یوریا کھاد افغانستان سمگل ہورہی ہے‘ اسد بلوچ
کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل صوبائی وزیر زراعت میر اسد اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے 80 فیصد عوام کا ذریعہ معاش زراعت سے جڑا ہوا ہے۔ ہماری کوشش ہے زمینداروں کو سہولیات فراہم کریںملک بھر میں یوریا کھاد کی کمی کا سامنا ہے
جس طرح نصیر آباد ڈویڑن کے عوام کا انحصار مکمل طور پر زراعت سے وابستہ ہے۔ نصیر آباد کے عوام کو یوریا کھاد کی اس وقت ربیع کی فصل کے دوران اشد ضرورت ہے۔ یوریا کھاد افغانستان سمگل ہورہی ہے۔ افغانستان اسمگل ہونے والی یوریا کھاد کی اسمگلنگ روکی جائے۔
- Advertisement -
آئی جی ایف، کسٹم حکام اور دیگر اداروں سمیت سرحدی علاقوں میں انتظامی آفیسران، متعلقہ ڈپٹی کمشنر غیر قانونی طور پر ہمسایہ ملک افغانستان جانے والی یوریا کھاد کو روکے تاکہ بلوچستان کے زمینداروں کی ضرورت کو پورا کیا جاسکے ‘ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنے دفتر میں سیکرٹری زراعت امید علی کے ہمراہ پریس کانفرنس
کے دوران کیا انہوںنے کہاکہ بلوچستان کے کسانوں کو صوبے کی ضرورت کے مطابق یوریا کھاد فراہم نہیں کی جارہی اس وقت ہماری ضرورت 1 لاکھ 8 ہزار 168 ٹن ہے۔ جبکہ ہمیں 51 ہزار 502 ٹن کھاد مہیا کی گئی ہے۔ 56 ہزار 666 ٹن کی کمی کا سامنا ہے۔