MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

مری ممکنہ حادثات اور سیاحتی مرکز،تحریر:عابد شاہ سرگودہ

0 276

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

محترم قارئین اسلام و علیکم۔وعدہ کیا تھا کہ “مری” سانحہ کے حوالہ سے گزارشات پیش کرونگا۔۔۔مری ایک سیاحتی مقام ہیے اور سانحات کےباوجود اپنی کشش رکھتاہیے اور اپنی اہمیت میں دن بدن اضافہ کررہا ہیے۔۔۔لیکن اس میں ہم دیکھتےہیں کہ مری سے حکومت کو خاطرخواہ آمدن نہیں ہوتی اور عام تحصیلوں کیطرح “مری” بھی ایک تحصیل ہوتے ہوئے صوبہ کی دیگر تحصیلوں کیطرح حکومتی بےتوجہی کا شکار ہیے۔۔جبکہ “سیاحتی مقام” ہوتے ہوئے مری کی اپنی اہمیت ہونا چاہیے تھی۔۔جوکہ نہیں ہیے۔۔۔ مری بحیثیت ایک سیاحتی مقام کے حکومت کےلیے ایک چیلنج سے کم نہیں۔

۔صوبہ پنجاب مری جیسے سیاحتی مقام سے خاطر خواہ آمدن لےسکتاہیے اور ملک کےلیے ریونیو جنریٹ کرسکتا ہیے۔۔۔مری کےلیے ایک مکمل پلان ترتیب دیاجانابہت ضروری ہیے۔۔جس میں مری کو باقاعدہ سیاحتی مقام کا درجہ ہی کافی نہیں بلکہ اسکے لیے حکومتی عمل دخل بہت اہم ہیے۔۔تاکہ سیاحوں کےلیے زیادہ پرکشش بنایا جائے۔۔۔یہاں جھیکا گلی کلڈنہ سنی بنک کےاوپر جاتے راستوں تک پرائیویٹ ملکیت بتدریج ختم کردی جائے۔۔ سنی بنک کلڈنہ جھیکا گلی کے علاقوں میں پارکنگ بنائی جائیں اور اوپر ٹورسٹ گاڑی نہ جانے دی جائے۔۔

- Advertisement -

۔۔ان پوائنٹس سے آگے ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ کی اوپن گاڑیاں چلائی جائیں۔۔۔یوں ایک لاکھ گاڑیوں کا واویلا بھی ختم ہوجائے گا۔۔۔۔اوپر مال روڈ کشمیر پوائنٹ پنڈی پوائنٹ لاری اڈہ پر زیادہ سے زیادہ تیس ریسٹورنٹ کھانے پینے کے رہنیں دیئے جائیں بقایا ختم کردیے جائیں۔۔۔یہ ریسٹورنٹس حکومت کی ملکیت ہوں۔حکومت اس علاقہ میں اپنے رہائشی ہوٹل بنائے۔۔۔۔اور یہاں لوگوں کو روزگار دیا جائے۔۔۔۔سیاحوں سے کہا جائے کہ رہائش ایڈوانس بکنگ کروا کر آئیں۔۔۔مال روڈ۔۔پنڈی و کشمیر پوائنٹ لاری آڈا سے جن ہوٹل مالکان کو اٹھایاجائے انہیں ایکسپریس وے پتریاٹہ پر جگہ الاٹ کی جائے کہ اپنے ہوٹل یہاں تعمیر کریں۔۔۔۔ان ہوٹلز کے نقشے کا نمونہ ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ منظور کرے اور ہوٹلز کے لیے باقاعدہ ایس اوپیز جاری کیئے جائیں۔۔

۔۔۔پتریاٹہ کی جانب رخ بڑھایا جائے۔۔۔۔۔مری روڈ تریٹ سے آگے ڈبل کردی جائے اور سائیڈوں پر مارکیٹس ریسٹورنٹس کے لیے جگہ نیلام کی۔جائے۔۔۔۔یا اوپر سے اٹھائے جانے والے ہوٹل مالکان کو کمپنسیٹ کیا جائے۔۔۔۔ٹیکس کے نظام کو آسان بنایا جائے اور مری میں تمام اختیارات ٹوارزم ڈائریکٹوریٹ کو دیے جائیں۔۔۔۔اس سے یہ ڈیپارٹمنٹ بھی کام پر لگ جائے گا۔۔۔۔اور حکومت کےلیے بھی محصولات کے حوالے سے کافی آسانی ہوجائے گی اور ایک ہی ڈیپارٹمنٹ سے حساب کتاب کرلےگی۔۔۔۔یوں ملازمتوں کے نئے مواقع بھی نکلیں گے اور حکومت کوخاطر خواہ آمدن بھی ہوگی۔۔۔۔۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.