این اے 245 میں ضمنی الیکشن‘ پی ٹی آئی نے دھاندلی کا الزام لگا دیا
کراچی(مسائل نیوز)پاکستان تحریک انصاف نے کراچی کے حلقے این اے 245 میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگا دیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماء اور سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ سامان پولنگ اسٹیشن پہنچ چکا لیکن معلوم نہیں محفوظ ہاتھوں میں ہے یا نہیں کیوں کہ الیکشن کمیشن جانب داری کا مظاہرہ کر رہا ہے جب کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کو پیپلز پارٹی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ نشست آپ کی ہے۔
خیال رہے کہ کراچی کے حلقہ این اے 245 میں ضمنی انتخاب کا میدان سج گیاجہاں پولنگ کا عمل جاری ہے جو شام 5 بجے تک جاری رہے گا، این اے 245 کے ضمنی الیکشن میں ایم کیو ایم کے معید انور، پی ٹی آئی کے محمود مولوی، ایم کیو ایم بحالی تحریک کے ڈاکٹر فاروق ستار، تحریک لبیک کے محمد احمد رضا میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے، پا ک سرزمین پارٹی کی جانب سے حفیظ الدین اور مہاجر قومی مومنٹ کے محمد شاہد بھی اس نشست پر زور آزمائی کر رہے ہیں جب کہ سیاسی اتحاد میں شریک پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار ایم کیو ایم کے امیدوار کے حق میں دستبرداری کا اعلان کر چکے ہیں۔
اس سے پہلے این اے 245 کراچی میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ 27 جولائی کو ہونا تھی تاہم الیکشن کمیشن نے اسے ملتوی کردیا اور کہا گیا کہ طوفانی بارشوں کی پیشن گوئی اور محرم الحرام کی آمد کے بعد ضمنی الیکشن کا انعقاد ایک ماہ بعد ہو گا، اسی لیے تحریک انصاف کے مرحوم ایم این اے عامر لیاقت حسین کے انتقال پر خالی ہونے والی کراچی کی قومی اسمبلی کی نشست این اے 245 پر 27 جولائی کی بجائے 21 اگست 2022 کو ضمنی الیکشن کروانے کا اعلان کیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ ضمنی انتخابات کے لئے 17 امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے تھے، ان میں سے اب 15 امیدوار مد مقابل ہیں کراچی ضلع شرقی میں واقع این اے 245 کا حلقے والا علاقہ ماضی میں ایم کیوایم کا گڑھ رہا ہے اور اس کے امیدوار یہاں سے جیتتے آئے ہیں تاہم 2018ء میں اسے یہاں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 2018ء کے جنرل الیکشن میں این اے 245 سے پی ٹی آئی کے امیدوار ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 56673 ووٹ لے کرمنتخب ہوئے، ایم کیوایم کے فاروق ستار 35429 لیکر دوسرے اور تحریک لبیک کے محمد احمد رضا 20737 ووٹ سمیت کر تیسرے نمبر پر رہے تھے۔