شہباز شریف کی آج وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کنفرم، فیلڈ مارشل کی شرکت متوقع
واشنگٹن(مسائل نیوز) امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف آج وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ اس اہم ملاقات میں عالمی اور علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے جبکہ فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی شریک ہونے کا امکان ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب رواں برس جولائی میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت امریکہ نے پاکستانی مصنوعات پر 19 فیصد ٹیرف لگایا۔ اس کے برعکس بھارت کے ساتھ امریکہ تاحال کوئی تجارتی معاہدہ نہیں کر سکا۔
ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے دور میں پاک۔امریکہ تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے جبکہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات مختلف مسائل کی وجہ سے آزمائش کا شکار ہیں۔
ان مسائل میں بھارتی شہریوں کے لیے ویزہ رکاوٹیں، بھارتی اشیاء پر امریکی محصولات میں اضافہ اور مئی میں پاک۔بھارت کشیدگی کے دوران ٹرمپ کا جنگ بندی میں ثالثی کا دعویٰ شامل ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ انسدادِ دہشت گردی، اقتصادی تعاون اور تجارتی تعلقات پر پاکستان کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ خطے میں امریکی مفادات کے فروغ کے لیے پاکستانی قیادت کے ساتھ براہِ راست تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں۔
- Advertisement -
رواں برس کے اوائل میں صدر ٹرمپ نے پہلی بار کسی پاکستانی آرمی چیف کو وائٹ ہاؤس میں باضابطہ طور پر مدعو کیا تھا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی یہ ملاقات تاریخی قرار دی گئی کیونکہ اس میں کوئی سویلین رہنما شامل نہیں تھا۔
بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی حکام کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ بعض معاملات پر کھل کر اظہار کرتے ہیں، تاہم واشنگٹن نئی دہلی کو اب بھی ایک قریبی دوست اور اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔
اسی تناظر میں کواڈ (امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا) اجلاس کی تیاریوں پر بھی بات جاری ہے جو ممکنہ طور پر اس سال کے آخر یا آئندہ سال کے آغاز میں ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر صدر ٹرمپ کی اس میٹنگ میں بھی شریک ہوئے تھے، جس میں مسلم ممالک کے رہنماؤں نے غزہ پر اسرائیلی حملوں پر بات کی۔
پاکستان نے اس موقع پر امریکہ کی جانب سے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے بھی تجویز کیا ہے تاہم ساتھ ہی امریکہ کے اتحادی اسرائیل کی جارحیت کی مذمت بھی کی ہے۔