MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

آبادی میں اضافہ اور غربت

2 513

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

آبادی میں اضافہ اور غربت
تحریر : محمد نذیر نور

- Advertisement -

دنیا کی آبادی اس وقت7 ارب سے تجاوز کر گئی ہے 2050ءتک دنیا کی آبادی دس ارب اور اس صدی کے آخر تک یہ 16 ارب تک پہنچ جائے گی آبادی میں اضافہ دو دھاری تلوار ہے ایک طرف وسائل میں کمی اور مسائل میں اضافہ تو دوسری طرف اتنی بڑی آبادی کے لیے خوراک کا انتظام ایک چیلنج ہے ان حالات میں آبادی میں خطرناک حد تک اضافہ مستقبل میں سنگین صورتحال کی بھیانک شکل اختیار کر جائے گی۔
ایشیا دنیا کی 65فیصد آبادی کا بوجھ برداشت کررہا ہے اور اس میں تیزی سے اضافہ ہرگزرتے دن کے ساتھ ہونے سے چین ،بھارت ،بنگلہ دیش اور پاکستان کی آبادی 1950ءتک دگنی ہو جائے گی جس سے خطے کی آبادی میں مزیداضافہ ہوگا۔
پاکستان کی آبادی میں اضافہ ایک چیلنج ہے اس وقت آبادی کے لحاظ سے وہ دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے جہاں آبادی میں سالانہ 2فیصد تک اضافہ ہورہا ہے جو کہ خطے میں سب سے زیادہ ہے اگر آبادی میں اضافہ کی رفتاریہی رہی تو 2050 تک پاکستان کی آبادی 35 کروڑ اور آبادی کے اعتبار سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن جائے گا۔قومی غذائی سروے 2018 کے مطابق پاکستان میں پیچیدہ ترین مسائل میں بچوں اور خواتین میں غذائی قلت کا مسئلہ اہم ہے۔ حکومت بلوچستان ڈیو یلپمنٹ پارٹنرز کے توسط سے اقدامات کررہی ہے ۔ صوبے میں46.6 فیصد بچے انتہائی کمزور ، 31 فیصد بچے وزن کی کمی جبکہ 16.5 فیصد بچے موٹاپے کا شکار ہیں© ۔ صوبے میں 22.4 فیصد بچے پانچ سال سے کم عمر بچوں میں شدید خون کی کمی ، 18.2 فیصد پانچ سال سے کم عمر بچے وٹامن اے کی کمی کا شکار ہیں ۔ صوبے کی آبادی کو 5.3 فیصد خوراک کی عدم دستیابی کی شدید صورتحال کا سامنا ہے۔
جیسا کہ ہمیں علم ہے کہ آباد ی کا بڑھنا موجودہ وسائل پر بوجھ کے مترادف ہے کیونکہ اتنی بڑی آبادی کے لیے اناج ، خوراک صحت اور صاف پانی کی اشد ضرورت ہوگی خوراک کے حصول کے لیے انہیں پیداوار دینے کے لئے کھیت ،چراگاہیں اور شکارگاہیں چاہیں ہونگی،خوراک کو کھانے کیلئے پکانے کے لیے ایندھن درکار ہوں گا، پینے کے صاف پانی کی ضرورت ہوگی انہیں رہائش کے لیے جگہ تعمیراتی سامان زرعی، تجارتی اور صنعتی مقاصد کے لیے قدرتی وسائل درکار ہوں گے ایک اندازے کے مطابق دنیا کے کل 70 کروڑ 95 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار ہیں اس فہرست میں پاکستان 118 ممالک میں 11ویں نمبر پر ہے جس کی کل آبادی کا 22 فیصد حصہ غذائی کمی کا شکار ہے صرف گیارہ ممالک ہےں جہاں پاکستان کی نسبت بھوک کے شکار لوگوںکا تناسب زیادہ ہے۔ان ممالک میں زیادہ ترافریقین ممالک شامل ہیں اس کا مطلب پاکستان میں غذائی قلت ایک اہم مسئلہ ہے اور غذائی قلت کا شکار ممالک میں پاکستان تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے ہمارے ملک میں 1.8 فیصد بچے پانچ سال تک پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں۔اس وقت ملک میں 44 فیصد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں آبادی کا پانچواں حصہ غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبورہے اور تعلیمی سہولت کے فقدان کا باعث 40 فیصد سے زیادہ بچے بالغ آبادی ناخواندہ ہے۔اس فہرست میں ہمارے ہمسایہ ممالک افغانستان آٹھویں اور بھارت بالترتیب 22 ویں نمبر پر ہے نائجیریا اور انڈونیشیاسمیت43 1ممالک کی فہرست میں تشویشناک ناک صورتحال سے دوچار ہیں جبکہ اس فہرست میں صحارا ،وسطی افریقہ چاڈ،میڈاگاسکر،سیر الیون اور زمبیا خطرناک حدوں کو چھو رہے ہیں۔
اسی طرح انسانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مطلب یہ بھی ایک صنعتی ،زرعی اور انسانی فضلات میں اضافہ انہیں ٹھکانے لگانے کے لئے وسائل کی ضرورت اور جگہ کی دستیابی مشکل ہوگی جتنے لوگ زیادہ ہوں گے ان میں بیماریاں زیادہ ، ناکافی غذا اور زیادہ غربت ہوگی اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کی باتیں محض دھوکہ ہوں گی۔
