افسوسناک خبر ۔۔۔۔ سرکاری ملازمین و پینشنرز
تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی
- Advertisement -
آپ لاکھ برا بھلا کہیں لیکن پی ڈی ایم کی حکومت میں میاں شہباز شریف وزیراعظم کی حکومت نے قومی اسمبلی سے گروپ انشورنس کا بل پاس کیا نوٹیفیکیشن جاری کیا اور تمام ریٹائرڈ زندہ ملازمین کو گروپ انشورنس کی ادائیگی کا سلسلہ جاری کردیا لیکن اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد صوبے بااختیار ھونے کے سبب اس مد میں فیصلہ کرنے کے خودمختار ھیں۔ سابقہ چیف جسٹس صاحبان نے حکومت سندھ کو اس بابت عملی جامع پہنانے کا مشورہ اور حکم بھی دیا تھا لیکن سندھ حکومت نے ہمیشہ کی طرح بدنیتی کی بنیاد پر توجہ نہ دی اور تا حال بے حسی عوام دشمنی کا ثبوت دیتے چلے آرھے ھیں۔ سندھ بھر کے ووٹرز اور سرکاری ملازمین و پینشنرز نے ممبر سندھ اسمبلی پر دباؤ ڈالا تو گزشتہ حکومت میں اس بابت بل پاس کرلیا گیا اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے آفس میں پہنچادیا تاکہ منظوری کے بعد ایس اینڈ جی ڈی صوبائی وزیر خذانہ کو سمری روانہ کردیں تاکہ تمام زندہ ریٹائرڈ کو لائف انشورنس کمپنی آف پاکستان سے دلائی جائے۔ سندھ بھر کے تمام حاضر سرکاری ملازمین کا کہنا ھے کہ وہ بھی ریٹائرڈ ھونگے اس لیئے اس مطالبے اور جائز حقوق میں وہ سب کے سب ریٹائرڈ ملازمین کیساتھ ھیں۔ یاد رھے ملک بھر میں گروپ انشورنس انتقال کی بنیاد پر دیا جاتا رھا ھے جبکہ گروپ انشورنس قانونی و اخلاقی اور مذہبی بنیاد پر ریٹائرڈمنٹ پر اس کی ادائیگی دینے پر مامور ھیں مگر افسوس کہ حکومتوں کی بدنیتی اور بے ایمانی کی وجہ سے گروپ انشورنس کی ادائیگی ریٹائرڈمنٹ پر نہیں کی جاتی رہی ھے۔ سندھ حکومت کو تمام سرکاری و پینشرز نے واضع پیغام دیدیا ھے کہ جنوری 2023 تک ادائیگی کا سلسلہ شروع نہ کیا تو وہ سب کے سب سندھ بھر کے شہری و دیہی مشترکہ پی پی پی کا بائیکاٹ کرکے دیگر سیاسی جماعت کو فیملیز سمیت ووٹ دیکر منتخب کریں گے۔