عالمی دنیا کی پاکستان پر نظر
عبدالغنی شہزاد
- Advertisement -
عمران خان حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستانی عوام کو یہ خوش فہمی تھی کہ راتوں رات مہنگائی کا خاتمہ ہوگا ، یکدم خوشحالی کی لہروں میں ملک آئی ایم ایف کے قرضوں سے نکل کر آزادی کے ساتھ خارجہ پالیسی بنانے میں کامیاب ہوگا ،لیکن حکومت پی ڈی ایم جماعتوں کو ملنے کے بعد شیخ رشید کی اس بات کی عملی تائید ہوئی ہے کہ ہم نے جو معاشی سرنگیں بچھائی ہیں اس میں یہ حکومت سفر نہیں کرسکے گی ، اس حوالے سے آئی ایم ایف نے بھی انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی نے معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی کی جس کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی کا طوفان آیا ہے ، تاہم جس برق رفتاری سے وزیر اعظم میاں شہباز شریف عالمی دنیا کو متوجہ کرنے اور ان کے اعتماد کو بحال کرنے میں کامیاب ہورہے یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے نیک شگون ہے ، اس طرح کم عمر وزیر خارجہ بلاول بھٹو جس انداز میں محنت کررہے ہیں وہ عالمی میڈیا پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں ،وہ شاہد محمود قریشی اور دیگر سے بہتر پوزیشن میں پاکستان کا مقدمہ لڑرہے ہیں، سعودی عرب چین روس امریکہ ترکی اور خلیجی ممالک کی نظر اس وقت پاکستان پر ہے کہ مستقبل میں وہ کیا رول پلے کررہا ہے ، بعض دوست ممالک چاہتے ہیں کہ پاکستان معاشی بحران سے نکل کر خطے میں امن و امان سمیت تجارتی سرگرمیوں میں دوبارہ اس ٹریک پر آجائے جو نواز شریف چھوڑ کر گئے تھے، پاکستان کی خوشحالی اور ترقی سے جیساکہ آپ کو معلوم ہے، ازبکستان کے زیر صدارت شنگھائی تعاون تنظیم یعنی ایس سی او کا اہم اجلاس اس بار تاریخی شہر سمر قند میں ہوا، سمر قند ازبکستان کا تاریخی اور تجارتی شہر ہے جس کے قریب صرف تیس کلومیٹر پر امام بخاری ؒ کا مزار ہے، ، شائد اسی وجہ سے ازبکستان کی حکومت نے اس بار اہم اجلاس کے لئے اس شہر کا انتخاب کیا، ازبکستان کو ایک سالہ چئیرمین شپ ایسے موقع پر ملی ہے کہ جب دنیا ایک دور سے دوسرے دور کی جانب قدم بڑھا رہی ہے۔ خطے کے کئی ممالک میں جنگی صورت حال ہے،اس برس تنظیم کے موجودہ چئیرمین ازبکستان کے صدرشوکت مرزایوف ہیں۔ انہوں نے سمٹ سے پہلے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ”ایس سی او کے تمام رکن ممالک ہمارے قریب ترین ہمسائے، دوست اور اسٹرٹیجک پارٹنر ہیں۔“گذشتہ برس بھی ریجنل کنیکٹویٹی کے فروغ کے لئے ا زبکستان میں دو روزہ سینٹرل اینڈ ساوتھ ایشیاء ریجنل کنیکٹیویٹی کانفرنس منعقد ہوئی تھی، اس کانفرنس میں میں بھی سا ٹھ کے قریب ممالک نے شرکت کی تھی،۔ ازبکستان اپنے سلک روڈ کے اہم ترین شہر میں بڑی سرمایہ کاری کے ساتھ یہ سمٹ تو منعقد کر اچکا ہے تاکہ وہ خطے میں اثر و رسوخ حاصل کر سکے اور اس طرف توجہ مبذول کروا سکے کہ ایس سی او ممالک دنیا کی ایک چوتھائی جی ڈی پی کے مالک ہیں۔
گلوبل ویلج کا خواب چکنا چور ہوچکا ہے، اب دنیا علاقائی اتحادوں میں تقسیم ہوچکی ہے،ناٹو،عرب لیگ،یورپین یونین، آسیان اور افریقی اتحاد کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم بیس برسوں میں تیزی سے ایشیائی ریجن میں ابھرنے اور مضبوط علاقائی اتحاد بن کر سامنے آیا، (ایس سی او) ایک بین سرکاری تنظیم ہے جو 15 جون 2001 کو شنگھائی میں قائم ہوئی۔ ایس سی او اس وقت آٹھ رکن ممالک (چین، بھارت، قازقستان، کرغیزستان، روس، پاکستان، تاجکستان اور ازبکستان) پر مشتمل ہے، چار مبصر ریاستیں جو مکمل رکنیت حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
اجلاس میں چینی صدر،پاکستانی وزیراعظم، روسی صدر سمیت تمام رکن ممالک اور مبصرین کے سربراہان نے شرکت کی،ایس سی او کے اہم اجلاس میں صرف ایک مبصر ملک افغانستان کی نئی حکومت کے ارکان کوبحیثت مبصر شرکت کی دعوت نہیں دی گئی؟ یہ دوسری کانفرنس ہے کہ جس میں افغان حکومت کو دعوت نہیں دی گئی، کیا ایس سی او کے رکن ممالک تقسیم ہیں؟ یا امریکی خوف کا شکار؟اس کے باوجودخوش آئند بات یہ ہے کہ افغان طالبان علاقائی اور عالمی تعلقات کی بدلتی ہوئی سوچ کے ساتھ ہر معاملے میں اعتدال پسندی کا مظاہرہ کر ر ہے ہیں۔ ان کی یہ سنجیدگی نہ صرف خطے کے حق میں ہے بلکہ خود افغان عوام کے اندراس کے حوالے سے ایک مثبت سوچ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حقیقت میں ان میں سے اکثر منصوبوں پر کام تب ہی ہوسکتا ہے،جب افغانستان کی حکومت کا تعاون حاصل ہو،افغانستان میں امن مستقل ہو،باغیوں کی مدد نہ ہوَ،مشترکہ حکمت عملی سے خطے میں امن دشمن قوتوں کا خاتمہ ہو سکے گا تاہم یہ رابطہ عارضی نہیں ہونا چاہئے۔اور اس اہم فورم پر افغان حکومت کی نمائندگی نہ ہونے سے افغان حکومت مغرب کی طرف جانے کا سوچ سکتی ہے۔
