑھے گی، جو کسی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
اب وقت ہے کہ حکومتِ پاکستان کوئٹہ کے گھروں کو گیس فراہم کرے، تاکہ عوام یہ محسوس کریں کہ ریاست ان کے ساتھ ہے نہ کہ وہ اس کڑکتی سردی میں بھولے جا چکے ہیں۔