MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

بلوچستان کی پسماندگی اور وزیراعلیٰ کی ترجیحات

0 145

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر:محمد شاہ دوتانی

- Advertisement -

بلوچستان کی بدحالی اور عوام کی محرومیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہ صوبہ آج بھی بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہا ہے۔ نہ اسپتالوں میں سہولت و ادوایات ہے، نہ اسکولوں میں استاد، نہ سڑکیں ہیں نہ صاف پانی۔ عوام غربت اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی صاحب کی ترجیحات دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کے فنڈز سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ہاکی فیڈریشن کو محض ذاتی تعلقات کی بنیاد پر کروڑوں روپے جاری کردیے۔ سوال یہ ہے کہ جب بلوچستان کا اپنا بچہ علاج کے لیے ادویات نہیں خرید سکتا، جب تعلیمی ادارے کھنڈر بنے ہوئے ہیں، جب لوگوں کے پاس پینے کا پانی نہیں، تو کیا صوبے کے خزانے کو وفاقی اداروں یا دوستوں کی نذر کرنا انصاف ہے؟
یہ کھلی ناانصافی اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ وزیراعلیٰ کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے ٹیکس اور وسائل کے امین ہیں، کسی ذاتی تعلقات کے نہیں۔ پسماندہ صوبے کے محدود فنڈز کو غیر ضروری اداروں پر لٹانا نہ صرف بدانتظامی ہے بلکہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔بلوچستان کے عوام سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ ان کے بچوں کا مستقبل گروی رکھ کر ذاتی تعلقات کیوں نبھائے جا رہے ہیں؟ کیا صوبے کے وسائل صرف مراعات یافتہ طبقے اور چند مخصوص دوستوں کے لیے ہیں؟ ہاکی فیڈریشن کو اپنے کزن طارق مسوری بگٹی جبکہ سپریم کورٹ بار کو ایڈوکیٹ رؤف عطاء کے نظرانے میں کروڑوں روپے دیئے۔
بلوچستان کے عوام مزید وعدوں اور دکھاوے کے نعروں کے متحمل نہیں۔ اب عملی انصاف درکار ہے، ورنہ پسماندگی اور بدحالی کی اس کہانی کا انجام خطرناک ہو سکتا ہے۔ وزیراعلی بلوچستان کو بھی ہوش کے ناخن لینا چائیے اُس پر جب بھی سخت وقت آتاہے وہ اسلام آباد کا رُخ کرلیتاہے اس میں کوئی بُری بات نہیں لیکن اسطرح بلوچستان کے پسماندہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کو اسلام آباد کے ایسوسی ایشنز پر نچھاور کرنا غلط اقدام ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.