اس کانفرنس میں سائیڈ لائن پر بھی ملاقاتیں ہوئیں،روس کے صدر ولادی میر پوٹن اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کے مابین بھی سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر الگ سے ملاقات ہوئی ‘وزیراعظم نے ر وس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان خوراک کی سیکیورٹی، تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی، دفاع اور سلامتی سمیت باہمی طور پر مفید تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جاسکے۔” روسی صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کو اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں، روس اور پاکستان کے تعلقات مثبت انداز میں بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے ہوئے جانی نقصان پر بیحد افسوس ہے، سیلاب متاثرین کے لیے امداد بھجوائی ہے، مزید مدد کے لیے تیار ہیں۔روسی صدر نے کہا کہ روس پاکستان کے تعلقات میں معاشی، تجارتی شعبوں میں تعاون اہم ہے، پاکستان اور روس میں ریلوے اور توانائی کے شعبوں میں کام کرنیکی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم بہت سارے شعبوں میں مثبت انداز میں مل کر کام جاری رکھیں گے۔ولادیمر پیوٹن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایل این جی فراہمی کے لیے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر بھی قابل توجہ ہے، پاکستان کو روس سے گیس کی سپلائی کی جاسکتی ہے، پاکستان کو پائپ لائن کے ذریعے گیس کی سپلائی ممکن ہے۔ پاکستان کو گیس سپلائی روس، قازقستان، ازبکستان کے پہلے سے بنے انفرا اسٹرکچر سے ممکن ہے۔
افغان مسئلے پر بات کرتے ہوئے صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ ہمیں افغانستان کے مسئلے کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے، افغانستان میں سیاسی عدم استحکام ہے جو حل ہونے کی امید ہے۔روسی صدر نے کہا کہ افغانستان کے لوگوں سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کی صورتحال پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت ہے۔ دونوں فریقوں نے بین الحکومتی کمیشن یا آئی جی سی کا اگلا اجلاس جلد از جلد اسلام آباد میں بلانے پر اتفاق کیا۔گیس پائپ لائن کا طویل عرصے سے تاخیر کا شکار منصوبہ پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے – پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے حالیہ ہفتوں میں کہا ہے کہ بہتر نرخوں کی صورت میں ان کی حکومت روسی گندم خریدنے میں بھی دلچسپی رکھتی ہے۔یاد رہے پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے فروری میں اس دن ماسکو کا دورہ کیا تھا جس دن روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔
اس اجلاس کے حوالے سے کئی باتیں بھی دنیا بھر میں سامنے آرہی ہیں،امریکی تھنک ٹینک کارنیگی انڈومنٹ کے نائب صدر ایون فیگین بام کا کہنا ہے کہ اس تنظیم میں اتحاد کا فقدان ہے۔ تنظیم سلامتی کے مسائل کو حل کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ عشروں سے ایک دوسرے کے دشمن پاکستان اور بھارت تنظیم کا حصہ ہیں۔ تنظیم خطے میں معاشی تعلقات بڑھانے میں بھی ناکام رہی ہے کیوں کہ یہ نہ کوئی تجارتی معاہدہ ہے نہ کوئی سرمایہ کاری کی تنظیم۔ تنظیم کے رکن ممالک بہت سے انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں میں بھی اختلاف رکھتے ہیں۔
دنیا اور اس بلاک اور خطے کے لاکھوں لوگ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ صرف ملاقتیں اور فوٹو سیشن سے آگے بڑھنا ہوگا،انفرادی معاہدوں کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح پر کنیکٹیویٹی کے لئے تجارتی معاہدے کرنے ہونگے، یہ وہ صورت حال ہے کہ جس میں اہم کردار چین روس اور پاکستان کا ہوگا۔
[…] نیوز) صوبائی دارالحکومت لاہور کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا جس کے نتیجے میں چینی سمیت 15 کلو آٹے کے تھیلے […]