اے جی سندھ خدمت میں کوشاں ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
- Advertisement -
الحمدللہ پاکستان کے اہم اداروں میں اکاؤنٹینٹ جنرل صوبہ سندھ سرکاری ملازمین کی مالی اعانت و خدمات میں پیش پیش ھے۔ گزشتہ دس سالوں سے جو بہتری کا عمل شروع ھوا وقت کیساتھ ساتھ اس میں مثبت بہتری کے عمل دیکھنے میں آتے رھے۔ موجودہ اکاؤنٹینٹ جنرل آف سندھ جوکہ سندھ بھر کے چیف ھیں آپ نے ذاتی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ھوئے اپنے ڈپٹیز اور ایڈیشنلز اکاؤنٹینٹ پر مشتمل ٹیم تشکیل دی جو چیف اکاؤٹینٹ صاحب نے اپنی رہنمائی و نگرانی میں اسٹاف کی کارکردگی کا جائزہ لینا شروع کیا۔ تھم مشین کے ذریعے مقررہ وقت پر آفس پہنچنے کی سختی سے پابند کیا تاکہ سائلین کو گھنٹوں انتظار کی کوفت کا سامنا نہ ھو۔ سائلین کیلئے کمپیوٹرائز ٹوکن اور سسٹمز کے ذریعے ڈیٹا کی انٹری اور ریکارڈ کی درستگی کو درست رکھنے کیلئے اسٹاف کو پابند کیا کہ ایک سے زائد بار چیک کیا جائے تاکہ غلطی سرزرد نہ ھو اور سائلین پریشان نہ ھوسکے۔ یہی عمل اےجی پی آر نے بھی اپنایا ھوا ھے۔ چند سالوں سے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کیساتھ سرکاری ملازمین کے ریکارڈ و دیگر معاملات بلخصوص پینشن کو بآسانی بنانے کیلئے تمام چیف اکاؤنٹینٹ صوبائی و وفاق کی دلچسپی اور بہترین کارکردگی کی جانب بڑھنا ایک خوش آئند قدم ھے۔ اس میں اور بہتری لانے کیلئے سندھ سمیت تمام صوبوں کے چیفس اور اےجی پی آر کے چیفس نے بھی اسلام آباد کو خواہش ظاہر کی کہ سرکاری ملازمین بشمول پینشنرز سائلین کو مزید آسانی فراہم کرنے کیلئے وزیر خذانہ جناب اسحاق ڈار صاحب کو “سروس اپلیکیشن ” کے نام سے سمری بھیجی جائے جس میں وہ تمام پہلوؤں کو شامل کیا جائے جس سے تمام شکوک و شواہد سامنے آسکیں اور تصدیق کے بعد گھوسٹ اور جعل سازوں کا مکمل خاتمہ یقینی ھوجائے۔ اس اپلیکیشن سے جہاں ملازمین جدید خطوط کے تحت کمپیوٹراز بآسانی معاملات حل کرواسکیں گے اور نئی آگاہی لے سکیں گے وہیں دوسری جانب مڈل پرسن کا رول بھی ختم ھوجائیگا اور اس طرح سائلین اپلیکیشن کے ذریعے چوبیس گھنٹے سہولت سے مستفید ھوسکے گا۔ مانا کہ یہ نظام دنیا کے ہر مہذب ممالک میں جاری و ساری ھے ضرورت اب ھمارے ملک میں اس کی شدید ھے