پاکستان مخالف قوتوں کی کارفرمائیاں
تحریر: جاوید صدیقی
حالیہ دنوں میں ہم پر بلوچستان اور ایکس فاٹا جو اب کے پی کے کا حصہ ھے میں جو حملے ہوئے ہیں، ان میں دو تین ایلیمنٹس نئے دیکھنے کو ملے ہیں جو پریشان کن ہیں۔ ان میں ایک تو دہشت گردوں کے پاس پہلے سے جدید ہتھیاروں کی موجودگی اور دوسرا یہ کہ دہشت گرد کاروائیوں کی وڈیو گرافی’ معزز قارئین ۔۔۔!! امریکی افواج جب عجلت میں افغانستان سے فرار ہوئی، تو اس وقت انہوں نے اپنے بہت سے ہتھیار تلف کردیئے مگر جلدی میں بہت سے ہتھیار پیچھے رہ جانے کا امکان بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ھے۔ دوسرا یہ کہ امریکی افواج میں بدعنوانی اور کرپشن بہت زیادہ ہے تو یہ بھی خارج از امکان نہیں کیا جاسکتا کہ بہت سا اسلحہ بلیک مارکیٹ میں فروخت کردیا گیا ہو۔ تیسرا یہ بھی ممکن ہے کہ سوچی سمجھی پالیسی کے تحت بعض گروہوں، گروپوں اور ٹولیوں کو ہتھیار مہیا کئے گئے ہوں۔
چوتھا یہ کہ افغان افواج کو بھی دے کر چلے گئے ھوں، جو کہ دنیا کی کرپٹ ترین افغان افواج تھی، یاد رہے امریکیوں نے انہیں جدید ترین اسلحے سے لیس کر رکھا تھا۔ طالبان کے سامنے سرنڈر کرنے سے پہلے ان کے سینکڑوں کمانڈروں نے جانے کتنے ہتھیار خورد برد کئے ہونگے۔ نتیجہ یہ کہ اس وقت بلیک مارکیٹ میں جدید ترین ہتھیار نہایت کم نرخوں پر دستیاب ہیں۔افغان افواج کی اسالٹ رائفل جو پہلے آٹھ دس لاکھ کی تھی اب چار پانچ لاکھ میں بک رہی ہیں۔ ٹی ٹی پی نے قبائلی علاقوں میں پاک افواج پر حالیہ حملوں میں جدید ترین اسنائپر رائفلز کا استعمال کیا ہے۔ یہ ایک نیا ایلیمنٹ ہے۔ خودکش حملوں کی بجائے ٹارگٹ کلنگ ایک مؤثر حکمت عملی ہے۔ اس طرح کولیٹرل ڈیمج کم سے کم رکھ کر وہ ظاہر کررہے ہیں
کہ ان کی عوام سے کوئی جنگ نہیں۔ دوسرا یہ کہ کھلے حملے سے پہلے اہم پوزیشنز مثلاً ریکی اور مشین گنز پر تعینات سپاہیوں کو وہ اسنائپر کے ذریعے رستے سے ہٹا کر ہمارے فوجی جوانوں کی فوری جوابی کاروائی کی صلاحیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ تیسرا یہ کہ اس حکمت عملی سے ان کے اپنے جانی نقصان کا اندیشہ بھی کم سے کم رہ جاتا ہے۔ چوتھا یہ کہ ان کے تین چار اہم کمانڈرز کو افغانستان میں اسنائپرز ہی نے کیفر کردار تک پہنچایا تو وہ بتانا چاہ رہے کہ وہ اینٹ کاجواب پتھر سے دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انکی اس حکمت عملی کے مقابلے میں ہماری کچھ کمزوریاں بھی عیاں ہوئیں ہیں۔
