MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

پاکستانی 98 فیصد عوام ملک کی بربادی و تباہی کی ذمہدار ھے۔۔۔!!

0 208

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: جاوید صدیقی

- Advertisement -

اب سے نہیں بلکہ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد سے اس قوم کا رویہ، انداز، طریقہ کار، سوچ و افکار اسلام اور پاکستان کی اساس و نظریہ سے ہٹتا چلا گیا۔ قوم سے سرزشوں پر سرزشیں ھوتی رھیں مخلص، سچے، دیانتدار اور ایماندار رہنماؤں کی قدر نہ کی گئی جبکہ دوسری جانب عسکری قیادت کے چند جرنیلوں نے اپنی غلاظت اور ملک دشمنی میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور بدکردار، عیاش و غدار، سیاستدانوں کیساتھ ملک دو لخت کیا۔ اُس وقت کے مولوی ملاؤں کا کردار بھی انتہائی افسوسناک رھا۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو طعنے و طنز کے تیر برسائے اس بابت ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی نیچ دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ان کیلئے مولویوں اور مذہبی سیاسی رہنماؤں نے کہا کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی حرام ھے اور پھر انہی مولوی ملاؤں اور مذہبی رہنماؤں جو سیاست کے ٹھکیدار بھی تھے بینظیر بھٹو کو سر پر بیٹھا کر تختِ پاکستان سونپا یہ جانتے ھوئے بھی کہ اس کی پرورش برطانیہ میں یہود و نصاریٰ کے سائے میں ھوئی۔ تاریخ شاھد ھے کہ لڑکپن سے جوانی تک کس قدر آزاد خیال اور آزاد ماحول کے اثرات سمیٹے۔ اس قوم نے بینظیر بھٹو کو سر پر بیٹھایا۔ اس قوم نے کبھی بھی خود کو متحد ھونے کا ارادہ نہ کیا ہر ایک سیاسی رہنماؤں کے ہاتھوں کھلونہ بنے رھے جو سلسلہ تاحال جاری ھے۔ کبھی بھی پختہ اور یقینی ارادہ نہیں کیا کہ اس وطن عزیز میں نظریہ پاکستان کے تحت نظام رائج کیا جائے یعنی اسلامی نظام۔ اس قوم کی بڑی بڑی کوہتاہیاں اور غلطیاں ھیں مگر حیرت و تعجب ھے کہ اس غلطیوں پر مسلسل برجمان ھیں جس سے اللہ ﷻ اور اس کے حبیب ﷺ شدید نا پسند کرتے ھیں ان میں تعصب، عصبیت، لسانیت، حق تلفی، بغض و عداوت، بے انصافی، جھوٹ و نفاق اور منافقت شامل ھیں۔ من حیث القوم ھم ایک برترین قوم ھیں جو سود کو پسند کرتے ھیں اور لفظی اسکا انکار بھی کرتے، ھم شراب و زنا کو حرام سمجھتے ھیں لیکن استعمال کرنے سے باز نہیں آتے، ھم رشوت کو گناہ کبیرہ جانتے ھیں لیکن وصولی کو اپنے لیئے انعام اور بخشش کہتے ھیں، ھم کونسا ایسا فعل رہ گیا ھے جو پچھلی قوموں میں بدترین تھا ھم نے اپنایا نہ ھو۔ یقیناً دنیا کے بدترین مسلمان ھم خود پاکستانی ھیں، ھم مال و دولت کیلئے اپنی عزتیں تار تار کروانے سے ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ یقیناً دنیا میں ھم سے بڑی بے غیرت اور منافق قوم کوئی اور نہیں رھی۔ خوب حرام کماکر بڑے بڑے دسترخوان، بڑی بڑی محافل سجا کر خودساختہ گناہ سے پاک سمجھ لیتے ھیں۔ اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت عدل و انصاف اور سچ و حق کو دی گئی ھے جو ھم میں رتی برابر بھی نہیں۔ حقیقت تو یہ ھے کہ ھم اللہ کے رحم کے لائق نہیں بلکہ عتاب و عذاب کے مستحق ھوچکے ھیں۔ یہ تو رسولِ پاک ﷺ کا کرم و فضل ھے کہ ھم من حیث القوم اللہ کے سخت پکڑ میں نہیں آرھے، بار ہا بار اللہ بیدار کرتا ھے اور مہلت پے مہلت دیتا ھے کہ باز آجاؤ سنبھل جاؤ وگرنہ قہر اور عذاب آنے کو بیقرار ھیں۔ جب تک ھم قوم اپنا قبلہ درست نہیں کریں گے اللہ ھمارے اعمال کی نسبت ھم پر اسی طرح حکمران عائد کرتا رہیگا اور جب پوری قوم صراط المستقیم پر عمل پیرا ھوجائیگی تو اللہ بھی رحم فرماتے ھوئے نفیس شریف ایماندار دیانتدار سچا مخلص اور بہادر حکمران عطا فرمائے گا اب دیکھنا یہ ھے کہ ھم سیدھی راہ اختیار کرتے ھیں یا دجالی فتنہ فساد کا ایندھن بنتے ھیں۔ قوم کو بیدار کرنے میں ھمارے مشائخ علماء کرام و پیر عظام کو اپنے صالح عمل سے روشنی پھیلانی ھوگی وگرنہ یہ دینِ اسلام کے امام روز محشر رب کی بارگاہ میں مجرم بنے کھڑے ھونگے دعا ھے اللہ ھم سب کو ہدایت بخشے اور عملی طور پر مکمل شریعت پر چلنے کی توفیق عطا فرمادے آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔۔!!

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.