روزے میں چکر آتے ہیں؟ افطار سے سحری تک پانی کا زیادہ استعمال آپ کو دن بھر توانا رکھے گا
کراچی (مسائل نیوز)ماہِ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ماہرینِ غذائیت نے روزے کے دوران توانائی، ہائیڈریشن اور مجموعی صحت برقرار رکھنے کے لیے متوازن خوراک کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ درست غذائی انتخاب روزے داروں کو دن بھر متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق سحری روزے کے دوران توانائی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سحری میں آہستہ ہضم ہونے والے پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس جیسے اوٹس، ہول ویٹ روٹی، براؤن چاول اور جو شامل کیے جائیں تاکہ خون میں شوگر کی سطح مستحکم رہے اور زیادہ دیر تک توانائی برقرار رہ سکے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ان غذاؤں کے ساتھ معیاری پروٹین جیسے انڈے، دہی، دالیں، لوبیا اور گریاں بھی شامل کی جائیں، جو پٹھوں کی مضبوطی برقرار رکھنے اور طویل وقت تک پیٹ بھرے رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
غزائی ماہرین افطار سے سحری تک ایک سے دو لیٹر پانی پینے کی تاکید کرتے ہیں جبکہ کھیرا، مالٹا اور دیگر پانی سے بھرپور پھلوں اور سبزیوں کے استعمال کو بھی ضروری قرار دیا ہے تاکہ جسم میں پانی کی کمی سے بچا جا سکے۔
- Advertisement -
افطار سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ روزہ ایک یا دو کھجور اور ایک گلاس پانی سے کھولنا کارآمد ہے، جس سے جسم کو فوری توانائی اور ضروری الیکٹرولائٹس حاصل ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق متوازن افطار میں آدھی پلیٹ سبزیوں پر مشتمل ہو، ایک چوتھائی حصہ پروٹین جیسے چکن، مچھلی یا دال پر مشتمل ہو جبکہ باقی چوتھائی پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہونا چاہیے۔
انہوں نے تلی ہوئی، زیادہ میٹھی اور پراسیسڈ غذاؤں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ یہ بدہضمی اور توانائی میں اچانک کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق متوازن اور مناسب مقدار میں غذا کا استعمال نہ صرف وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ مجموعی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر روزے دار دانش مندی سے غذائی انتخاب کریں تو وہ رمضان کے دوران خود کو توانا رکھتے ہوئے یکسوئی کے ساتھ عبادات انجام دے سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر شخص کی جسمانی ساخت اور طبی ضروریات ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، اس لیے خوراک میں کسی بھی نمایاں تبدیلی سے پہلے معالج یا مستند ماہرِ غذائیت سے رہنمائی لینا ضروری ہے، خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو کسی بیماری یا طبی عارضے میں مبتلا ہوں۔