MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

اپنی سندھ قوم اور حکومت کی نظر۔۔۔۔

0 339

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی بساط و استطاعت کے مطابق سچ کہنا اور حق کہنا میں اپنا دینی،قومی، معاشرتی،سماجی اور سیاسی فریضہ سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے بذات خود PST میں 42 مارکس لیے ہیں لیکن میں یہ عقیدہ رکھتے ہوٸے کہ”رزق تو یقینا اللہ کے ہاتھ میں ہے“ اپنے روزگار سے زیادہ اپنے ملک اپنے ادارے اور اپنی قوم کے مستقبل کی فکر رکھتا ہوں۔
محکمہ تعلیم سندھ کےہونے والے 2021 میں اساتذہ بھرتی کا جو ٹیسٹ IBA کے ذریعہ رکھا گیا تھا۔اب اس ٹیسٹ میں جب میری قوم نے ٹیسٹ دیا جب پاس نہ ہوسکے تو بجاٸے اپنی محنت اور معیاری تعلیم کے الٹا اپنے ادارے پر تنقیدیں کی گٸیں کہا گیا کہ ادارہ نے سخت ٹیسٹ لیا وغیرہ وغیرہ۔یہ اپنی نااہلی کا پہلا دعویٰ ہے۔۔۔۔
ثانیا یہ کہ میری قوم کا علمی زوال یہ ہے کہ جب IBA کا میرٹ 55% مارکس پر تھا تو جب میری قوم نے ٹیسٹ میں 55فیصد سے کم نمبر لیے تو بجاٸے اگلی دفعہ تیاری کے الٹا حکومت کو چیلینج کیا اور روڈوں پر نکل آٸے احتجاجی مظاھرے کردیے۔اسی طرح پھر 40 فیصد نمبرز حاصل کرنے والوں نے سوشل میڈیا پر یہ ٹرینڈ چلایا کہ ہمیں پاس کیا جاٸے ہمارے ساتھ انصاف کیا جاٸے۔مجھے بتاٸیں انصاف کیا ہے؟؟کیا یہ انصاف ہے کہ جب میرٹ 55 فیصد پر تھا تو ڈی گریڈ کرکے تعلیمی معیار کو گراکر 40 فیصد کر دیا جاٸے؟؟حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنا علمی زوال دیکھنے کے ساتھ ساتھ اب اخلاقی زوال پر بھی پر تلے ہوٸے ہیں۔صرف اپنے پیٹ اپنی روزی کے لیے سارے اصول بھول گٸے میرٹ بھول گٸے قوم کا حق بھول گٸے۔چاہیے تو یہ تھا کہ بجاٸے سندھ حکومت ان کے مطالبات ماننے کے اپنا پہلے ہی مقرر کیاگیا فیصلہ سے کبھی نہ ہٹتی کہ جو میرٹ تھا وہی رہتا بلکہ دوبارہ ٹیسٹ لیےجاتے اور رمیننگ سیٹیں فل کیے جاتے۔یوں قوم کا معیار برقرار رہتا اور محکمہ تعلیم اتنا بدنام نہ ہوتا جتنا ابھی ہے یا ہوگا یا ہونے والا ہے۔۔۔یہ کہاں کااصول ہے کہ جب میرٹ پر نہ اترو تو روڈوں پر نکل آو؟اپنی حکومت اپنی قوم کو بدنام کرو؟اگر تمہیں یہ ناانصافی نظر آرہی تھی تو تمہیں ٹیسٹ دینے سے پہلے ہی کہنا چاہیے تھا نہ کہ 55 فیصد پاس والا فیصلہ ناانصافیوں پر مبنی ہے۔۔اس وقت تو تمہیں یاد نہیں رہا۔اب جب تم اپنی اہلیت کے مطابق پاس نہیں ہوسکے اب کہتے ہو کہ جی پچھلی مرتبہ 33 فیصد پاس شمار تھا یہ تھا وہ تھا وغیرہ وغیرہ۔عجیب بات ہے یار کوٸی یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ میں نے محنت نہیں کی میں پاس نہیں ہوسکابجاٸے حقیقت بیان کرنے کے اپنا رونا رو رہے ہیں اور حکومت کو مجبور کرریے ہیں کہ ہم نااہلوں کو بھی پاس کیاجاٸے ہمارے ساتھ انصاف کیا جاٸے۔۔
