MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

سیلاب کی تباہ کاریاں

1 250

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: اعجازعلی ساغر

- Advertisement -

اس وقت ملک میں سیلاب نے تباہی مچائی ھوئی ہے پورا پاکستان سیلاب میں ڈوبا ھوا ہے ہر طرف قیامت صغریٰ کا منظر ہے لوگ اپنے پیاروں کو پانی میں بہتا دیکھ رہے ہیں گھروں کے گھر اجڑ چکے ہیں شاید ہی کوئی پاکستانی ھو جو اس سیلاب سے متاثر نہ ھوا ھو پنجاب,سندھ,کے پی کے,بلوچستان,آزادکشمیر اور گلگت سمیت کوئی ایسی جگہ نہیں ھوگی جہاں سیلاب نے اپنا اثر نہ چھوڑا ھو اس ملک میں ھونیوالی پوری تباہی کا تو شاید ہی کوئی بتا پائے یا اس سیلاب سے ھونیوالے نقصان کا صحیح اندازہ ھو لیکن ہم ان واقعات کو عوام کے سامنے پیش کریں گے جو رپورٹ ھوئے یا اسکی کوئی وڈیو سامنے آئی ہے۔
ویسے تو سیلاب کی تباہ کاریوں کا آغاز بلوچستان سے ھوا جو اب چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک پھیل چکا ہے بلوچستان میں سیلاب نے ایسی تباہی کی داستان رقم کی کہ جسکی مثال ملنا مشکل ہے وہاں پر نظام زندگی درہم برہم ھوکر رہ گیا لوگوں کے گھر بار,جانور زندگی کی جمع پونجی حتیٰ کہ ان کے پیارے سیلاب کی نظر ھوگئے جہاں تلک نظر گئی تباہی ہی تباہی نظر آئی معصوم بچوں کی تیرتی لاشوں کو دیکھ کر ایسا لگا کہ جیسے جسم سے کسی نے جان نکال دی ھو کسی کا ایک سیلاب کی نظر ھو تو کسی کا پورا خاندان ہی سیلاب میں بہہ گیا۔
اس کے بعد کے پی کے پنجاب اور سندھ,آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں سیلاب نے زندگی کے سارے ہی رنگ ختم کردیے جنوبی پنجاب کے اضلاع راجن پور,ڈیرہ غازی خان,لیہ,مظفر گڑھ,جھنگ میں سیلاب کے ستائے لوگ ٹینٹوں اور عارضی پناہ گاہوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اسی طرح کے پی کے میں چارسدہ,مانسہرہ,ڈیرہ اسماعیل خان سوات اور دوسرے اضلاع شدید متاثر ھوئے ہیں,سندھ میں صرف کراچی کو چھوڑ کر اندرون سندھ تباہی ہی تباہی نظر آتی ہے,ملک کے سیاحتی مقامات ختم ھوگئے ہیں پانی سب کچھ بہاکر لے گیا
ڈاکٹر رضوان نصیر ڈی جی ریسکیو 1122 سیلاب کے حوالے سے ایسے ایسے دردناک واقعات سنائے کہ دل ہل گیا سن کے،
کہتے ایک جگہ ھم نے سیلاب میں پھنسی ایک بیوہ بوڑھی عورت کو نکالا جس کی بکری بھی اس کیساتھ تھی اور وھی اس کا کل اثاثہ تھی، کہتے کچھ دور جا کر بکری نے ڈر کے پانی میں گر گئی، اپنے واحد اثاثہ لہروں کی نظر ھوتے دیکھ کر بڑھیا نے اس کے پیچھے چھلانگ لگا دی, کہتے 4 گھنٹے ڈھونڈتے رھے نہ بکری ملی نہ اس بیوہ کی لاش ملی،
ایک اور جگہ کہتے ایک کتا پھنسا ھوا تھا ھم نے کوشش کی اسے ریسکیو کرنے کی مگر وہ ھماری طرف آنے کے بجائے زور زور سے چیختا اور پانی میں گھر کی طرف بھاگتا تھا کہتے ھمارے لڑکے بہت مشکل سے اندر گئے تو کیا دیکھتے ھیں وہ کتیا تھی اور اندر اس کے بچے اس نے پانی سے بچا لکڑیوں کے اوپر رکھے ھوئے تھے مگر تین بچے مر چکے تھے صرف ایک زندہ تھا، جب تک ھم نے سارے بچے اٹھا کے کشتی میں نہیں رکھے ان کی ماں سوار نہیں ھوئی،
کہتے ایک فیلمی کو ھم نے ریسکیو کیا ان کی عورتوں کی چیخ و پکار سے ھمارے دل پھٹ رھے تھے کیونکہ ان کے دو بچے سیلاب میں بہہ گئے تھے جن کی لاشیں بھی نہیں ملی تھیں، وہ وہاں سے آنا ھی نہیں چاہتے تھے ھم بہت مشکل سے لائے انہیں ساتھ،
ایک اور جگہ کا بتایا کہ ایک پھنسی فیملی کو نکالا ان کا بچہ پیدا ھوا تھا، حالات، ٹینشن اور مختلف مسائل کی وجہ سے قبل از وقت ڈیلیوری ھوئی تھی اور میڈیکل کیئر نہ ملنے سے بچہ اور ماں دونوں مرچکے تھے، شوہر کو ھماری کشتی میں دل کا دورہ پڑا وہ بھی ہسپتال پہنچانے سے پہلے چل بسے اب پیچھے ان کی دو یتیم بچیاں تھیں جو ابھی تک ریسکیو کے پاس ہیں کیونکہ باقی ان کا کوئی بچا ہی نہیں۔
پچھلے دنوں کوہستان میں ایک المناک واقعہ دیکھنے کو ملا جس میں پانچ دوست
الغرض یہ سیلاب اس قدر تباہیاں مچارہا ہے کہ شاید اس سے متاثر ھونیوالوں کی بحالی میں سالوں لگیں۔
