MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

وہ کون ہے?

0 426

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
ارشد شریف کا اس طرح سے دنیا سے چلا جانا ہر پاکستانی کے لئے المناک اور تکلیف دھ ہے, وہ انتہائی تحمل مزاج انسان اور بہترین صحافی تھے, بڑے ظرف والے سینئر ہونے کے ناطے وہ جونئیرز کی راہنمائی بھی بہت فراخدلی سے کیا کرتے تھے, 24 اکتوبر کی صبح پورے پاکستان کے لئے صدمہ سے بھری ثابت ہوئی, سینئر صحافی ارشد شریف کے  سانحے نے  براہ راست پاکستانیوں کے اعصاب کو مفلوج اور مفاد پرستوں کو متحرک کیا, اس کے ساتھ اہل قلم کو یہ سوچنے پر بھی مجبور کیا کہ یہ لوگ آخر کیوں ارشد شریف کے ملک سے باہر جانے کے فیصلے پر لب سے لب جوڑے بیٹھے رہے اور اب آزادی صحافت کے علمبردار بن کر دندانتے پھیر رہے ہیں, کیا ان کے جنازے کے انتظار میں تھے کہ آج کسی کو یاد آ رہا ہے کہ میں ان کی ماں کا بیٹا ہوں تو کوئی ان کے بچوں میں اپنی اولاد کا عکاس دیکھ رہا ہے مگر جب ارشد شریف دیار غیر میں اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لئے مختلف صعبتوں سے گزر رہے تھے, تو کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ آخر کیوں اور کس نے ارشد شریف کو ملک بدری پر مجبور کیا, آج بلا تحیقیق کسی ادارے پر براہ راست الزام لگا کر مذکورہ سوال کرنا, اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ وہ کون ہے جو ارشد شریف کی المناک خبر سے اپنے لئے بہتری کا سامان پیدا کرنا چاہ رہا ہے, آخر اس وقت کہاں تھی بہترین جلسے کرنے والی تحریک انصاف? آخر کیوں نہیں کوئی ایک احتجاج ارشد شریف کو وطن واپس لانے کے لئے کیا گیا ?  عوام کو اس پر بھی غور و فکر کرنا چاہیں کہ آخر کیوں نہیں شریں مزاری سے یہ سوال کیا جاتا کہ وہ کون ہے  جس نے انہیں ارشد شریف کی سر کی قیمت لگ جانے کے بارے میں بتایا? وہ کون ہے جس نے ارشد شریف کو کینیا جیسی لاقانونیت سے بھری ریاست جانے پر مجبور کیا جبکہ پاکستان کے پاسپورٹ پر
On arrival free
اور بھی بہت سے ممالک ہیں جن کے حالات کینیا جیسے ہرگز نہیں ہیں. سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی ہیں کہ ارشد شریف کی پاک فوج کے ساتھ نظریاتی جنگ تھی جس کی وجہ سے وہ ملک بدر ہوئے? اگر یہ ہی بات ہے تو عمران ریاض خان کو تو سب سے پہلے ملک چھوڑ کر چلا جانا چاہئے, پختون تحفظ موومنٹ کو فوری اپنے دفاتر بند کر دینے چاہئے, حامد میر کو فوری صحافت چھوڑ دینی چاہئے,  عاصمہ شیزازی کو جلدی سے  اپنا قلم توڑ دینا چاہئے, سوشل میڈیا پر جو روز کی بنیاد پر غل مچا ہوتا ہے اس کا گھڑی کی چوتھائی میں علاج ہونا چاہئے.
ارشد شریف کا سانحہ قوم کے اعصاب پر سوار ہے, ہر پاکستانی کی آنکھ اس خبر پر اشکبار ہے, قوم کا پورا سچ جاننا اس کا حق ہے, المناک واقعے پر من گھڑت باتیں کرنے سے بہتر ہے کہ اس کی اعلی سطح پر تحقیقات کی جائیں, حکومت کو معلوم کرنا چاہئے کہ ارشد شریف کس کے کہنے پر اور کیوں ملک سے باہر گئے? اس کے ساتھ ہی عوام کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ارشد شریف کے واقعے سے کون کون اپنے سیاسی اور پروفشنل مقاصد حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے, آخر وہ کون ہے ہے جس نے ارشد شریف کو ریڈ لائن بناکر انہیں پریشر میں ڈالا اور انہیں اہلخانہ سے دوری اختیار کرکے جان کی بازی ہارنا پڑی, آخر وہ کون ہے جس نے ان کی زندگی میں انہیں ریڈ لائن بناکر اپنے مقاصد پورے کیے اور اب مرحوم کے جسد خاکی کے ذریعے اپنے مزید مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے, آخر وہ کون ہے جو زندگی کے بعد ان کی موت کو بھی اپنے لئے استعمال کر رہا ہے? کہیں یہ وہ لوگ تو نہیں ہیں جو چیئرمین تحریک انصاف بنے کے لئے عمران خان کے اردگرد بیٹھے ہوتے ہیں, قوم کو سوچنا ہوگا کہ آخر وہ کون ہے, جس کے کہنے پر ارشد شریف ملک بدر ہوئے, جس کے کہنے پر عمران خان کے جلسوں میں فوج مخالف پلے کاڈرز ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر مغظات بکی جاتی ہیں جبکہ عمران خان تو پاک فوج کو بارہا اپنی فوج کہہ چکے ہیں.

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.