مالدار مالکان اور سیاستدان کے نام
تحریر: جاوید صدیقی
قرآن پاک، احادیٹ اور تاریخ اسلام میں نفع بخش سودوں کا ذکر آیا ہے ۔۔۔ معزز قارئین!! ریاستِ پاکستان جو نظریہ اسلام اور ریاستِ مدینہ کے نقشِ قدم پر قائم ہوئی لیکن چند ہی سالوں میں المیہ اور آزمائش کا سلسلہ ایسا جاری ہوا کہ جو تا وقت جاری ہے۔ سب سے پہلے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا انتقال پھر چند سال میں ہی رقیقِ یار قائداعظم نواب لیاقت علی کی شہادت اور پھر خاتونِ ملت محترمہ فاطمہ جناح سے بے وفائی یہ سب ہماری آزمائش کا حصہ ہیں لیکن ہماری قوم کا رویہ انتہائی مایوس کن رہا، اسی سبب بیرونی آقاؤں کے غلاموں کی شرانگیزیاں اور سازشیں سر اٹھانے لگیں ان بیرونی سہولتکاروں کے سبب ہمارے عظیم ملک کو دو لخت کرکے نفرتوں، عصبیتوں، لسانیت، اقربہ پروری، فرقہ واریت، ظلم و بربریت اور عدم تحفظ و عدم استحکام کی فضا پیدا کی گئیں۔ ایک جانب ملک کو معاشی و اقتصادی طور پر کمزور سے کمزور کیا گیا تو دوسری جانب غلاموں اور منافقوں کو امیر سے امیر ترین بنانے کیلئے غلط راستے ہموار کیئے گئے۔ آج ملکِ پاکستان کی عوام مہنگائی کے پہاڑ تلے پس کر رہ گئی ہے، غریب کا جینا محال ہوچکا ہے، بیروزگاری انتہا کو پہنچ چکی ہے، چھوٹے بڑے نجی اداروں کے مالکان چند مہینوں میں بے پناہ اپنی دولت میں اضافہ کرچکے ہیں، دولت و حرص کی ہوس نے انہیں اوندھا کردیا ہے، نجی فیکٹریوں صنعتکاروں انڈسٹریز کے مالکان نے ملازمین کے حقوق کو سلب کیا اور لگاتار بیروزگاری کے عمل کو جاری کرتے ہوئے ایک ایک فرد سے دس دس فرد کے برابر کام لیا جاتا رہا ہے
گزشتہ دس سالوں میں جس قدر ایک دولت مند قانون سے ماورا نظر آیا پاکستان کی تاریخ میں ایسا نہ سنا گیا نہ دیکھا گیا۔ سب سے زیادہ اس گھناؤننے عمل میں میڈیا مالکان کا کردار انتہائی ظالمانہ رہا۔ میڈیا مالکان نے جس قدر چند صحافی اور بیشتر اینکرز کو خرید کر ان کیساتھ ملکر معاشی قتل کیا وہ تاریخ میں بدنما داغ رہے گا۔ افسوس کا عمل تو ہے کہ انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں یہ کھلی معاشی دہشت گردی ہے یقیناً اس معاشی دہشت گردی کا محاسبہ افواج پاکستان کے سپہ سالار اور چیف جسٹس کو پاکستان اور پاکستانی عوام کے مفاد میں کرنا چاہئے۔ یہاں میں ایک واقعہ پیش کرتا چلوں کہ شائد ان مالداروں کو یہ سودا پسند آجائے تو پاکستان اور پاکستانی عوام کے حالات بہتر ہوجائیں اور خود انکی عاقبت بھی سنور جائے۔۔۔ معزز قارئین!! احادیٹ مسند عبد بن حمید: 1334, ابن حبان: 71, الطبرانی: 763, الحاکم: 2/20, شعب الایمان: 3451 میں لکھا ہے کہ ایک صحابی آئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا پڑوسی ہے اس کی کھجور ٹیڑھی ہو کر میرے گھر میں چند اس کی شاخیں ہیں۔ اس پر جب پھل لگتا ہے اور ٹوٹ کر گرتا ہے تو میرے بچے اٹھا لیتے ہیں ہم غریب ہیں تو وہ بھاگتا ہوا آتا ہے اور آکر میرے بچوں کے منہ میں سے کھجور کو نکال لیتا ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس کو کہیں کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچوں پر اتنی زیادتی نہ کرے۔ آپ نے اسے بلایا وہ منافق تھا۔ آپ نے فرمایا بھئی ایک سودا کرتے ہو؟؟؟ اس نے پوچھا کون سا سودا؟؟؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ کھجور کا درخت مجھے دے دو اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں کھجور کا درخت لے کر دونگا۔ وہ کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اصل میں میرے بچوں کو بہت پسند ہے اگر کوئی اور کھجور ہوتی تو میں دے دیتا تو یہ میری معزرت ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور چلا گیا۔
