بندوبست کیا ہوا ہے، اسلام آباد کو نرغے میں نہیں لینے دیں گے
اسلام آباد (مسائل نیوز) وزیر داخلہ راناثناء اللہ کا کہنا ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ مجبور ہو کربات کرے، اسلام آباد کو نرغے میں نہیں لینے دیں گے۔بندوبست کیا ہوا ہے، لانگ مارچ کے حوالے سے انہیں اپنی مرضی نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان لانگ مارچ کے ذریعے اہم تعیناتی کے معاملے پر دباؤ ڈالنے چاہتے ہیں مگر 26 نومبر سے پہلے تعیناتی ہو جائے گی جس ان کا مارچ بے معنی ہو جائے گا۔
عمران خان مغالطے میں ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ الیکشن کی تاریخ لے کر دے گی مگر اسٹیبلشمنٹ ان کو الیکشن کی تاریخ نہیں لے کر دے گی۔پی ڈی ایم کے تین بڑوں کو بلایا گیا تھا۔کہا قبل از وقت الیکشن پر وزیراعظم استعفیٰ دے دیں گے۔
پی ڈی نے اسٹیبلشمنٹ سے کہا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟۔اسٹیبلشمنٹ نے کہا یہ ہمارے رائے نہیں ہے۔عمران خان ایک ہی بات پر لگے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو مرعوب کر دو، اسٹیبلشمنٹ صاف شفاف الیکشن کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی۔
- Advertisement -
عمرانن خان سیاستان بن جائیں، سیاست میں واپس آ جائیں۔راناثناء اللہ نے مکہا کہ سیاستدان آپس میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں تو ڈیڈ لاک ٹوٹتے ہیں، مقابل سیاسی جماعتوں سے بات کریں تو کوئی حرف آخر نہیں۔دوسری جانب و سابق وزیراعظم عمران خان نے لمبے عرصے کیلئے نگراں سیٹ اپ کی پیشکش مسترد کردی ۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ عمران خان کو صدر مملکت عارف علوی اور مشترکہ دوستوں کے ذریعے پیغامات دیئے گئے تھے۔
حالیہ رابطوں میں عمران خان کو 5 ماہ کے نگراں حکومت کا آپشن دیا گیا تاہم پی ٹی آئی چیئرمین نے اس آپشن کو یکسر مسترد کردیا ۔ اس حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، نگراں حکومت کا کام صرف مقررہ مدت میں نئے انتخابات کرانا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیشکش کرنے والوں کے عمران خان سمیت نواز شریف سے بھی بیک ڈور رابطے جاری ہیں اور حکومت اس آپشن پر راضی تھی تاہم عمران خان کی جانب سے انکار نے سیاسی صورتحال پر پھر سوالیہ نشان لگا دیا ۔واضح رہے کہ اس سے قبل عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا تھا کہ نواز شریف طویل عرصے کے لیے نگراں حکومت کے خواہشمند ہیں۔