آبادی میں تیزی سے اضافے سے مسائل میں مزید بگاڑ غربت ہی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ وسائل میں اضافہ نہ ہونے سے بیشتر حصہ غربت کا شکار ہو جاتاہے دیہاتوں میں آباد لوگوں کا انحصار زراعت اور مویشی پالنے پر ہے آبادی میں اضافہ، ماحولیاتی تبدیلوں اور وسائل کا اندھا دھند اور بے دریغ استعمال سے ہی انھیں غربت کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اپنی خوراک کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دیہات اور پہاڑی آبادی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ وہ چراگاہوں کو اجاڑنے کی حد تک اپنے مویشیوں کو چرانے کے لیے استعمال کرےں ایندھن کے لیے لکڑی کے حصول اور کاشتکاری کے لیے جنگلات کا خاتمہ کریں ان سرگرمیوں سے آلودگی میں اضافہ اور پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے زمین کی ذرخیزی ختم ، زمینی کٹاو¿ میں اضافہ، سیلابوں میں زیادتی ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے اکثر آبادی غربت کا شکار ہو رہی ہے مادی وسائل کی کھپت اور زیادہ منافع کا جنون، غیر مناسب ٹیکنالوجی، کیمیکل ادویات کا استعمال ،قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال اور ماحولیات کی دشمنی سے آبادی غربت کا شکار ہے ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے غربت ماحولیاتی مسائل کی بڑی وجہ بھی ہے۔صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ اسکل ڈیو یلپمنٹ اور ہیومن ریسو رس کو بہتر کریں تو یہ آبادی ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے میں مثبت کردار ادا کرے گی۔ اس ضمن میں ایسے منصوبے اورپلا نز مرتب کرنی کی ضرورت ہے ۔ جس سے ہم افرادی قوت میں اضافہ کریں اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق بھی عوام میں شعور اجاگر کریں ۔ صوبائی حکومت رواں سال کے بجٹ میں اسکل ڈیو یلپمنٹ ، ہیومن ریسو رس اور افرادی قوت میں اضافہ جیسے متعدد مثبت اور تعمیری منصوبے شامل کئے ہیں ۔ نوجوانوں کو صحیح سمت میں گامزن کرنے کیلئے کیریئر کونسلنگ اور ٹیکنیکل ایجو کیشن جیسے منصوبے سے مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی۔
جب تک آبادی کے زاویوں اور خیالات سے متعلق مکمل معلومات نہیں ہوگی تب تک اس پر قابو پانے کے لیے مو¿ثر اقدامات نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی وجہ خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں کی ناکامی، شرح خواندگی میں کمی ،جنسی تعلیم کا فقدان ،اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خاندانی منصوبہ بندی کے متعلق غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے مربوط و منظم اورمدلل کوششوں کو فروغ نہ دینا، کم عمری کی شادی میں اضافہ،ملکی سرحدوں سے باآسانی آمدرفت ،دیگر ممالک سے مہاجرین کی صورت میں لوگوں کا رہائش پذیر ہونا ہے۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں عوامی سطح پر شعور اجاگر کیا جائے جس کے لیے میڈیا اپنابھر پور کردار ادا کرسکتا ہے تعلیمی نصاب میں گھروں کی معیشت ، آبادی کے متعلق مضامین شامل کیے جائیں بچوں کو ابتداسے آبادی کا معیشت پر اثر انداز ہونے کے بارے میں سمجھایا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت کم عمری کی شادی کے خلاف موجودہ قوانین کے نفاذ کو یقینی بنائے، ملکی سرحدوں پر موثر نگرانی کی جائے اورپاپولیشن کمیشن کی ازسرنو تشکیل کرتے ہوئے مختلف سرگرمیاں حکومتی اداروں کو اس پروگرام میں مصروف دیگر اداروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے مانیٹرنگ کام ثر نظام قائم کرے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اپنے وسائل میں اضافہ اور معیشت کو مضبوط کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اتنی بڑی آبادی کوبنیادی سہولیات فراہم کرنا کمزور معیشت کی بس کی بات نہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.