MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

یوکے جانا ہے تو پہلے یہ جان لیں! برطانیہ میں امیگریشن اور اسٹوڈنٹ ویزا قوانین میں بڑی تبدیلیاں

0 55

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

برطانیہ (مسائل نیوز)برطانیہ نے امیگریشن اور اسٹوڈنٹ ویزا پالیسیوں میں اہم اور سخت اصلاحات متعارف کراتے ہوئے انگریزی زبان کے معیار، تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کی مدت اور مالی اہلیت کے تقاضوں میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔

برطانوی ہوم آفس نے 14 اکتوبر کو پارلیمان میں یہ تجاویز پیش کیں جو منظوری کے بعد سنہ 2027 سے نافذ ہوں گی۔

نئے قانون کے مطابق برطانیہ آنے والے تمام تارکین وطن کو اب اے لیول کے مساوی انگریزی زبان کا امتحان لازمی طور پر پاس کرنا ہوگا جس میں بولنے، سننے، پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا جائے گا۔

یہ ٹیسٹ صرف ہوم آفس سے منظور شدہ ادارے ہی لے سکیں گے۔ برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ یہ اقدام اس یقین دہانی کے لیے ہے کہ یہاں آنے والے افراد معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ اگر آپ برطانیہ آتے ہیں تو آپ کو ہماری زبان سیکھنی ہوگی اور اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔

نئی پالیسی کے تحت غیر ملکی طلبہ کے لیے پوسٹ اسٹڈی ورک کی مدت دو سال سے کم کر کے 18 ماہ کر دی گئی ہے، جو یکم جنوری 2027 سے نافذ العمل ہوگی۔

ہوم آفس کے مطابق بیشتر غیر ملکی گریجویٹس اس مدت میں اپنے مضمون سے متعلق روزگار حاصل نہیں کر پاتے، اس لیے نئی پالیسی کا مقصد طلبہ کو برطانوی معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

اس کے علاوہ 2025-26کے تعلیمی سال سے غیر ملکی طلبہ کو برطانیہ میں قیام کے دوران اپنی مالی خودمختاری ثابت کرنے کے لیے زیادہ رقم دکھانا ہوگی۔

- Advertisement -

ہوم آفس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ غیر ملکی طلبہ مقامی وسائل پر انحصار نہ کریں اور اپنے اخراجات خود برداشت کر سکیں۔

ہنرمند غیر ملکی ملازمین کو بھرتی کرنے والے برطانوی آجرین پر بھی امیگریشن اسکلز چارج میں 32 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے سے حاصل ہونے والی رقم مقامی ورک فورس کی تربیت پر خرچ کی جائے گی تاکہ بیرونی افرادی قوت پر انحصار کم کیا جا سکے۔

برطانوی حکومت کی نئی امیگریشن وائٹ پیپر کے مطابق ہائی پوٹینشل انفرادی روٹ کو توسیع دے دی گئی ہے جس کے تحت دنیا کی 100 صفِ اول جامعات کے گریجویٹس کو برطانیہ میں کام کرنے کی اجازت ملے گی۔ اس اسکیم کے تحت سالانہ 8,000 درخواستوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ باصلاحیت طلبہ کو اسٹوڈنٹ ویزا سے انوویٹر فاؤنڈر روٹ میں منتقل ہو کر اسٹارٹ اپ قائم کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ گلوبل ٹیلنٹ روٹ میں بھی تحقیق، فلم سازی، آرکیٹیکچر اور ڈیزائن کے شعبوں میں آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔

اسی دوران برطانیہ نے 14 اکتوبر کی سہ پہر 3 بجے سے بوٹسوانا کے شہریوں پر ویزا کی نئی شرط بھی عائد کر دی ہے۔

ہوم آفس کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب بوٹسوانا سے آنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد نے پناہ کی درخواستیں دینا شروع کر دی تھیں جسے امیگریشن نظام کے غلط استعمال کے طور پر دیکھا گیا۔

یہ تمام اقدامات برطانوی حکومت کے اس نئے منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد ایک منظم، منتخب اور منصفانہ امیگریشن نظام قائم کرنا ہے جس کے ذریعے ہنرمند اور حقیقی افراد کو مواقع مل سکیں جبکہ نظام کے غلط استعمال کی گنجائش ختم ہو۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.