اب بات کرتے ہیں ریسکیو اداروں اور اس قوم کے جذبے کی جو اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ھوئے سیلاب سے متاثر ھونیوالے اپنے بہن بھائیوں کی مدد اور خدمت میں مصروف عمل ہیں پاک آرمی کے جنرل سرفراز علی سمیت 6 افسران اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی خدمت کرتے کرتے جام شہادت نوش کرگئے۔ آرمی,نیوی,ائرفورس,ریسکیو 1122 سمیت تمام پرائیویٹ فلاحی تنظیمیں اور اس ملک کی بیوروکریسی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو دن رات اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی خدمت اور مدد میں مصروف عمل ہیں اگر اس موقع پر پاکستانی قوم کے جذبے اور انسانیت دوستی کی تعریف نہ کی جائے تو یہ منافقت ھوگی جب بھی ملک میں کسی بھی حوالے سے اس قوم پر کوئی مصیبت آئی ہے تو اس قوم نے بڑھ چڑھ امداد دی ہے چاہے وہ ایبٹ آباد والا زلزلہ ھو یا 2010 کا سیلاب, اب بھی یہ قوم اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کیلئے خوراک,ٹینٹ اور ضروریات زندگی کی اشیاء پر مشتمل ٹرکوں کے ٹرک روانہ کررہے ہیں وزیراعظم کی جانب سے ریلیف فنڈ اکاؤنٹ بھی بنایا جاچکا ہے جس میں مخیر حضرات سے اپیل کی جارہی ہے کہ وہ دل کھول کر عطیات دیں تاکہ مصیبت میں گھرے پاکستانیوں کی امداد ھوسکے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے بھی امداد کا آغاز کردیا گیا ہے موبی لنک (Jazz) کی جانب سے ایک ارب روپے کی امداد کا اعلان کردیا گیا ہے باقی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے بھی امداد ملنے کا امکان ہے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے تمام ممالک کے سفراء کو موجودہ تباہی کے بارے میں آگاہ کردیا گیا ہے ملک میں ایمرجنسی نافذ ھوچکی ہے پاکستان موجودہ صورتحال سے اکیلا نہیں نمٹ سکتا کیونکہ تباہی بہت زیادہ ہے لہذا دنیا کے باقی ممالک سے امداد کی اپیل کی جارہی ہے۔
جہاں لوگ دل کھول کر امداد بھیج رہے ہیں وہاں حکومتیں سیاست میں لگی ہیں ایک دوسرے پر الزامات لگاکر لاکھوں متاثرین کو قاتل سیلاب کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے کوئی خاطر خواہ امداد نہیں دی جارہی موجودہ سیاسی بحران نے سیاستدانوں کو اس قدر پتھر دل بنادیا ہے کہ وہ اس عظیم سانحے پر بھی سیاست کرنے سے باز نہیں آرہے سیلاب سے اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق 57 ارب ڈالر کا نقصان ھوچکا ہے جو 2010 کے نقصان سے کہیں زیادہ ہے لیکن سیاست اپنی سیاست بچانے کے چکر میں ہیں کوہستان میں پانچ زندگیاں گھنٹوں انتظار کرتی رہیں لیکن وزیراعلیٰ کے پی کے اور عمران خان صاحب خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے کوئی ان کو بچانے کیلئے نہیں آیا,پنجاب میں بھی وزراء اور ممبران صوبائی اسمبلی صرف فوٹو سیشن تک ہی محدود ہیں بلوچستان جوکہ پہلے ہی لاوارث ہے سوائے آرمی چیف کے باقی کسی سیاستدان نے اس میں دلچسپی نہیں لی,سندھ میں جب تک بھٹو زندہ ہے تب تک سندھی عوام کا کوئی پرسان حال نہیں بس ﷲ کا ہی آسرا ہے ورنہ حالات بہت خراب ہیں۔
سیلاب سے متاثر ھونیوالوں کی یقیناً تمام سیاستدانوں سے اپیل ھوگی کہ خدارا ہمارے لیے ہی اکٹھے ھوجاؤ اور ھمارا بھلا کردو۔
اس وقت سیاستدانوں کو تمام اختلافات بھلا کر صرف سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کیلئے اپنے آپ کو وقف کردینا چاہیئے کیونکہ لوگ بے سرو سامانی بیٹھے ان کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں ان کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ھوتا جارہا ہے۔
ابھی بھی وقت ہے سب سیاستدان عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ مرکوز کریں ورنہ سری لنکا جیسے حالات بننے میں دیر نہیں لگے گی۔
خداوند کریم میرے ملک اور اسکے باسیوں پر رحم فرمائے اور اس عذاب سے ھمیں چھٹکارا دے۔آمین

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] نیوز)جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین ضلع راجن پور میں سیلاب سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں روجھان مزاری، راجن پور […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.