ایک فوری اور بروقت کمک پہنچانے میں ناکامی۔ دوسرا یہ کہ ہیومنٹ یا انسانی ذہانت کا فقدان اور تیسرا یہ کہ جدید ترین نائٹ وژن سے لیس اسنائپر رائفلز کی کمی شامل رہیں۔۔۔ معزز قارئین!! پاک افواج کے پاس جو اسنائپر رائفلز ہیں ان کی زیادہ سے زیادہ ایفیکٹو رینج ہزار میٹر ہے جبکہ جو ٹیلی اسکوپ درآمد کی جاتی ہیں وہ نائٹ وژن کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ دوسرا یہ کہ ہماری اسنائپرز بنیادی طور پر یوں سمجھیں کہ جی تھری ہی کی امپرووڈ شکل ہیں۔ جی تھری، خصوصاََ پرانی یعنی اخروٹ کی لکڑی کے بٹ اور فور آرم والی،دنیا کی بہترین اسالٹ رائفلز میں سے ایک ہے۔ پلاسٹک کے بٹ اور فور آرم سے گرپ پہ تھوڑا فرق پڑتا ہے ورنہ جی تھری اے تھری بھی کارکردگی میں اتنی ہی موثر ہے
- Advertisement -
مگر بات یہ ہے کہ آپ کی سیڈان بھلے مرسیڈیز ہو یا فیراری، اسکی چھت اونچی کرنے یا وڈے والے ٹائر لگا دینے سے وہ ایس یو وی نہیں بن جاتی۔ بالکل اسی طرح جی تھری پہ اوپر ٹیلی اسکوپ اور نیچے بائی پاڈ لگادینے سے وہ اسنائپر نہیں بنتی۔ جو اسنائپر امریکی میرینز کے زیر استعمال ہے، اس کی ایفیکٹو رینج ڈھائی سے تین کلومیٹر ہے اور اگر وہی اب ٹی ٹی پی والے استعمال کررہے ہیں تو یہ بہت ان فئیر ایڈوانٹیج ہے جو انہیں حاصل ہوگیا ہے۔ مطلب ہمارا او پی پہ تعینات جوان اگر دور گھات لگائے دشمن کو اسنائپر کیساتھ ٹیلی اسکوپ میں دیکھ بھی لیتا ہے تو جہاں تک اس کی نظر جارہی ہے وہاں تک اس کی گولی نہیں پہنچے گی۔ ہمیں رشیا یا آسٹریا سے جدید ترین نائٹ وژن سے لیس اسنائپرز خرید کر اپنی فارورڈ پوسٹوں پر تعینات سپاہیوں کو دینی پڑیں گی۔
روس نے پچھلے سال جو اسنائپر ڈی ایکس ایل فائیو متعارف کروائی ہے، جسے عرف عام میں تباہی کہا جاتا ہے، وہ ساڑھے سات کلومیٹر تک مار کرتی ہے۔ مطلب آپ فیض آباد فلائی اوور پہ کھڑے ہوں تو میں کھنہ پل سے آپ کو باآسانی نشانہ بنا سکتا ہوں۔۔۔۔ اب آجائیں ہیومنٹ کی جانب۔۔۔۔ جن دنوں امریکا ڈرون حملے کرتا تھا۔ ان دنوں قبائلی علاقوں میں جاسوس اور مخبروں کی کارکردگی بہت شاندار تھی۔ ہائی ویلیو ٹارگٹس کو تلاش کرنا، انکی نقل و حمل کی خبر رکھنا، انکی گاڑیوں یا گھروں پہ چپس کی تنصیب لگانا۔ یہ سب کام بخوبی ہونے کی وجہ سے ہی ڈرون حملے موثر ثابت ہوتے تھے۔
میں سمجھتا تھا کہ جاسوسی کا یہ جال ہمارا بچھایا ہوا تھا لیکن اب لگتا ہے کہ یہ سب امریکیوں کا کمال تھا۔ جنرل فیض حمید نے افغانستان میں کچھ اچھی گیمیں کھیلی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے دونوں ہی نے اپنی اپنی تمام حالیہ کاروائیوں کی وڈیوز نشر کی ہیں۔ اس سے جہاں ان کے اعتماد اور منصوبہ بندی کی صلاحیتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ وہیں پر ہمارے کچھ قدردان ہمسایوں کی مہربانیاں بھی عیاں ہورہی ہیں۔ بلوچستان اور فاٹا موجودہ کے پی کے اور ان کے ملحقہ افغان علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ دستیاب نہیں ہے۔ بی ایل اے کی تمام سوشل میڈیا ٹیم ایران میں بیٹھی ہوئی ہے۔ وہیں سے وہ اپنی پروپیگنڈہ مہم چلارہے ہیں اور وہیں سے وڈیو نشر کر رہے ہیں۔ ایسی وڈیوز بھی جاری ہوئی ہیں
