ایس بی سی اے میں الٹی گنگا! ڈی جی نے کرپشن روکنے کے بجائے صحافیوں کا داخلہ بند کردیا
کراچی(مسائل نیوز) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) برسوں سے بدعنوانی، اقربا پروری اور غیر قانونی تعمیرات کے سنگین الزامات کی زد میں ہے۔ شہر کو غیر قانونی تعمیرات کا جنگل بنانے میں اس ادارے کے افسران اور عملہ کھلے عام ملوث پایا جا رہا ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ نئے ڈی جی ایس بی سی اے شاہ میر بھٹو کے آنے کے بعد بھی کرپشن پر قابو پانے کے بجائے صحافیوں کی آواز دبانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق نئے ڈی جی نے سیکورٹی گارڈز کو واضح احکامات دیے ہیں کہ وہ صحافیوں کو دفتر میں داخل نہ ہونے دیں۔ اس فیصلے نے نہ صرف آزادی صحافت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے بلکہ یہ تاثر بھی تقویت پکڑ رہا ہے کہ ادارہ اپنی بدعنوانیوں کو چھپانے کے لیے سخت رویہ اختیار کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آواز بلند کرنے والے کئی صحافیوں کو نہ صرف بدزبانی اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا بلکہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
دنیا بھر میں جہاں صحافیوں کو عزت اور معلومات تک رسائی دی جاتی ہے، وہاں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے موجودہ سربراہ نے ایک الٹی روایت قائم کی ہے۔
- Advertisement -
ادھر وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس پابندی کا فوری نوٹس لیں اور ڈی جی شاہ میر بھٹو سے وضاحت طلب کریں۔
ناقدین کے مطابق صحافت پر قدغن لگانے والے ایسے اقدامات نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہیں بلکہ یہ کرپٹ افسران کو مزید بے لگام کرنے کا سبب بھی بنیں گے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ چند روز قبل سندھ ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس اقبال کلہوڑو نے بھی ایس بی سی اے کو حکومت کا بدنام ترین ادارہ قرار دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ادارے کے افسران محض ٹیبل کے نیچے پیسے کمانے کے لیے کام کرتے ہیں اور ایسے عناصر کے لیے جہنم میں خاص جگہ ہوگی۔ عدالت کے ان ریمارکس نے ادارے کی اصلیت ایک بار پھر عیاں کر دی ہے۔
کراچی کے عوام اور سول سوسائٹی کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سندھ حکومت فوری طور پر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مکمل تحقیقات کرائے، کرپٹ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور صحافیوں پر لگائی گئی غیر آئینی پابندی کو فی الفور ختم کیا جائے۔