MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

شامی افراد نے سردی سے بچنے کےلیے میزائلوں کو ہیٹر میں بدل دیا

0 517

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

بشام(ویب ڈیسک ) جنگ سے تباہ حال شامیوں نے خون جمادینے والی سردی سے بچنے کیلیے میزائلوں کے خول کو ہیٹر میں تبدیل کردیا ہے۔صوبہ ادلب میں جسر الشگر نامی شخص نے اپنے گھر میں میزائل ری سائیکل کرکے اسے ہیٹر میں تبدیل کردیا ہے کیونکہ وہ ہیٹرخریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔ یہ میزائل اسے گھر کے پاس ملا تھا

جسے ایک لوہار سے تبدیل کروایا گیا ہے۔مسلسل جنگ، غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے ہیٹر اور ایندھن عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوچکے ہیں۔ تاہم مقامی لوہار 28 سے 32 سینٹی میٹر گھیر کے راکٹ اور میزائلوں کو احتیاط سے خالی کرکے انہیں ہیٹر میں بدل رہے ہیں۔ ان کا بارود مقامی کان کنوں کو پتھر توڑنے اور سرنگ بنانے کے لیے فروخت کردیا جاتا ہے۔ لیکن یہ پورا کام کسی نگرانی کے بغیر جاری ہے اور کسی بڑے حادثے کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

- Advertisement -

یہی وجہ ہے کہ بچے اور بڑے ایسے راکٹوں اور میزائلوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو پھٹنے سے رہ گئے ہوں۔ انہیں کارخانوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ پہلے میزائل کا اوپری حصہ کاٹا جاتا ہے تاکہ اس میں سے مضر بخارات باہر نکل جائیں۔ اس کے بعد بہت احتیاط سے اس کا بارود الگ کرلیا جاتا ہے جسے کان کنی کرنے والوں کو فروخت کردیا جاتا ہے۔

اس کے بعد میزائل کو ہیٹر کی شکل دی جاتی ہے۔اس طرح بہت کم خرچ ہیٹر بنائے جارہے ہیں جس کی لاگت 15 ڈالر ہے اور بازار میں عام ہیٹر کی قیمت 100 ڈالر کے قریب ہے۔ اب سیلنڈر نما ہیٹر میں لکڑی، برادہ، کاغذ اور نائیلون وغیرہ بھر کر جلایا جاتا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.