MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

بارکھان میں زراعت اور اس کو در پیش مسائل 

0 666

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: اسلم کھیتران

- Advertisement -

کسان کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور علاقے کی ترقی میں ان کا کلیدی کردار ھے۔مگر ہمارے ہاں بدقسمتی سے زراعت پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی اگر بلوچستان کی بات کی جائے تو صوبے کے ذرائع معاش کا نصف سے زیادہ حصہ زراعت سے چلتا ھے اسی طرح اگر ضلع بارکھان کی بات کی جائے تو %75 فیصد سے ذیادہ آبادی زراعت کے شعبے سے منسلک ھے۔

ضلع بارکھان زراعت کے شعبے ،موسمی تغیرات اور گلہ بانی میں نمایاں حیثیت رکھتا ھے یہاں کی آب و ہوا انتہائی خوشگوار ھے اس علاقے میں مون سون کی سالانہ بارشوں کا تناسب 514.6 (ملی لیٹر ) ھوتا ھے جب بارشیں ھوں علاقے میں بہار کی رت آجاتی ھے ۔سر سبز و شاداب فصلوں کی بدولت نہ صرف علاقے کی خوبصورتی میں اضافہ ھو جاتا ھے بلکہ لوگوں کی خوشحالی اور گزر بسر کا دارومدار بھی اس پر منحصر ھے۔یہاں کے لوگوں کا ذرائع معاش زراعت اور گلہ بانی سے وابسطہ ھے اللہ نے اس علاقے کی زمین کو اتنا زرخیز بنایا ھے کہ ہر قسم کی فصلیں، پھل اور سبزیاں کاشت ھوتی ھیں۔
بارکھان کا اہم شعبہ ھونے کے باوجود یہ بری طرح سے نظر انداز ھو رھا ھے جسں کے نتیجے میں اس کو گوں ناں گوں مسائل کا سامنا ھے ۔ یوں تو درجنوں زرعی مسائل ھیں یہاں کے کسانوں کو ان میں سے چند ضروری مسائل کو میں زیر غور لاوں گا۔
1۔ زیر زمین پانی(واٹر ٹیبل) کا نیچے جانا :
کسی بھی زمین کو زرعی زمین میں منتقل کرنے کیلئے پانی کا ھونا لازم ھے۔ بارکھان میں دن گزرتے زیر زمین پانی نیچے ھوتا جا رھا ھے جو کہ پورے علاقے لئے خطرناک ھو سکتا ھے ۔ویسے تو عموما بلوچستان میں بارشیں بہت کم ہی ھوتی ھیں لیکن ضلع بارکھان مون سون رینج میں آتا ھے یہاں ریکارڈ بارشیں ھوتی ھیں اگر ان بارشوں کا پانی ہم اسٹور کریں تو ہم بارکھان کی زرعی پیداوار کو بڑھا سکتے ھیں ۔حکومت وقت کو چھوٹے بڑے ڈیموں پر توجہ دینی ھوگی۔ جو کہ اس علاقے کی انتہائی ضرورت ھے جس سے ہم یہاں کے واٹر ٹیبل کو اوپر لاسکتے ھیں اور یہاں کی ہزاروں ایکڑ زمیں کو زیر کاشت لایا جاسکتا ھے جس سے علاقے کے لوگوں کی زندگی بہتر ھو سکتی ھے۔
2۔غیر معیاری بیج کی فروخت:
کسی بھی فصل کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کیلئے صحت مند ، بیماری سے پاک کسی بھی اچھی کمپنی کا سرٹیفائڈ بیج استعمال کرنا انتہائی اہم ھے۔افسوس کے ساتھ ھمارے ضلع میں غیر معیاری بیج کو فروخت کیا جا تا ھے۔جس سے پیداوار میں کمی اور مختلف کیمیکلز کا استعمال کیا جاتا ھے جس سے کسان کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ھے اور زمیندار کی پیداوار میں واضح کمی آتی ھے۔یہاں کے کسانوں کو رجسٹرڈ اور معیاری بیج کی اہمیت کو سمجھنا ھو گا جس سے ان کی پورے سال کی محنت سے اچھی پیداوار حاصل ھو گی۔
3۔زرعی ادویات میں نان ٹیکنیکل لوگ :
بارکھان میں جتنی بھی زرعی دوکانیں ہیں اکثر ان میں نان ٹیکنیکل لوگوں کی ھیں۔ جو نہ تو زرعی گریجویٹ ھیں نہ ان کے پاس کوئی زراعت میں ڈپلومہ ھے نا کوئی مہارت رکھتے ھیں زراعت کے شعبے میں ۔زرعی ماہرین کے نہ ھونے سے کسان اپنی فصل میں کسی بھی بیماری کی بروقت شناخت نہیں کرسکتا اگر بیماری کا پتہ چل بھی جائے تو وہ بروقت اسپرے نہ کر کے بھی نقصان اٹھاتا ھے جس سے اس کے پورے سال کی محنت ضائع ھو جاتی ھے۔ بارکھان بلوچستان کا سرحدی ضلع ھے اس کی سرحد صوبہ پنجاب سے ملتی ھے یہاں زرعی ادویات پنجاب سے لائی جاتی ھیں ۔ پنجاب کی لوکل پیسٹی سائڈ کمپنیوں نے یہاں کے کسانوں کو یرغمال بنایا ھوا ھے جو کے خاص کر جام پور، ڈیرہ غازی خان اور ملتان سے ایکسپائر ادویات بھی یہاں فروخت کر جاتے ھیں جو کہ یہاں کے کسانوں کے ساتھ ظلم ھے ۔محکمہ زراعت کو ان کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے چاہیے تاکہ بارکھان کی زراعت کو بچایا جاسکے۔ 4۔کھادوں کا غلط استعمال :
گذشتہ کچھ سالوں سے ہمارے ہاں کھاد کے استعمال میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے تاہم موجود استعمال اب بھی ضرورت سے کافی ہے۔کھادوں کی مقدار تا تعین فصل کی ضرورت ،پیداواری ہدف اور زرخیزی زمین کے مطابق کرنا چاہیے۔کھادوں کے استعمال کی موثرحکمت عملی میں کھاد کی موزوں قسم کا انتخاب ،کھاد کی مناسب مقدار ،مناسب طریقہ اور موزوں وقت پر استعمال اہمیت کے حامل ہیں ۔منافع بخش پیداوار لینے کے لئے موزوں کھاد کا انتخاب کرتے وقت کھاد میں موجود خوراک کی اجزاء کی مقدار اور انکی قیمت کو بھی اہمیت دینی چاہئے
دیگر کاشتی اُمور میں بہتری لاکر بھی کھادوں کی افادیت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ان کاشتی اُمو رمیں زمین کی تیار ی ،بہتری پیداواری صلاحیت والی اقسام کا انتخاب ،صحت مند بیج ،مناسب گہرائی پر بیج کی بوائی ،بروقت کاشت ،پودوں کی فی ایکڑ مطلوبہ تعداد ،حسب ضرورت آبپاشی ،جڑی بوٹیوں کابروقت خاتمہ ،بیماریوں اور کیڑوں کا انسداد اور مناسب وقت پر برداشت وغیرہ ایسے عوامل ہیں جن کو کاشتکار عام حالات میں بہتر طریقہ سے سرانجام نہیں دیتا جس سے نہ صرف پیداوار بلکہ کھادوں کی افادیت بھی متاثر ہوتی ہے اس لئے ان عوامل پر خصوصی توجہ دے کر فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.