MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

شراب بھی منشیات ہی ہے

0 537

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر،دانش مینگل

ہمارے ہاں شراب نوشی کو فخر کی نظر سے دیکھا اور استعمال کیاجاتا ہے جیسے کہ معصوم بچے کی ہاتھ میں شراب کی بوتل شراب نہیں بلکہ عام کولڈرنک کی بوتل ہو بدقسمتی سے شراب کو منشیات سے انحراف کیا جاتا ہے مانو شراب منشیات میں آتا ہی نہیں

- Advertisement -

ہر نشہ آور چیز منشیات اور حرام ہے
نشہ آور چیزوں میں سب سے پہلا درجہ شراب کا ہے
اسلام نے بڑی تاکید کے ساتھ منشیات اور شراب نوشی سے روکا اور اس کے استعمال سے سختی سے منع کیا ہے شراب نوشی یا منشیات کا استعمال انسان کے لئے دین ودنیا دونوں  اعتبار سے بہت ہی نقصان دہ ہیں
موجودہ دور میں جن چند چیزوں نے معاشرت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اس میں منشیات کی لعنت سرفہرست ہے
دنیا میں آنے کے بعد اگر انسان ایسی چیزیں استعمال کرنا شروع کر دے جس سے اس کی عقل متاثر ہو، سوچنے، سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جائے، اس میں قوت بہیمیہ کا غلبہ ہو جائے تو انسانی پیدائش کا اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے پھر اس کی مثال جانور کی طرح ہوجاتی ہے جس میں عقل وتدبر کی صلاحیتیں مفقود ہوتی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کے اس کے شرف سے مشرف رکھنے کے لیے ایسی تمام چیزوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے جو اس کے مقصدتخلیق کے مخالف ہوں اس میں ایک چیز”منشیات”ہے منشیات انسانی معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے منشیات اس وقت عالمی سطح پر ایک گھمبیر مسئلہ بن چکا ہے دنیا کے تمام ممالک اور قومیں اس خوفناک اژدھے سے پریشان ہیں جو انسان کی صلاحیتوں کو اگلتا جا رہا ہے موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں منشیات کو انسانی معاشرے کی کمزوری بنا دیا گیا ہے اس کے جسمانی وذہنی نقصانات سے قطع نظر اس کا استعمال قدیم زمانہ سے مختلف شکلوں میں رہا ہے منشیات پر قابو پانے کے لیے اور انسانوں کو اس کے مضر صحت مادے کی آگاہی کے لیے بلامبالغہ بے شمار کتابیں، مقالے، سیمینار، کانفرنس،نشستیں منعقد کی گئی ہیں،مگر یہ بیماری ہے کہ مسلسل بڑھتی ہی چلی جارہی ہے معاشرے میں منشیات کے اثرات سے معاشرہ کا ہر طبقہ پریشان ہے ماں باپ اپنی اولاد سے حکومت اپنے سرکاری ملازمین سے پریشان ہے جو نشہ کر کے ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے خاندان نوجوانوں سے پریشان ہیں جو گھروں میں بیوی بچوں کی ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل اور اہل نہیں یوں معاشرے کی ہر اینٹ اپنی جگہ سے اکھڑ رہی ہے
منشیات کے مضر اثرات کا ایک پہلو مالی نقصان بھی ہے، اس کی وجہ سے امت کی معاشی اور اقتصادی حالت خراب ہوتی چلی جاتی ہے بعض نشہ آور چیزیں مثلا ہیروئن ایک کروڑ روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوتی ہے منشیات کے سوداگر اپنے کاروبار کو عروج دینے کے لیے نوجوانوں کو اس لت میں مبتلا کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی سے کام کرتے ہیں اس کے نتیجے میں نشہ پیدا کرنے والی گولیاں ، کیپسول، سفوف، سیرپ، پڑیا، انجکشن، پیٹرول، صمد بونڈ تیزی سے عام ہو رہے ہیں اور انہیں کم قیمت میں دستیاب کرایا جارہا ہے، تاکہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے افراد جو ایسے کاروباریوں کا اصل ٹارگٹ ہیں، بآسانی ان اشیاء کو حاصل کر سکیں یہ منشیات اگرچہ کم قیمت ہوتی ہیں، مگر اسی کے ذریعے عوام کو پھانس کر ان کا کل اثاثہ ہتھیا لیا جاتا ہے
شروع میں انسان اپنے اختیار سے اس لت میں پڑتا ہے، مگر ایسا چسکا لگتا ہے گویا وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اپنے نشہ کے حصول کے لیے گھر کا سامان، جائیداد تک بیچ ڈالتا ہے آخر میں کاسہ گدائی لے کر در در بھیک مانگتا ہے، چوریاں کرتا ہے، اپنے اعضاء دل، گردہ اور خون تک بیچنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اس وقت دنیا کا مہنگا ترین کاروبار منشیات کا ہے اس کے ذریعے امت کے جوانوں کو کھوکھلا اور ان کی جائیداد لوٹی جارہی ہے،نوجوانوں کو کسی قابل نہیں چھوڑا جارہا گویا ایک تیر سے دو شکار کیے جا رہے ہیں
اب ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم اپنے معاشرہ کو منشیات کی لعنت سے پاک کریں، اس کے نقصانات کو لوگوں کے سامنے صاف انداز میں  پیش کریں، نوجوانوں  کو بچائیں اور تباہی کے دلدل میں پھنسنے سے ان کو روکیں، اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں کیونکہ آج کل ہمارے بچے جہاں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے جاتے ہیں یہ لعنت اب انہیں وہاں بھی جکڑنے لگا ہے یہ دور بہت نازک ہے اس لیئے بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے جو ہم اکثر غافل رہتے ہیں جسکا فائدہ اٹھاکر ایسے لوگ ہمارے بچوں میں اس لعنت کو عام کرنے میں جلدی کرتے ہیں لہزا بچوں کی صحبت اور دوستی کا جائزہ لیتے رہیں،  منشیات کی قبیل کی تمام چیزوں  سے سختی کے ساتھ روکیں اور دینی ودنیاوی، ظاہری وباطنی،  روحانی وجسمانی نقصانات اور خطرات سے آگاہ کرتے رہیں

اور آخر میں اپنے ان تمام زمہداران ان تمام عوامی نمائندگان سے دست بدستہ گزارش ہیکہ شراب خانہ منتقلی پر عملی اقدامات اٹھاکر کسی ایسے جگہ منتقل کروائیں جہاں معصوم بچوں نوجوانوں کی پہنچ سے دور ہو

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.