لاہور(مسائل نیوز) پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اسپیکر نے اعتماد کے ووٹ اور رن آف سے بچنے کے لیے یہ استعفے قبول کیے۔انہوں نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کے ہاتھ پاؤں پھول چکے ہیں، 35 ممبران کو الیکشن کمیشن نے ملی بھگت سے ڈی نوٹیفائی کیا جب کہ اعتماد کے ووٹ اور رن آف سے بچنے کے لیے یہ استعفے قبول ہوئے۔
شاہ محمود نے کہا کہ آج پوری قوم نے حکومت کی کانپیں ٹانگتی دیکھیں۔ہم پاکٹ یونین اپوزیشن لیڈر کو بے نقاب کرنا چاہتے تھے۔ہم حقیقی اپوزیشن لیڈر لے کر آنا چاہتے تھے۔ہمیں کہا گیا کہ عدالتی فیصلے کی بنیاد پر استعفے قبول نہیں ہو سکتے۔اگر ڈی نوٹیفائی کرنا ہے تو سب کو کریں۔الیکشن کمیشن لوگوں کی نظروں میں کتنا گرے گا۔
قبل ازیں تحریک انصاف کے 35اراکین کو ڈی نوٹیفائی کرنے پر اپنے رد عمل اور زمان پارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استعفے قبول کرنے ہیں تو سارے کریں سلیکشن کیوں ، قوم دیکھ رہی ہے یہ لوگوں کی نظروں میں گرتے جا رہے ہیں، کب تک بھاگو گی حکومت کے فیصلے پر تبادلہ خیال کے بعد آگے بڑھیں گے، الیکشن کمیشن لوگوں کی نظروں میں اور کتنا گرے گا، سپیکر صاحب اپنے کہے سے پھر گئے یہ مذاق اور ناٹک ہے، ان کو گھبراہٹ اس لیے ہے یہ لوگ عوام کا سامنا نہیں کرسکتے۔
- Advertisement -
انہوں نے کہا کہ سپیکر صاحب آپ نے استعفے قبول کرنے ہیں تو 125 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کریں، سپیکر کے دہرے معیار کی وجہ سے ہم نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی، اس حکومت کو معیشت اور غریب آدمی کا کوئی احساس نہیں، یہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے سب کچھ کرنے کو تیار ہے، آج ملک کی صنعتیں بند اور ہر طرف افراتفری ہے۔سلیکٹو 35 حلقوں کو چن کر ڈی نوٹیفائی کرنا دہرا معیار ہے، سب جانتے ہیں کن مقاصد کیلئے یہ فیصلے کیے جا رہے ہیں۔