پی ٹی آئی نے اسحاق ڈار کا چیلنج قبول کر لیا
اسلام آباد (مسائل نیوز) پاکستان تحریک انصاف نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے معیشت پر مناظرے کا چیلنج قبول کر لیا۔سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسحاق ڈار کی پریس کانفرنس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم اسحاق ڈار کے چیلنج کو قبول کرتے ہیں اور شہباز شریف کو عمران خان کے ساتھ براہ راست بحث کا چیلنج بھی دیتے ہیں۔
شوکت ترین نے کہا عمران خان تو دور کی بات اسحاق ڈار پہلے مجھے بھگت لیں اور میرے سوالات کا جواب دیں۔اسحاق ڈار عمران خان کو چیلنج دے کر اپنا سیاسی قد اونچا کرنے کی کوشش نہ کریں اور بھڑکیں مارنے سے گریز کریں۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ اسحاق ڈار خود اپنی کارگردگی سے پریشان ہیں، وہ وطن واپسی پر بڑے بڑے دعوے کر رہے تھے۔اگر حکومت اکنامک سروے پڑھ لیں تو ہماری کارگردگی کا معلوم ہو جائے گا۔
گذشتہ روز وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے عمران خان کو مذاکرے کا چیلنج دیا تھا ،کہا کہ اپنے معاشی ماہرین لے آئیں، نمبرز پر براہ راست مذاکرہ کرلیتے ہیں،عمران خان قوم کو ٹی وی پر لیکچر دینے کی بجائے معافی مانگیں۔ انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خطاب پر پریس کانفرنس میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان معیشت کی تباہی کے ذمہ دار ہیں، عمران خان کا مقصد سیاسی ہے ریاست بھاڑ میں جائے، عمران خان کی پھیلائی ہوئی تباہی کو ہم ٹھیک کررہے ہیں، ہم نے ریاست کو بچانے کیلئے اپنی سیاست کو قربان کیا، عمران خان نے آج پھر جھوٹ بولا،عمران خان نے4سالوں میں ترقی کرتی معیشت کو تباہ کردیا،ہم نے جی ڈی پی 6.10پر چھوڑی، جبکہ عمران خان کے دور میں شرح نمو منفی ہوگئی تھی، ملک میں مہنگائی کا طوفان عمران خان کی وجہ سے آیا ہے۔
عمران خان نے روپے کی قدر کو کھلا چھوڑ دیا تھا۔ہمیں پہلے سال معیشت 244 بلین ڈالر کی معیشت تھی، ہم 356.8ارب ڈالر کی معیشت کو چھوڑ کرگئے، 382.8 بلین پر چھوڑ کرگئے صرف26ارب ڈالر اضافہ کیا، ہم نے اپنے دور میں 112ارب ڈالر کا اضافہ کیا، ہمارے دور میں 379 ڈالر فی کس آمدن میں اضافہ ہوا، جبکہ آپ نے صرف اس میں 30 ڈالر کا اضافہ کیا۔ ہمارے دور میں قرضہ 30 ہزار ارب تھا جبکہ آپ نے قرض ریکارڈ قرض لئے، آپ نے تو 10 ہزار ارب قرض کم کرنے تھے لیکن عمران خان نے امریکا، سعودی عرب سمیت پر ملک میں جاکر ملک کو بدنام کیا، آپ نے کہا ہمارا قرض 30 ہزار ارب ہے، مشرف دور میں قرض 6ہزار ارب تھا، لیکن اس وقت قرض لینے کی ضرورت نہیں تھی۔