زرعی پیداوار میں پاک فوج کا کردار
تحریر: کنول زہرا
آج کل سوشل میڈیا پر فوج کی مخالفت میں ایک خط بہت وائرل کیا جا رہا ہے, اس خط کے مندرجات کے تحت یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ پاک فوج حکومت کی زمینوں پر قبضہ کر رہی ہے۔ یہ الزام حقائق کے یکسر منافی ہے, پاکستان دشمن نے تخریبی سوچ کے مطابق ایک مرتبہ پھر زہرخند شوشہ چھوڑا ہے, دراصل جس زمین کا ذکر کیا جا رہا ہے, اس زمین کا بیشتر حصہ بنجر ہے, جسے حکومت پنجاب قابل کاشت بنانے کے لئے عارضی طور پر فوج کو دے گی, یعنی اس زمین پر قبضہ اور ملکیت حکومت پنجاب کی ہی رہے گی۔ اب سوال یہ ہے کہ
ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟دراصل ناقص زمینی اصلاحات،غیر موثر زرعی پالیسیوں، موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی آبادی کے سبب پاکستان میں کاشتکاری کا شعبہ بہت متاثر ہوا ہے, 1960 میں پاکستان کی شرح نمو 4 فیصد تھی ، جبکہ 2022 میں کم ہو کر محض 2.5 فیصد تک آگئی ہے, یہ صورتحال ملک کی مسلسل بڑھتی آبادی کے مطابق نہیں ہے, دوسری جانب پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ملک کا 760 لاکھ ایکڑعلاقہ قابل کاشت ہے جس کا تقریبا 27فیصد (202 لاکھ ایکڑ) کاشت نہیں کیا جاتا, یہ صورتحال غیرتسلی بخش ہے, زراعت کے شعبہ میں جدید طریقہ کار اور سہولیات کے فقدان کی وجہ سے، ناصرف بنجر زمینوں کو کاشت نہیں کر پایا بلکہ زرعی زمینوں سے پیداوار کے معاملے میں دن بدن تنزلی کا شکار ہے,جہاں دنیا ایک ایکڑ زمین سے چاول اور گندم کی پیداوار تقریبا 75 سے 120 من حاصل کرتی ہے وہاں پاکستان میں کسان صرف 35 سے 40 من ہی حاصل کر پاتا ہے,پاکستان کی زرعی تنزلی نہ صرف معیشت پر ایک بوجھ ہے بلکہ مستقبل قریب میں پاکستان میں شدید غذائی قلت پیدا ہونے کے خدشہ ہے۔ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت پنجاب نے پاک فوج کی مدد سے زراعت کے شعبے کی بحالی کا منصوبہ بنایا ہے۔جس کے تحت حکومت پنجاب کی بنجر زمینوں کو قابل کاشت اور کم پیداوار والی زمینوں کی پیداوار کو بڑھایا جائے گا جبکہ پاک فوج کا عمل دخل صرف مربوط انتظامی ڈھانچے کی فراہمی ہوگا, اس منصوبے کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے, پہلے حصے میں دالیں، باجرہ اور چاول کی کاشت ہوگی, بعدازاں بڑے پیمانے پر کینولا اور گندم کاشت کی جائے گی۔فصل سے پیدا ہونے والی آمدن کا40 فیصد حکومت پنجاب کو جائے گا، 20 فیصد زراعت کے شعبہ میں جدید ریسرچ اور ڈویلپمنٹ پر خرچ کیا جائے گا,اور باقی کا چالیس فیصد اگلی فصل اور منصوبے کی توسیع کے لیے استعمال کیا جائے گا۔فصلوں کی کاشت کے علاوہ تمام زرعی زمینوں پر کثیر پیمانے پر درخت بھی لگائے جائیں گے جو کہ ماحولیات میں بھی مثبت کردار ادا کریں گے۔اس منصوبے سے صوبائی حکومت کو چند ہی مہینوں میں اربوں کی آمدن متوقع ہے-مثلا اگر 1ایکڑ زمین سے 30 من گندم پیدا کی جانے لگے،تو 1 لاکھ ایکڑ سے 30 لاکھ من گندم پیدا ہوگی اور 3800 روپے من کے حساب سے تقریبا 11.4 ارب روپے کے آمدن ہوگی جس سy پاکستان کی معیشت کو ہی نہیں بلکہ
بلکہ زراعت اور ہمارے کسانوں کا معاشی پہیہ تیزی سے چلنے لگے گا۔
یاد رہے پاک فوج اس منصوبے میں اپنا کردار وطن کی خدمت کے تحت کر رہی ہے, پاک فوج نہ زمین پر اپنا تسلط جمائے گی نہ حکومت سے کسی قسم کا کوئی معاوضہ لے گی, درحقیقت
غذائی قلت کے چیلنج سے نبرد آزما ہونے کیلئے بنجر زمین کو قابل کاشت بنانا۔
زراعت کے شعبے کی بحالی اور مقامی گاؤں، کسانوں اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے ذرائع معاش کا بندوبست کرنا
زراعت کے شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کیلئے زرِمبادلہ کو یقینی بنانا, جدید زرعی طریقہ کار اور کوآپریٹو کارپوریٹ فارمنگ ماڈل کو متعارف کرانا
جدیدزرعی سہولیات کا مقامی علاقے میں موجود ہونے سے چھوٹے کاشتکاروں کا بے پناہ فائدہ ہو گا
پاکستان کی زرعی درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ کرنا بہت ضروری ہے
اس منصوبے میں شامل زمین کا اہم حصہ ریسرچ کے لیے مختص کیا جائے گا جس پر پاکستان کے زرعی ریسرچ انسٹیٹیوٹس کے ساتھ مل کر ریسرچ کی جائے گی-محض اتنی سی بات پر چائے کی پیالی میں طوفان بپا ہے, پاک فوج نے ہمیشہ مادر وطن کی بہتری کے لئے اپنی بساط اور بجٹ سے بڑھ کر کام کیا ہے, ملک دشمن عناصر کے پیروکار کتنا ہی پاکستان کی ترقی میں روکاٹیں کھڑی کرلیں پاک فوج وطن عزیز کی خدمت میں ہراول دستے کی طرح متحرک رہے گی انشا الله