انصاف کیا ہے؟؟بتاو؟کیا یہ انصاف ہے کہ 50 نمبرز والے احتجاج کریں کے 50 تک پاس کرکے ہمارے ساتھ انصاف کرو پھر دوسری طرف 40 نمبرز والے ٹرینڈ چلاٸیں کہ ہمیں پاس کرکے ہمارے ساتھ انصاف کرو ادھر 33 والے ٹرینڈچلاٸیں کہ ہمارے ساتھ انصاف کیا جاٸے ہمیں آفر لیٹر دیا جاٸے۔۔۔ادھر حکومت کا یہ فیصلہ کرنا کہ 25 والوں کو سپیشل ٹرینگ کے بعد موقع دیا جاٸے یار یہ کیسا انصاف ہے؟؟اگر ایسا ہی کرنا ہے تو یہ تجویز بہتر تھی کہ میرٹ برقرار رکھتے ہوٸے صرف 55 فیصد والوں کو آفر دے کر بقیہ کینڈیڈیٹ کو سپیشل ٹرینگ دےکر دوبارہ ٹیسٹ لیا جاتا کہ جو پاس ہوتا میرٹ پر اترتا اسی کو موقع دیا جاتا یوں سب متفق رہتے اور ہمارا تعلیمی معیار بہتر رہتا بلکہ آٸندہ کا نظام مزید مستحکم بنتا اور یقینا بہتری کی طرف جاتا۔۔۔۔
لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کیا جو ہماری خواہش ہے کٕیا وہی انصاف ہے؟ کہ جس کے جتنے فیصد نمبرز ہیں وہ خود کو پاس شمار سمجھے اور اسی کو انصاف سمجھے؟؟
حقیقت یہ یے کہ یہ انصاف نہیں بلکہ ظلم ہے مستقبل کے بچوں کے ساتھ اور قوم کا تعلیمی زوال ہے۔کہ جو خود نہ پڑھ سکا وہ پڑھانے پر لگ گیا۔۔۔۔یہی ہماری مفادپرستی اور جہالت ہے جس کی وجہ سے ہم نے آج تک خود کو اور اپنی قوم کو نہیں بدلا۔قوم کو بدلنے کا بنیادی ذریعہ ہی تعلیم جس میں ہم خود میں تبدیلی لانا ہی نہیں چاہتے۔۔۔بس جی سکولوں بورڈ امتحانات میں کالجز اور یونیز تک کے امتحانات میں نقل پر اچھا گزارا ہورہا ہے یہی قوم کے ساتھ ٹوپی ڈرامہ صدیوں سے ہورہا ہے۔۔حال ہی میں وزیر تعلیم محکمہ سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ کے اجلاس میں کیا گیا فیصلہ کہ 55 فیصد سے 40 فیصد پاسنگ کیا گیا۔اس فیصلہ میں انہوں نے پہلی غلطی یہ کی کہ یہ فیصلہ غلط ہے یہ فیصلہ مستقبل میں فتنہ و فساد برپا کرےگا۔کیونکہ اگر 40 فیصد والے پاس ہیں تو 30 والے کیوں نہیں؟؟؟اگر 30 والے بھی بعد میں سپیشل ٹرینگ لےکر موقع حاصل کرسکتے ہیں تو 20 یا 10 والوں کا کیا قصور ہے؟؟؟ یارا یہ کہاں کا انصاف ہے؟؟کیا ہم نہی چاہتے کہ ہمارا تعلیمی ماحول سیدھا ہوسکے ہماری قوم سیدھی ہوسکے تاکہ ہمارا مستقبل ہمارے لیے خیر ثابت ہو۔اب بہتر تجویز یہ ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ میرٹ وہی رہے جو مقرر تھایعنی 55 فیصد ہی رہے۔۔۔55% سے کم والوں کو سپیشل ٹرینگ دے کر دوبارہ ٹیسٹ لیا جاٸے یوں رماٸننگ وکینسیز پورے کیےجاٸیں۔
مستقبل کو بہتر بنانا ہے تو مستقبل کی ڈور ہمارےہاتھ میں ہے ہمیں خود کو بدلنا ہوگا اپنی سوچ فکرمیں بجاٸے خودغرضی مفادپرستی کےاپنی زمین اپنی قوم اپنا ملک کا نام روشن کرنا ہوگا۔یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم نے آٸندہ نسل کا تعلیمی معیار بہتر بنایا ورنہ کاپی پیسٹ کا سلسلہ تو صدیوں سے چلتا آرہا ہے ہمیں بہتر تعلیم کے لیے بیرونی ممالک جانا گوارہ ہے لیکن اپنا تعلیمی معیار بدلنا گوارہ نہیں۔۔۔۔۔یہی بنیادی سوچ ہمیں ثابت کرتی ہے کہ ہم غلام ہیں ہم وڈیروں کے سیاسی لیڈروں کے اور اپنے نفس کے اپنی خواہشات کے غلام ہیں۔۔۔۔۔۔ایک مقولہ اپنے ذہن میں ضرور رکھیں کہ حق کڑوا لگتا ہے۔۔صرف اس کو جو حق کو قبول نہیں کرتا۔۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.