MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

بیوروکریٹس اور افسران کو کاریں دینا بند کردیں

0 360

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد(مسائل نیوز) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ سوات میں ایک ہزار بچیوں کے اسکول پر جن دہشت گردوں نے حملہ کیا، ہم ان دہشت گردوں سے کس کے کہنے پر اور کیا مذاکرات کر رہے ہیں ،موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ہمیں دنیا کی طرف دیکھنے کے بجائے خود عملی اقدامات کرنے ہوں گے،پاکستان کی وفاقی و صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ججوں، بیوروکریٹس اور فوجی افسران کو کاریں دینا بند کردیں اور وہ پیسہ سائیکل کے راستوں، پیدل چلنے کے راستوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ کیا جائے۔
انٹرنیشنل جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں نے سوات میں ایک ہزار بچیوں کے اسکول پر حملہ کیا، وہ اسکول 5 سال تک بند رہا۔
انہوںنے کہاکہ ہم انہی دہشت گردوں سے مذاکرات کر رہے ہیں، ہم ان دہشت گردوں سے کس کے کہنے پر اور کیا مذاکرات کر رہے ہیں، دہشت گردوں سے مذاکرات کرنے کی کس نے آفر دی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عالمی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ہمیں دنیا کی طرف دیکھنے کے بجائے خود عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

- Advertisement -

انہوںنے کہاکہ غریب تو اپنا حصہ ڈال رہا ہے وہ پیدل چلتا ہے یا سائیکل پر سفر کرتا ہے، مغرب نے کہا ہے کہ پیدل چلیں، سائیکل استعمال کریں یا پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پاکستان کی وفاقی و صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ججوں، بیوروکریٹس اور فوجی افسران کو کاریں دینا بند کردیں اور وہ پیسہ سائیکل کے راستوں، پیدل چلنے کے راستوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ کیا جائے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی مدد ہم سب پر فرض ہے، فیملی پلاننگ کو سسٹم سے نکالنے سے آج ہماری آبادی بنگلہ دیش سے بڑھ گئی۔انہوںنے کہاکہ بنیادی حقوق میں سب سے اہم زندگی اور تعلیم کی فراہمی ہے، دونوں حقوق ہمارے ملک میں انڈر اٹیک رہے ہیں، کئی تعلیمی اداروں کو اڑا دیا گیا۔انہوںنے کہاکہ قرآن پاک میں قلم اور علم کی بات کی گئی ہے، غیرت کے نام پر عورتوں کا قتل بھی یہاں مسئلہ ہے، ہمارا ایمان عورتوں کی عزت کا درس دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن میں بھی عورت کے احترام کا حکم دیا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ آئین کے تحت عدلیہ کو بڑی مقدس ذمہ داری دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک جج کی حیثیت سے نہیں مسلمان شہری کی حیثیت سے بات کروں گا، نبی پاک ؐ کی تعلیمات پر عمل نہ کرنا مسائل کی وجہ ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ سیلاب کی وجہ سے ملک کا ایک بڑا حصہ زیر آب آیا، سیلاب متاثرین کو ڈینگی سمیت دیگر خطرات کا سامنا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق کانفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسی سے سوال پوچھا گیا کہ جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو)میں آئینی و بین الاقوامی مسائل سے متعلق ریسرچ اینڈ لیگل لا ڈائریکٹ قائم کیا گیا ہے، عدلیہ ان سے کوآرڈینیشن کیوں نہیں کر رہی، جس پر ان کا کہنا تھا کہ مجھے علم نہیں ہے کہ فوج نے کوئی ادارہ قائم کیا ہے، اگر وہ چاہیں تو میں انھیں یہ کوآرڈینیشن دینے کیلئے تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ آئینی یا بین الاقوامی ایشوز سے متعلق کوآرڈینیشن چاہتے ہیں تو مجھے یا کسی کو بھی دعوت دے سکتے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.