- Advertisement -
ایک صحابی بیٹھے تھے ابو دحداح وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں وہ کھجور کا درخت لے دوں تو مجھے جنت میں کھجور کا درخت لیں دیں گے آپ؟؟؟ آپ نے فرمایا ہاں تو مجھے لے دے اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں کھجور کا درخت لے دوں گا۔ وہ صحابی اٹھ کر اس منافق کے پیچھے چلے گئے اور بلایا اے بھائی بات سنو، کھجور کا درخت کتنے کا بیچو گے؟؟؟ اس نے کہا میں نے اللہ کے نبی کو نہیں دیا تمہیں کیسے دے دوں۔ انہوں نے کہا اچھا بھائی منہ سے بول کتنے پیسے لو گے۔ تو اس نے جان چھڑانے کے لیے کہا کہ اپنا سارا باغ مجھے دے دے اور یہ ایک کھجور کا درخت لے لے اور باغ میں چھ سو کھجور کے درخت اور یہ کھجور کا درخت کسی اور کو دینا ہے وہ کہنے لگے پکے ہو؟؟؟ سودے سے پھرو گے تو نہیں؟؟؟ کہا میں پاگل ہوں کہ میں مکر جاؤں گا مجھے چھ سو کھجور کے درخت مل رہے ہیں۔انہوں نے کہا مجھے منظور ہے کھجور کا درخت میرا اور سارا باغ تیرا۔ ابو دحداح گئے اور باغ کے باہر کھڑے ہوگئے اندر بھی داخل نہ ہوئے اور جیب میں جو پیسے تھے وہ بھی زمین کے اندر ڈال دیے کہ یہ بھی باغ کی کمائی ہے اور باغ کا جنت کے بدلے سودا کر دیا ہے اللہ کے نبی سے اور اپنی بیوی کو آواز دی باہر آؤ یہ باغ اب ہمارا نہیں ہے، اس باغ کا اللہ کے نبی کے ساتھ سودا کر آیا ہوں بیوی نے جب اللہ کے نبی کا نام سنا تو وہ بھی بچوں کو لے کر باغ سے باہر آگئی اور کہا تم نے بہت خوبصورت سودا کیا۔ حضرت ابو دحداح اللہ کے نبی کے پاس گئے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے سودا کر لیا ہے۔ فرمایا ابو دحداح کیسے کیا سودا ؟؟؟ کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سارا باغ دے دیا اور وہ کھجور کا درخت لے لیا۔
اللہ کے نبی نے فرمایا پھر میرا سودا بھی بدل گیا اور فرمایا میرے ساتھی میں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں اللہ نے تیرے لئے جنت میں ایک محل نہیں سینکڑوں محل بنا دیئے ہیں اور ایک باغ نہیں ہزاروں باغ تیرے لیئے تیار کر دیئے ہیں اور جب حضرت ابو دحداح فوت ہوئے تو اللہ کے نبی نے فرمایا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ایک لاکھ جنت کے کھجور کے درخت ابو دحداح کے جنازے کے اوپر جھکے ہوئے ہیں۔ ماشاء اللہ سبحان اللہ ۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! ایک زمانہ تھا جب پاکستان کے امیر کبیر بائیس خاندان تھے مگر اب امیر کبیر خاندانوں کی تعداد بائیس ہزار سے زائد ہے ان بائیس خاندانوں نے ملک و قوم کی خدمت کی تھی یہ بائیس ہزار خاندان خودنمائی ذاتیات اور تسکین نفس تک محدود ہیں۔ میں نے انہیں جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے اگر یہ روزگار کے مواقع اور مراعات بہتر بہم پہنچائیں تو میرا ایمان ہے کہ یہ سودا نفع بخش ہوگا مانا کہ دنیاوی فائدے میں قدرے کمی ہوسکتی ہے مگر ابدی زندگی میں بہت زیادہ فائدہ۔ اللہ ہمیں ریاکاری سے بچائے اور حقیقی معنوں میں نیکی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ روزگار کی فراہمی اور معاشی قتل کی روک سے سفید پوش عزتِ نفس طبقہ قدرے خوشحال زندگی گزارسکتا ہے آپ دولتمندوں نے سفید پوش لوگوں کی سفیدی قائم رکھی تو الله یہ سفیدی نور بنکر آپ کو چمکائے گی یاد رکھیئے دنیا کی دو روزہ زندگی ہے حقیقی زندگی بعد موت ہے۔ کامیاب اور انعام یافتہ ویی ہوتے ہیں جو صحیح وقت اور بروقت فیصلہ کرلیں بعد میں پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے۔۔۔!!