پولیس نے بتی چوک سے متعدد پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کر لیا
لاہور(مسائل نیوز) پولیس نے بتی چوک سے پاکستان تحریک انصاف کے متعدد کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔جس کے بعد بتی چوک پر پہنچنے والے پی ٹی آئی کارکنان کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ بتی چوک پر پولیس کی شیلنگ کے بعد علاقہ میدانِ جنگ کی شکل اختیار کر چکا۔پولیس کی جانب سے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے آںسو گیس اور شیلنگ کی گئی۔
یادگار چوک کے قریب بھی پولیس کی جانب سے کارکنان پر شیلنگ کی گئی۔یہ بھی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان رکاوٹیں ہٹا کر آگے بڑھ رہے ہیں۔شیلنگ کے باوجود پی ٹی آئی کارکنان آگے بڑھ رہے ہیں۔علاوہ ازیں پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ہم سے تلخ کلامی کی اور بدتمیزی کی۔
- Advertisement -
انہوں نے کہا کہ مارچ ہر صورت کامیاب ہو گا اور ہم اسلام آباد پہنچ کر رہیں گے۔
.دوسری جانب ترجمان پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ پولیس نے بدھ کے روز صبح سویرے سینیٹر اعجاز چوہدری کو ماڈل ٹاؤن سے گرفتار کیا جس کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ۔ ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ماڈل ٹاؤن پولیس دروازہ توڑ کر اعجاز چوہدری کے گھر میں داخل ہوئی اور سادہ لباس اہلکاروں نے پی ٹی آئی سینیٹر کو گرفتار کیا ۔
اسی طرح تحریک انصاف کے سینئر رہنما میاں محمود الرشید کو بھی گرفتار کر لیا گیا کیوں کہ حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کا لانگ مارچ روکنے کیلئے شروع کیے گئے کریک ڈاون میں تیزی آ گئی ہے ، پنجاب پولیس نے پنجاب اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر اور تحریک انصاف کے سینئر رہنما میاں محمود الرشید کو 16 ایم پی او کے تحت لاہور سے گرفتار کیا ، پی ٹی آئی رہنما کی گرفتار منگل کی رات کو عمل میں لائی گئی ۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء حماد اظہر نے وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز سمیت دیگر حکام کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی ، سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کی جانب سے حمزہ شہباز سمیت دیگر حکام کیخلاف عدالتی احکامات نظر انداز کرنے پر لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود ارکان اسمبلی کو گرفتار کیا جا رہا ہے ، حمزہ شہباز ،چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پولیس کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے ۔