MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

مسلمانوں کا مودی کو دوٹوک پیغام؛ کانپور سے لکھنو تک ‘مجھے محمد ﷺ سے پیار ہے’ کی گونج

0 94

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اترپردیش(مسائل نیوز)بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں ایک کم عمر بچے کے خلاف صرف یہ پوسٹر لگانے پر ایف آئی آر درج کی گئی جس پر لکھا تھا “مجھے محمد ﷺ سے پیار ہے۔اس واقعے نے پورے بھارت میں شدید ردِعمل کو جنم دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں مسلمان شہری سڑکوں پر نکل آئے۔

پولیس کے اس متنازع اقدام کے خلاف بھارت کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں جن میں کانپور، لکھنو اور دیگر مقامات شامل ہیں۔ خاص طور پر لکھنو اسمبلی کے سامنے درجنوں مسلم خواتین نے پُرامن احتجاج کیا تاہم پولیس نے تمام خواتین کو حراست میں لے لیا۔

- Advertisement -

یہ واقعہ مذہبی آزادی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے اور اس کے بعد بھارت بھر میں “مجھے محمد ﷺ سے پیار ہے” (I Love Muhammad ﷺ) کے پوسٹرز اور بینرز کے ساتھ مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی یہی نعرہ ایک موثر آواز بن چکا ہے۔ #ILoveMuhammad ﷺ کا ہیش ٹیگ مختلف پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ حیران کن طور پر صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ کئی بھارتی ہندو صارفین بھی اظہارِ یکجہتی کرتے نظر آ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نجی ٹی وی چینل کا نمائندہ ہندو لڑکی سے سوال کرتا ہے کہ موجودہ حالات میں مجھے محمد ﷺ سے پیار ہے کہنا بھی بعض اوقات قانونی کارروائی کا باعث بن رہا ہے تو اس پر وہ لڑکی دو ٹوک انداز میں جواب دیتی ہے کہ اگر ایسا ہے تو مجھ پر بھی مقدمہ درج کیا جائے کیونکہ میں خود ایک پوسٹر کے ساتھ کھڑی ہوں جس پر لکھا ہے: “I Love Muhammad ﷺ”۔

سوشل میڈیا صارفین اس اقدام کو آزادیِ اظہار پر حملہ قرار دے رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ بچے کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر فوری طور پر واپس لی جائے اور پولیس کو اس اقدام پر جوابدہ بنایا جائے۔

یہ واقعہ بھارت میں بڑھتے ہوئے مذہبی تعصب اور اقلیتوں کے خلاف پالیسیوں پر ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے جس کے اثرات ممکنہ طور پر طویل مدت تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.