فیصل آباد میں طالبہ تشدد کیس،ملزم کی بیٹی کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی گئی
اسلام آباد (مسائل نیوز) فیصل آباد میں خاتون سے بدسلوکی کرنے والے ملزم کی بیٹی کی چار دن کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی گئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے مرکزی ملزم شیخ دانش کی بیٹی کو 25 ہزار روپے کے مچلکے داخل کرانے کا حکم دیتے ہوئے حفاظتی ضمانت منظور کی گئی۔قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت کو گمراہ نہ کیا کریں۔
حفاظتی ضمانت کا کوئی قانون نہیں۔یہ صوابدیدی ریلیف ہے۔خیال رہے کہ میڈیکل کی طالبہ پر تشدد کرنے والی انا علی نے حفاظتی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ شیخ دانش علی کی بیٹی ملزمہ انا علی نے حفاظت ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ۔انا علی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا کہ وہ کم عمر ہیں اور انہیں پولیس کی جانب سے گرفتاری کا خدشہ ہے۔
انا علی نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ وہ جائے وقوعہ پر موجود بھی نہیں تھی مگر مقدمے میں نامزد کیا گیا۔بیرونی پریشر پر پولیس مجھے گرفتار کرنا چاہتی ہے۔تسلیم شدہ اصول ہے جرم ثابت ہونے تک کوئی بھی معصوم ہی تصور ہو گا۔ملزمہ نے کہا وہ متعلقہ عدالت میں پیش ہونا چاہتی ہیں انہیں حفاظتی ضمانت دی جائے۔ فیصل آباد میں نجی ملز کے مالک شیخ دانش کے خلاف تھانہ ویمن میں مقدمہ کا اندراج کرواتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملزم اسکی کلاس فیلو کا والد ہے جو اسے شادی کرنے پر مجبور کر رہا تھا جبکہ شادی سے انکار پر ملزم نے اپنی بیٹی انا فاطمہ، ملازمہ ماہم اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ خدیجہ کو اسکے گھر سے اغوا کرلیا اور اپنے گھر لیجا کر اسے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے زخمی کرنے کے بعد اسکے سر کے بال بھی کاٹ دئیے۔
ملزمان کی جانب سے خدیجہ غفور کو جوتے چاٹنے پر بھی مجبور کیا گیا، تشدد کے دوران ملزمان کی جانب سے ویڈیو بنا کر بھی سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی جن میں پولیس نے واقعہ میں ملوث مرکزی ملزم اور خاتون ماہم سمیت چھ افراد کو حراست میں بھی لے رکھا ہے، ملزم کے گھر کی تلاشی کے دوران لاکھوں روپے مالیت کی شراب کی بوتلیں بھی برآمد ہوئیں، پولیس نے واقعات کے مقدمات بھی درج کر رکھے ہیں۔مقدمہ میں نامزد شیخ دانش کی بیٹی ملزمہ انا شیخ کو بیرون ملک بھاگنے سے روکنے کیلئے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی تحریر درخواست بھی دی گئی تھی۔