حکام گیس نہ ملنے کی وجہ صارفین کے ذمہ 3ارب روپے واجب الادا بتاتے ہیں، خالق ہزارہ
کوئٹہ (مسائل نیوز) بلوچستان اسمبلی اجلاس میں قرار داد پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے سب سے پہلے گیس پریشر پر آواز اٹھائی اور احتجاج کیا لیکن سوئی گیس حکام ٹس سے مس تک نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ قرار داد کو چند علاقوں تک محدود کرنے کے بجائے پورے بلوچستان کے حوالے سے منظور کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ گیس حکام نے شکوہ کیا ہے کہ صوبے میں گیس ریکوری نہ ہونے کے برابر ہے صارفین کے ذمہ 3ارب روپے واجب الادا ہیں سوئی گیس کی جانب سے سبی کے قریب 3کمپریسر نصب کئے گئے ہیں جنکے ذریعے صوبے کو گیس پریشر فراہم کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوئی گیس حکام کو تجویز دی ہے کہ کوئی ایک علاقہ ماڈل تصور کرتے ہوئے وہاں 100فیصد پریشر مہیا کیا جائے اور 100فیصد ریکوری بھی کی جائے اس طرح دیگر علاقوں کے لوگوں کو بھی بل جمع کروانے کی ترغیب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اراکین اسمبلی بھی میٹر ٹیمپرنگ کے خاتمے اور بل ادائیگی میں اپنا کردار ادا کریں۔بعدازاں ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے قرارداد کو ترمیم کے ساتھ منظور کرنے کے لئے ایوان کی رائے لی گئی جس پر قرار داد کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
- Advertisement -