میں نے اپنی حکومت کے دوران ریکوڈک کا مسئلہ حل کرلیا تھا، نواب ثنااللہ زہری
کوئٹہ (ویب ڈیسک)پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما و سابق وزیراعلی بلوچستان نواب ثنااللہ خان زہری نے انکشاف کیا ہے کہ انکی حکومت ریکوڈک کی وجہ سے ختم کی گئی کمپنی کی جانب سے نہ صرف انہیں ملین آف ڈالرز کی پیشکش کی گئی بلکہ انکے قریبی ساتھیوں کو بھی بیسیوں مرتبہ رقم کی آفرز کی گئیں جنہوں نے ایسی آفرز کو رد کیا میں سمجھتا ہوں کہ ریکوڈک بلوچستان کا اثاثہ ہے
اس کے برخلاف کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے ریکوڈک خالصتا بلوچستان کی ملکیت ہے وفاق کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے صوبے کے نوجوانوں سے اپیل ہے کہ ریکوڈک کے مجوزہ معاہدے کے خلاف سیاسی جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالیں سیاسی جماعتوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس قومی ورثے کے تحفظ کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کریں
- Advertisement -
ورنہ آئندہ نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی ۔ یہاں جاری اپنے ایک بیان میں چیف آف جھالاوان و سابق وزیراعلی بلوچستان نواب ثنااللہ خان زہری نے کہاکہ میں نے اپنی حکومت کے دوران ریکوڈک کا مسئلہ حل کرلیا تھا تاہم میری مخلصانہ کوششوں کوسبوتاژ کرکے میری حکومت کے خلاف سازشیں کی گئیں جس کے نتیجے میں میری حکومت ختم ہوئی ایسا ہی رویہ سابق وزیراعلی بلوچستان نواب اسلم خان رئیسانی کی حکومت کے ساتھ بھی روا رکھا گیا اور انہیں بھی اس حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہاکہ شروع دن سے ہی میری حکومت کو ریکوڈک کے معاملے میں غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کی گئیں بہت سی رکاوٹیں حائل کی گئیں کمپنی کی جانب سے میرے قریبی ساتھیوں کو رقوم کی پیشکش کی گئی اور مجھے بھی اربوں ڈالر کی پیشکش کی گئی لیکن میں نے اسے مسترد کردیا جس پر میری حکومت کو ختم کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں ۔ میں نے مصالحت کرنے کے بجائے حکومت کے خاتمے کو ترجیح دی اور اس قومی ورثے کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ۔ آج بھی میرا اصولی موقف ہے کہ ریکوڈک سمیت تمام معدنی وسائل آئندہ نسلوں کی بقاکی ضمانت ہے اس لئے ایسے کسی معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جس سے ہماری آئندہ نسلوں پر منفی اثرات مرتب ہوں۔