MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

بھارتی خفیہ ایجنسی را اور بھارتی دوشیزاؤں کا شکار،تحریر: جاوید صدیقی

1 301

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

بھارتی ایجنسی را کی جانب سے خواتین کو مختلف ممالک میں بٹھا کر پاکستانی نوجوانوں اور بالخصوص سول سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو ہنی ٹریپ کیا جارہا ہے، انہیں آن لائن جابز کا لالچ دیکر یا تو پروپگنڈہ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے یا پھر حساس معلومات طلب کی جاتی ہیں. تمام دوست، بالخصوص سول سیکیورٹی اداروں سے تعلق رکھنے والوں سے گزارش ہے کہ کسی بھی انجان خاتون سے بات چیت کرنے اور کسی بھی قسم کی حساس لوکیشنز اور فوج کی نقل و حرکت معلومات فراہم کرنے سے اجتناب کریں، یہ لوگ آپ کو چند ہزار کا لالچ دیکر ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں.

وہ کون لوگ ہیں ان کیساتھ وہ آئی ڈیز اس وقت انڈین را کی خواتین چلا رہی ہیں اور ان کے ساتھ ہمارے تمام اداروں کے لوگ موجود ہیں خاص کر بلوچستان اور سندھ سے تعلق رکھنے والے پولیس کے جوان ان کا ہدف ہیں۔ اس نیٹ ورک کا طریقہِ واردات بھی آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ خواتین اس وقت بھارت، دبئی، جرمنی، فرانس وغیرہ میں بیٹھ کر وہاں کے کام کررہی ہیں، بالفرض جب یہ لوگ کسی سول سیکیورٹی جوان کو ٹریپ کرنا چاہیں گے

- Advertisement -

تو اپنا تعلق فوجی خاندان سے بتا کر پاکستان کی مختلف یونٹس کا ذکر کرکے اپنے گھر کے افراد کا تعلق آرمی سے بتاتے ہوئے آگے بڑھیں گے پھر یہ سلسلہ میسج سے اڈیو کال اور آڈیو کال سے ویڈیو کالز تک جاتا ہے جب تک سامنے والے شخص کو مکمل طور پر یقین نہیں آجاتا، اس کے بعد انڈین را کی یہ خواتین اپنے مقصد کی طرف اتی ہیں اور مطلوبہ دستاویزات، ہتھیاروں کی معلومات اور فارمیشنز سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں، ان کی نظر اکثر اداروں کی ایڈمنسٹریشن سے جڑے لوگوں پر ہوتی ہے.

بالکل ایسا ہی کچھ یہ لوگ دوسرے اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ بھی کررہے ہیں، چند دن بعد یہ لوگ حیلوں بہانوں سے ٹریپ شدہ اہلکاروں سے پاکستانی نمبر سے وٹس ایپ بنوا کر تیس سے چالیس ہزار تنخواہ اور بیرون ملک نوکری کا لالچ دیکر اپنے ساتھ کام کرنے کیلئے راضی کرلیتے ہیں اور ساتھ مزید لوگوں کو بھی لانے کی ذمہ داری دے دیتے ہیں، یہ پاکستانی وٹس ایپ نمبرز مزید لوگوں کو جھانسے میں لینے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں ۔

۔۔معزز قارئین!! اگر ایسے لوگوں کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ ہم کسی کی نظر میں نہیں آرہے تو یہ بھی غلط ہے، حساس اداروں بالخصوص ایم آئی اور آئی ایس آئی کے پاس اس پورے نیٹ ورک کی معلومات ہیں اور ان تمام لوگوں کی بھی جو اس نیٹ ورک کے ساتھ کام کررہے ہیں، جہاں سے بیٹھ کے جو کچھ انہیں بھیج رہے ہیں عقلمند اور ہوشمند سول سیکیورٹی اہلکار وہیں ہیں جو ان خوبصورت دوشیزاؤں کے جنگل میں آنے کے بجائے ان سے ہی معلومات سلب کرلیں اس کیلئے بڑی مہارت اور بڑے عصاب کی ضرورت ھے۔۔۔!!

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] (مسائل نیوز) بہاولپور میں مبینہ طور پر ریپ کا شکار خاتون نے پولیس اسٹیشن کے سامنے خودکشی کی کوشش کی۔ڈان نیوز کی […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.