MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

قائداعظم زندہ باد

0 244

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا

- Advertisement -

1876کوکراچی میں جناح بھائی پونجا کے گھرآنکھ کھولنے والے محمد علی جناح نے برصغیر سیاست اور نقشے کو یکسر بدل کر رکھ دیا اور مسلمانوں کے خؤدمختار ریاست کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا.
ابتدائی تعلیم کا آغاز 1882ء میں کیا۔ 1893ء میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے انگلستان روانہ ہو گئے۔ 1896ء میں بیرسٹری کا امتحان پاس کرکے وطن واپس آ گئے۔ 1897ء میں ممبئی میں وکالت کا آغاز کیا اور سن 1900ء میں ممبئی میں پریذیڈنسی مجسٹریٹ مقرر ہوئے۔ سن 1906ء سے آپ نے سیاست میں قدم رکھا اور اپنی سیاست کے ابتدائی ادوار میں آپ نے ہندو مسلم اتحاد کے لئے کام کیا۔ 1916ء میں آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس کے مابین ہونے والے میثاق لکھنؤ
میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ کانگریس سے اختلافات کی وجہ سے آپ نے کانگریس پارٹی چھوڑ دی اور مسلم لیگ کی قیادت میں شامل ہو گئے اور مسلمانوں کے تحفظ کی خاطر مشہور چودہ نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔ 1913ء سے پاکستان کی آزادی 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے۔
سن 1940ء کو مسلم لیگ نے آپ کی قیادت میں قرارداد پاکستان منظور کی جس کا مقصد نئی مملکت کے قیام کا مطالبہ تھا۔ 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کی بیشتر نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ آخر کار برطانیہ کو مسلم لیگ کے مطالبہ پر راضی ہونا پڑا اور ایک علیحدہ مملکت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ یوں آپ کی بے باک قیادت اور انتھک جدوجہد سے 14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض و جود میں آیا۔

محمد علی‌ جناح‌ نے دسمبر 1886ء کو سندھ مدرسۃ الاسلام‌
سے تعلیم
کا آغاز کیا۔ بعدازاں وہ لندن تشریف لے گئے
محمد علی جناح‌ نے سن 1896ء میں 20 سال کی عمر میں برصغیر کے نو عمر گریجویٹ اور وکیل ہونے کا اعزاز حاصل کیا
محمد علی جناح نے وطن واپسی کے بعد مسلم لیگ کی تتظیم نو کی آپ نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کے مطالبے پر ڈٹے رہے اور آخر کار ان کی انتھک جدؤجہد کے سبب چؤدہ اگست کو پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے.
قیام پاکستان کے فوری بعد قائداعظم کے بمبئی میں رہائش پذیر کچھ عزیز انہیں کراچی آکر گورنر جنرل کے دفتر میں ملے اور انہیں بتایا کہ وہ بھی پاکستان منتقل ہونا چاہتے ہیں اس پر قائداعظم نے فوراً کہا آپ ضرور آئیں لیکن یہ ذہن نشیں رہے کہ آپ پاکستان کے گورنر جنرل کے رشتہ دار کے طور پر ہجرت کر کے نہیں آئیں گے۔ بلکہ یہاں آ کر آپ کو دیگر پاکستانی شہریوں کی طرح کلیم داخل کروانا ہوں گے۔ جو آپ کا قانونی اور جائز حق بنتا ہو گا،صرف وہ ملے گا۔ اس کے بعد ظاہر ہے ان لوگوں نے پاکستان کیونکر آنا تھا۔
قائد کی زندگی کے ان جیتے جاگتے واقعات سے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں رہ جاتا کہ قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے۔عمومی طور پر لوگ خود کو ٹھیک نہیں کرتے۔ ایک مزدور اگر بہت ایماندار بھی ہے تو وہ مزدوری کر کے صرف اور صرف روٹی ہی کما سکتا ہے۔ اس کے بچوں کی تعلیم’ صحت اور مواقع روزگار اور سب سے بڑھ کر وہ عزت اس کے بچے کو کون دے گا کہ وہ ایک مزدور کا بیٹا ہے؟ اس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ یہاں کسی کو اچھی ملازمت مل جاتی ہے تو اس کو اپنے ساتھ کام کرنے والے غریب لوگ اچھے نہیں لگتے کہ وہ اس جیسے نہیں ہوتے۔ قوم کو ایک جیسا بنانے کے لیے ایک جیسا نظام زندگی اور فراہمی انصاف کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ملازمتوں کی فراہمی میں میرٹ کو سو فیصد یقینی بنانے سے اچھے ‘محنتی اور بہتر کردار والے لوگ سامنے آئیں گے۔ وگرنہ جو کسی کی سفارش پر نوکری لے کر آتا ہے اس کی دفتر میں حاضری کو یقینی بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں قائداعظم کے حوالے سے منائے جانے والے ایام خواہ وہ ان کا یومِ پیدائش ہو یا یومِ وصال ان مواقع پر عوام کو بالعموم اور حکمرانوں اور ارباب اقتدار کو بالخصوص اپنا اپنا احتساب کرتے ہوئے غوروفکر کرنا ہو گا کہ موجودہ پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان بنانے میں ان کا کیا کردار رہا ہے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.