جن میں سیستان کے سرکاری اسکولوں میں ڈاکٹر اللہ نذر اور اس کی بی ایل ایف کے ترانے گائے جارہے ہیں یعنی ایرانی بلوچ بیلٹ میں انہیں ویسی ہی مقبولیت حاصل ہے جیسی پی ٹی ایم کو پشتون افغانستان میں اور دونوں جگہ یہ پڑوسی حکومتی سرپرستی یا تعاون کے بغیر ممکن نہیں ھوسکتا ھے۔ ہمارے دفتر خارجہ نے تو تمام ملبہ افغانستان پہ ڈال دیا۔ ایران کے بارے میں ایک لفظ کہنے کی ہمت اور توفیق نہ ہوئی۔ البتہ آئی ایس آئی اور آئی بی ان کاروائیوں کے بعد زبردست متحرک نظر آئی ہے۔ تیرہ کے قریب ایرانی ایجنٹس تین بڑے شہروں سے پکڑے گئے ہیں اور ان سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں کراچی سے ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے ایک گریڈ انیس کے آفیسر کی گرفتاری بھی ہوئی ہے۔
یہ وصال حیدر کاظمی صاحب مبینہ طور پر ان ایجنٹس میں ایران سے ملنے والےفنڈز تقسیم کرنے کے ذمہ دار تھے۔ اتفاق سے یا انٹیلیجنس شئیرنگ سے؟؟ جس دن کاظمی صاحب پکڑے گئے اس سے دو روز بعد ہی ترکی میں بھی درجن بھر ایرانی ایجنٹس گرفتار ہوئے ہیں۔ جو ترکی کے دورے پر آئے ہوئے ایک ارب پتی اسرائیلی بزنس مین کو ہلاک کرنا چاہتے تھے۔ ایران اپنے تمام ہمسایوں بلکہ ساری دنیا ہی کیلئے سر کے درد کا درجہ رکھتا ہے۔ ایران کے وزیر داخلہ واحدی پاسداران کے کمانڈر رہے ہیں اور امریکا کو مطلوب دہشت گردوں کی لسٹ میں شامل ہیں۔ کچھ دن پہلے ہی سعودی وزیرِ خارجہ پاکستان کا دورہ کرکے گئے ہیں اور غالباً اسی لئے ایرانی وزیر داخلہ واحدی بھاگم بھاگ پاکستان پہنچے۔
۔۔۔ معزز قارئین!! ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب پاکستانی تعصب لسانیات عصبیت قوم پرستی جیسے زہریلے معاشرتی ذہن اور مرض سے نکل کر ریاستِ پاکستان کی بقا کیلئے ہمارے درمیان چھپے غداروں کی نشاندہی کریں اور اپنی حساس ایجنسیوں کو مطلع کریں تاکہ دشمنانان وطن کے عزائم خاک میں مل سکیں۔ اس حب الوطنی کیلئے ہر ایک پاکستانی ایمانداری سچائی اور شجاعت کیساتھ فرض نبھائے۔ میری دعا اور میرا ایمان ھے کہ تا قیامت میری جنت میرا وطن پاکستان شاد و آباد رہیگا انشاء اللہ۔۔۔۔ پاک افواج آئی ایس آئی آئ بی زندہ باد پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔!!