لبرل کے ہاتھوں لرزہ خیز قتل
عبد الغنی شہزاد
- Advertisement -
گزشتہ دنوں صحافی ایاز میر کے بیٹے نے مبینہ طور پر شراب کے نشے میں دھت ہوکر انتہائی درناک طریقے سے بیوی کو قتل کرکے اس کی لاش کو واش روم کے ٹب میں پھینکا،کھلم کھلا شراب کو حلال کہنے والے ایازمیر کے بیٹے نے شراب کے نشے میں دھت اپنی نئی نویلی دلہن کو سر میں ڈمبل مار کر قتل کر دیا ۔ ہمیشہ مذہبی طبقے کے خلاف باتیں کرنے والے کے اپنےگھر کی صورتحال عبرت ناک ہوگئی ہے۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق ایاز امیر کے بیٹے شاہ نواز نے اپنی بیوی سارہ کو گھر میں قتل کیا ہے۔پولیس ترجمان نے بتایا ہے کہ ایاز امیر کے بیٹے شاہ نواز کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے، جو بھی حقائق سامنے آئے وہ شیئر کیے جائیں گے۔مقتولہ سارہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے پمز اسپتال منتقل کی گئی ہے۔ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی جگہ کا فارنزک مکمل کر لیا گیا ہے۔دوسری جانب سینئر صحافی ایاز امیر نے واقعے کے حوالے سے شہزاد ٹاؤن فارم ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا واقعہ کسی کے ساتھ پیش نہ آئے، یہ صدمہ کسی کو اٹھانا نہ پڑے۔صحافی نے سوال کیا کہ ایسا کہا جا رہا ہے کہ شاہ نواز نشے میں تھا؟ایاز امیر نے جواب دیا کہ قانونی معاملہ ہے،اس بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ اب اس سلسلے میں پاکستانی میڈیا نے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ، کیوں کہ شرابی شاہنواز کا تعلق لاڈلی پارٹی سے ہے تصویروں میں وہ عمران خان کے ساتھ اسٹیج پر نظر آتا ہے ، اور اس کا تعلق لبرل طبقے سے ہے ، آپ سوچئیے یہ واقعہ خدانخواستہ کسی مولوی یا کسی داڑھی والے سے سرزد ہوتا تو اب تک میڈیا آسمان سرپر اٹھا کر طوفان بدتمیزی مچاتا، اور اب تک مختلف شہروں کے پریس کلب کے سامنے موم بتی مافیاز کی انٹیاں بے ہودہ جملوں کے کتبے ہاتھ میں لئے احتجاج کرتے نظر آتیں، اور مختلف چینلز پر بیٹھے لبرل اینکرز افسوس ٹونز پر سوالات اٹھاتے مگر لبرل شرابی کے ظلم پر سب نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ، ضروری ہے کہ شراب کی سرعام تشہیر کرنے والے لبرل کے بیٹے کو عبرت کا نشان بناکر ثابت کیاجائے کہ پاکستان میں قانون ہر طبقے والے کیلئے یکساں ہے۔ انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے یہ ماڈرن طبقہ انسانیت کے مقدس نام پر ٹرانس جینڈر ایکٹ لاتا ہے ، کبھی ختم نبوت کے قانون کے خلاف سازش کرتا ہے اور پاکستان میں بھی کچھ لوگ وہ چاہتے ہیں جو یورپ اور امریکہ میں ہے۔ کچھ نا عاقبت اندیش روشن خیال دانشور پاکستان میں بھی اس پر عمل کرانا چاہتے ہیں یہ لوگ مسلمان کے گھر میں تو پیدا ہوگئے لیکن بد قسمتی سے اسلام کو سمجھا نہیں اگر یہ لوگ اسلام کی بنیادی تعلیم حاصل کر لیں تو کبھی مدارس کو نشانہ نہ بنائیں پورے یورپ میں جدید تعلیم نے انھیں ڈگری یافتہ تو بنا دیا جانوروں سے محبت کرنا تو سکھادی لیکن عورت کی عزت کرنا نہیں سکھایا اس کو تسکین کی چیز بنا دیا بچے چائلڈ ہوم میں اور والدین کو اولڈ ہوم پہنچا دیا خاندانی نظام کو تباہ کر دیا خود غرض بنادیا غرض معاشرتی برائیوں کو فیشن اور جدیدیت اور روشن خیالی کا لبادہ اڑھا کر اسےیورپی معاشرہ کا نام دے دیا اور ہم اسلام جیسے ایلک مکمل اور خوبصورت نظام زندگی کو چھوڑ کر مصنوعی اور بدبودار نظام کو اپنانے کی خواہش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنی دین اور دنیا دونوں تباہ کر نا چاہتے ہیں جس پر ہمیں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں تمام مذہبی اور معتدل حلقوں کو چاہیئے کہ اس قسم کے مظالم کے خلاف پھر پور آواز بلند کرکے اس مظلوم عورت کو انصاف دلانے میں کردار ادا کریں، سوشل میڈیا کادور ہے ہر ایک کو اس کے خلاف کھل کر سامنے آنا چاہئیے ، مذہب اسلام کو بدنام کرنے والے یہ لبرلز دراصل ملک کے لیے ناسور بنتے جارہے ہیں یہ دہشت گرد اور خونی طبقہ ہے اس کے ہاں آزادی کے نام پرانسانی حقوق اور اقدار نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔
[…] نیوز)پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر اینکر لاہور میں قاتلانہ حملے کے دوران بال بال بچ گئیں۔ […]